Lovers of Mufti Shabir Ah Qasmi

Lovers of Mufti Shabir Ah Qasmi like and follow the page to see latest bayans of ulama e haq ulama e deoband

04/08/2019

Abusing a Muslim is an evil doing and killing him is disbelief (kufr)
/Al-Bukhari/
مسلمان کو گالی دینا گناہ کی بات ہے اور اسکے ساتھ ہتھیاروں سے لڑنا کفر کی بات ہے

04/08/2019

*خاتم النبیین ﷺ کورس*

*سبق نمبر:9*

*قادیانیت*

*(6)مرزا قادیانی کے فرشتے*
ابوالبشر سیدنا حضرت آدم علیہ السلام سے سیدا لبشر سیدنا حضرت محمد مصطفی ﷺ تک سبھی انبیاء کرام علیھم السلام پر وحی لانے کا فریضہ انجام دینے والے ’’فرشتے‘‘ ہیں اسی لئے نبوت کے جتنے جھوٹے دعویدار ہوئے ہیں ان سب نے بھی یہی دعوی کیا ہے کہ ہماری طرف بھی فرشتے ہی وحی لاتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے بھی یہی دعویٰ کیا کہ مجھ پر فرشتوں کے ذریعے وحی آتی ہے لیکن متنبی قادیان پر وحی لانے والے فرشتے سب سے جدا ہیں مرزا قادیانی پروحی لانے والے سب سے جدا ہیں مرزا قادیانی پر وحی لانے والے فرشتوں میں سے چند کی فہرست مندرجہ ذیل ہے پڑھئے اور سر دھنئے۔
ٹیچی ٹیچی فرشتہ:
۵ مارچ ۱۹۰۵ کو خواب میں ایک فرشتہ دیکھا جس نے اپنا نام ٹیچی ٹیچی بتایا (خزائن جلد 22 ص 346)
درشنی فرشتہ:
ایک فرشتہ میں نے بیس برس کے نوجوان کی شکل میں دیکھا صورت اس کی مثل انگریزوں کی تھی اورمیز کرسی لگائے ہوئے بیٹھا تھا میں نے اس سے کہا آپ بہت ہی خوب صورت ہیں اس نے کہا ہاں میں درشنی ہوں۔ (ملفوظات ج 4ص 69 )
خیراتی فرشتہ:
تین فرشتے آسمان سے آئے ایک کا نام خیراتی تھا (تذکرہ ص 23 طبع چہارم)
مٹھن لال فرشتہ:
ایک شخص خواب میں مٹھن لال نامی دیکھا گیا ہے مٹھن لال سے مراد ایک فرشتہ ہے۔ (تذکرہ ص 474 طبع چہارم)
شیر علی فرشتہ:
میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ ایک شخص جو مجھے فرشتہ معلوم ہوتا ہے مگر خواب میں محسوس ہوا کہ اس کا نام شیر علی ہے۔ (تذکرہ ص 24طبع چہارم)
حفیظ فرشتہ:
ایک فرشتہ مجھے خواب میں ملا جو چھوٹے لڑکے کی شکل میں تھا میں نے پوچھا تمہارا نام کیا ہے ؟ وہ کہنے لگا میرا نام حفیظ ہے ۔ (تذکرہ ص 643طبع چہارم)
کسی نے صحیح کہا ہے جیسی روح ویسے فرشتے یعنی جیسا نبی ویسے فرشتے۔

