26/09/2026
موہے سپنا ماں درشن دکھائی گیو رے
مورے غوث الورىٰ، مورے غوث الورىٰ
مورے سوتے ماں بھاگ جگائی گیو رے
مورے غوث الورىٰ، مورے غوث الورىٰ
چشمِ بغداد کا جب لگا آنکھ پر
دیکھا طیبہ نگر، دیکھا طیبہ نگر
جانبِ مکہ جب بھی اٹھی ہے نظر
دیکھا طیبہ نگر، دیکھا طیبہ نگر
موہے من ما مدینہ بسائی گیو رے
مورے غوث الورىٰ، مورے غوث الورىٰ
غم کا بادل تھا اور میں پریشان تھا
مجھ کو بخشا سکون، مجھ کو بخشا سکون
ٹوٹی پتوار تھی اور میں حیران تھا
مجھ کو بخشا سکون، مجھ کو بخشا سکون
موری ڈوبتی نَیا ترائی گیو رے
مورے غوث الورىٰ، مورے غوث الورىٰ
غم کی ظلمت چھٹی، رات کالی کٹی
اور اجالا ہوا، اور اجالا ہوا
راستے سے مصیبت کی ظلمت ہٹی
اور اجالا ہوا، اور اجالا ہوا
مورے آشا کا دیپ جلائی گیو رے
مورے غوث الورىٰ، مورے غوث الورىٰ
لب پہ یا غوث! یا غوث! یا غوث! ہے
ہر نفس ہر قدم، ہر نفس ہر قدم
یہ عقیدت کی آوازِ بے لوث ہے
ہر نفس ہر قدم، ہر نفس ہر قدم
اہلِ سنت کا نعرہ سکھائی گیو رے
مورے غوث الورىٰ، مورے غوث الورىٰ
چاندنی مجھ کو اعجاز! پھیکی لگی
ایسے اچھے ہیں وہ، ایسے اچھے ہیں وہ
اور کرن مجھ کو سورج کی دھندلی لگی
ایسے اچھے ہیں وہ، ایسے اچھے ہیں وہ
کیسا نوری مکھڑوا دکھائی گیو رے
مورے غوث الورىٰ، مورے غوث الورىٰ
از قلم مولانا اعجاز کامٹوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