*(7)مرزا قادیانی کے کشوف والہامات*
انبیائے کرام علیہم السلام کا کلام فصاحت و بلاغت کامرقع ہوتا ہے جس سے حکمت و دانائی اور معرفت الہی کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اسی طرح حضرات انبیاء کرام علیہم السلام جس قوم میں تشریف لاتے ہیں اُن پر اسی قوم کی زبان میں وحی نازل ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے ’’وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لبین لھم‘‘ ترجمہ: ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان کے ساتھ تاکہ وحی اُن کے لیے خوب واضح ہوسکے۔ مرزا قادیانی بھی یہی بات لکھتا ہے کہ:۔یہ بالکل غیر معقول اور بے ہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی اور ہواور الہام کسی اور زبان میں ہو۔ (خزائن ج ۲۳ ص۲۱۸) لیکن اس کے برعکس مرزا قادیانی کو کئی زبانوں میں وحی ہوتی تھی اور پھر اس انگلستانی نبی کے الہامات و کشوف ایسے ہیں جنہیں پڑھ کر کبھی متلی آنے لگتی ہے اور کبھی اس کی فاتر العقلی و بے ہودگی پر ہنسی ! یوں تو مرزا قادیانی کے الہامات کو بیان کرنے کے لیے کئی دفتر درکار ہیں۔ بطور نمونہ چند مختلف زبانوں کے الہامات پیش خدمت ہیں
عربی:
فحان ان تعان و تعرف بین الناس (تذکرہ ص ۵۴۸ طبع چہارم)
عبرانی:
ایلی ایلی لما سبقتنی ایلی اوس (البشری جلد اول ص ۲۶)
پنجابی:
الہام ہوا۔ پٹی پُٹیگئی (تذکرہ ص ۶۸۱ طبع چہارم) واﷲ واﷲ! سیدھا ہویا اولَّا (تذکرہ ص 631 طبع چہارم)
فارسی:
الہام ہوا سلامت بر تو اے مرد سلامت (تذکرہ ص ۶۳۸ طبع چہارم)
ہندی:
الہام ہوا ہے کرشن جی رودزگوپال (اخبار البدر۲۹اکتوبر ۱۹۰۳)
انگریزی:
الہام ہوا I Love you, I am with you (تذکرہ ص ۹۲ طبع چہارم)
عربی، انگلش اردو ملا جلا الہام:۔
فتا برک من علم وتعلم خدا کی فیلنگ اور خدا کی مہر نے کتنا بڑا کام کیا۔(خزائن ج ۲۲ ص ۹۹)
بے معنی الہامات:
اس کے علاوہ مرزا قادیانی کو بے معنی الہامات بھی ہوئے جن کی سمجھ مرزا قادیانی کو بھی نہ ہو سکی چند نمونے ملاحظہ کیجئے۔
الہام میں شیشی دکھائی گئی اس پرلکھا تھا ’’ خاکسار پیپر منٹ‘‘ (الحکم قادیان ۲۴ فروری ۱۹۰۵)

الہام ہوا ھو شعنا نعسا (تذکرہ ص91 طبع چہارم)

پریشن عمر پرا طوس پلا طوس (تذکرہ ص 91 طبع چہارم)

غثم غُثم غُثم (تذکرہ ص طبع چہارم)

ایک دانہ کس کس نے کھانا (البشری ج 2ص 107)

خواب میں دکھائے گئے (ا)تین استرے (۲) عطر کی شیشی (تذکرہ ص 774طبع سوم)

پیٹ پھٹ گیا (دن کے وقت کا الہام ہے) (تذکرہ ص 568 طبع چہارم)

ہیضہ کی آمدن ہونے والی ہے (تذکرہ ص ۶۱۴ طبع چہارم)

ایلی اوس (تذکرہ ص ۷۱ طبع چہارم)

الہام ہوا ’’خطرناک‘‘ (تذکرہ ص ۷۶۲ طبع چہارم)
*جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔*

03/08/2019

*خاتم النبیین ﷺ کورس*

*سبق نمبر:2*

*ختم نبوت*

*(3)عقید ختم نبوت قرآنی آیات کی روشنی میں*

”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شئی علیما۔“ (سورۂ احزاب:40)
ترجمہ: ”محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہے اورا للہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو منصبِ نبوت پر فائز نہیں کیا جائیگا۔
خاتم النبیین کی نبوی تفسیر
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں۔“(ابوداؤد، ترمذی)اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ ”خاتم النبیین“ کی تفسیر ”لانبی بعدی“ کے ساتھ خود فرمادی ہے۔اسی لئے حافظ ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت چند احادیث نقل کرنے کے بعد آٹھ سطر پر مشتمل ایک نہایت ایمان افروز ارشاد فرماتے ہیں۔ چند جملے آپ بھی پڑھ لیجئے۔ ”اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث متواتر کے ذریعہ خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تاکہ لوگوں کو معلوم رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جس نے بھی اس مقام (یعنی نبوت) کا دعویٰ کیا وہ بہت جھوٹا‘ بہت بڑا افترا پرداز‘ بڑا ہی مکار اور فریبی‘ خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہوگا‘ اگرچہ وہ خوارق عادات اور شعبدہ بازی دکھائے اور مختلف قسم کے جادو اور طلسماتی کرشموں کا مظاہرہ کرے۔“ (تفسیر ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ جلد3 صفحہ494)
خاتم النبیین کی تفسیر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے
حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم و تابعین رحمۃ اللہ علیہم کا مسئلہ ختم نبوت سے متعلق مؤقف کیلئے یہاں پر صرف دوصحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی آرأ مبارکہ درج کی جاتی ہیں۔ حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت کی تفسیر میں فرمایا”اور لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور خاتم النبیین یعنی آخرالنبیین ہیں۔“ (ابن جریر صفحہ 16جلد 22) حضرت حسن رحمۃ اللہ علیہ سے آیت خاتم النبیین کے بارہ میں یہ تفسیر نقل کی گئی ہے کہ”اللہ تعالیٰ نے تمام انبیأ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان رسولوں میں سے جو اللہ کی طرف سے مبعوث ہوئے آخری ٹھہرے۔“ (درّ منثور صفحہ204 جلد5)کیا اس جیسی صراحتوں کے بعد بھی کسی شک یا تاویل کی گنجائش ہے؟ اور بروزی یا ظلی کی تاویل چل سکتی ہے؟
خاتم النبیین اور اجماع امت
1) حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”بے شک امت نے بالاجماع اس لفظ (خاتم النبیین) سے یہ سمجھا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول، اور اس پر اجماع ہے کہ اس لفظ میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں اور اس کا منکر یقینااجماع امت کا منکر ہے۔“ (الاقتصاد فی الاعتقاد صفحہ 123)
2) علامہ سید محمود آلوسی تفسیر روح المعانی میں زیر آیت خاتم النبیین لکھتے ہیں:اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا ایسی حقیقت ہے جس پر قرآن ناطق ہے، احادیث نبویہ نے جس کو واشگاف طور پر بیان فرمایا ہے اور امت نے جس پر اجماع کیا ہے، پس جو شخص اس کے خلاف کا مدعی ہو اس کو کافر قرار دیا جائے گا اور اگر وہ اس پر اصرار کرے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔“ (روح المعانی ص 39 ج 22)
3) امام حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے ذیل میں اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں ”یہ آیت اس مسئلہ میں نص ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں تو رسول بدرجہ اولیٰ نہیں ہوسکتا، کیونکہ مقام نبوت مقام رسالت سے عام ہے۔ کیونکہ ہر رسول نبی ہوتا ہے اور ہر نبی رسول نہیں ہوتا او ر اس مسئلہ پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر احادیث وارد ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت سے مروی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر صفحہ493، جلد3)
4) امام قرطبی اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ”خاتم النبیین کے یہ الفاظ تمام قدیم و جدید علماء کے امت کے نزدیک کامل عموم پر ہیں۔ جو نص قطعی کے ساتھ تقاضا کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ (تفسیر قرطبی صفحہ196 جلد14) پس عقیدۂ ختم نبوت جس طرح قرآن کریم کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہے اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث متواترہ سے بھی ثابت ہے اور ہر دور میں امت کا اس پر اجماع و اتفاق چلا آیا ہے. سورۂ احزاب کی آیت 40 آیت خاتم النبیین کی تشریح و توضیح پہلے گزر چکی ہے، اب دوسری آیات ملاحظہ ہوں:
”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا“ (سورہ مائدہ: 3)
ترجمہ: ”آج میں پورا کرچکا تمہارے لئے دین تمہارا‘ اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا‘ اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین۔“
نوٹ:…… یوں تو ہر نبی اپنے اپنے زمانہ کے مطابق دینی احکام لاتے رہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل زمانہ کے حالات اور تقاضے تغیرپذیر تھے‘ اس لئے تمام نبی اپنے بعد آنے والے نبی کی خوشخبری دیتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کے اختتام سے دین پایہئ تکمیل کو پہنچ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور وحی پر ایمان لانا تمام نبیوں کی نبوتوں اور ان کی وحیوں پر ایمان لانے پر مشتمل ہے، اسی لئے اس کے بعد ”واتممت علیکم نعمتی“ فرمایا، علیکم یعنی نعمت نبوت کو میں نے تم پر تمام کردیا، لہٰذا دین کے اکمال اور نعمت نبوت کے اتمام کے بعد نہ تو کوئی نیا نبی آسکتا ہے اور نہ سلسلہئ وحی جاری رہ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ایک یہودی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ اے امیر المومنین: ”قرآن کی یہ آیت اگر ہم پر نازل ہوتی ہم اس دن کو عید مناتے“ (رواہ البخاری)،اور حضور علیہ السلام اس آیت کے نازل ہونے کے بعد اکیاسی(81) دن زندہ رہے (معارف صفحہ41 جلد3) اور اس کے نزول کے بعد کوئی حکم حلال و حرام نازل نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ کتاب کامل و مکمل،آخری کتاب ہے
”و ما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا ًو نذیراً۔“ (سورۂ سبا: 28)
ترجمہ: ”ہم نے تم کو تمام دنیا کے انسانوں کے لئے بشیر اور نذیر بناکر بھیجا ہے۔“
”قل یٰایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا۔“ (سورۂ اعراف: 158)
ترجمہ: ”فرمادیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔“
یہ دونوں آیتیں صاف اعلان کررہی ہیں کہ حضور علیہ السلام بغیر استثنأ تمام انسانوں کی طرف رسول ہوکر تشریف لائے ہیں جیسا کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”انا رسول من ادرکت حیا و من یولد بعدی۔“ترجمہ: ”میں اس کے لئے بھی اللہ کا رسول ہوں جس کو اس کی زندگی میں پالوں اور اس کے لئے بھی جو میرے بعد پیدا ہو۔“ (کنز العمال جلد11 صفحہ 404 حدیث 31885، خصائص کبریٰ صفحہ 88جلد 2)پس ان آیتوں سے واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا، قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی صاحب الزماں رسول ہیں۔ بالفرض اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث ہو تو حضور علیہ السلام کا فۃ الناسکی طرف اللہ تعالیٰ کے صاحب الزماں رسول نہیں ہوسکتے بلکہ براہ راست مستقل طور پر اسی نبی پر اور اس کی وحی پر ایمان لانا اور اس کو اپنی طرف اللہ کا بھیجا ہوا اعتقاد کرنا فرض ہوگا، ورنہ نجات ممکن نہیں اور حضور علیہ السلام کی نبوت اور وحی پر ایمان لانا اس کے ضمن میں داخل ہوگا۔ (معاذ اللہ)
”و ما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین۔“ (سورۂ انبیاء: 107)
ترجمہ: ”میں نے تم کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا ہے۔“
یعنی حضور علیہ السلام پر ایمان لانا تمام جہان والوں کو نجات کے لئے کافی ہے۔ پس اگر بالفرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو اس پر اور اس کی وحی پر ایمان فرض ہوگا، اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کامل رکھتے ہوئے بھی اس کی نبوت اور اس کی وحی پر ایمان نہ لاوے تو نجات نہ ہوگی اور یہ رحمۃ للعالمینی کے منافی ہے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مستقلاً ایمان لانا کافی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صاحب الزمان رسول نہیں رہے؟ (معاذ اللہ)
”و الذین یؤمنون بما انزل الیک و ما انزل من قبلک و بالآخرۃ ھم یوقنون۔ اولئک علی ھدی من ربھم و اولئک ھم المفلحون۔“(سورۂ بقرہ: 4،5)
ترجمہ: ”جو ایمان لاتے ہیں، اس وحی پر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی اور اس وحی پر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نازل کی گئی اور یومِ آخرت پر یقین رکھتے ہیں، یہی لوگ خدا کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“
”یٰایھا الذین آمنوا اٰمنوا باللہ و رسولہ و الکتاب الذی نزل
علی رسولہ و الکتاب الذی انزل من قبل۔“ (النسأ: 136) ترجمہ: ”اے ایمان والو! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اس کتاب پر جس کو اپنے رسول پر نازل کیا ہے اور ان کتابوں پر جو ان سے پہلے نازل کی گئیں۔“
یہ آیت بڑی وضاحت سے ثابت کررہی ہے کہ ہم کو صرف حضور علیہ السلام کی نبوت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء اور ان کی وحیوں پر ایمان لانے کا حکم ہے۔ اگر بالفرض حضور علیہ السلام کے بعد کوئی بعہدۂ نبوت مشرف کیا جاتا تو ضرور تھا کہ قرآن کریم اس کی نبوت اور وحی پر ایمان لانے کی بھی تاکید فرماتا، معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا۔
*جاری ہے۔۔*

150 years old house of Allama  Anwar Shah Kashmiri(ra) at Warnow, Lolab Kupwara :one of the great personalities of Kashm...
02/08/2019

150 years old house of Allama Anwar Shah Kashmiri(ra) at Warnow, Lolab Kupwara :one of the great personalities of Kashmir and the spiritual teacher of Allama Iqbal(ra)

02/08/2019

*خاتم النبیین ﷺ کورس*

*سبق نمبر:1*

*ختم نبوت*
*(1)عقیدہ ختم نبوت کی تعریف*
اسلام کی بنیاد توحید اور آخرت کے علاوہ جس اساسی عقیدے پر ہے، وہ یہ ہے کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر نبوت اور رسالت کے مقدس سلسلے کی تکمیل ہو گئی اور آپ کے بعد کوئی بھی شخص کسی بھی قسم کا نبی نہیں بن سکتا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد کسی پر وحی آ سکتی ہے اور نہ ایسا الہام جو دین میں حجت ہو۔ اسلام کا یہی عقیدہ ’’ختم نبوت‘‘ کے نام سے معروف ہے اور سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وقت سے لے کر آج تک پوری امت مسلمہ کسی ادنی اختلاف کے بغیر اس عقیدے کو جزوِ ایمان قرار دیتی آئی ہے۔ قرآن کریم کی بلا مبالغہ بیسیوں آیات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سینکڑوں احادیث اس کی شاہد ہیں۔ یہ مسئلہ قطعی طور پر مسلّم اور طے شدہ ہے اور اس موضوع پر بے شمار مُفصّل کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں۔

*(2)عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضلیت*
ختم نبوت کا عقیدہ ان اجماعی عقائد میں سے ہے، جو اسلام کے اصول اور ضروریات دین میں شمار کئے گئے ہیں، اور عہد نبوت سے لے کر اس وقت تک ہر مسلمان اس پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بلا کسی تاویل اور تخصیص کے خاتم النبیین ہیں۔ قرآن مجید کی ایک سو آیات کریمہ، رحمت عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی احادیث متواترہ (دو سو دس احادیث مبارکہ) سے یہ مسئلہ ثابت ہے، آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت کا سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر منعقد ہوا کہ مدعی نبوت کو قتل کیا جائے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ حیات میں اسلام کے تحفظ و دفاع کے لئے جتنی جنگیں لڑی گئیں، ان میں شہید ہونے والے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی کل تعداد 259 ہے اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ و دفاع کے لئے اسلام کی تاریخ میں پہلی جنگ جو سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں لڑی گئی، اس ایک جنگ میں شہید ہونے والے صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور تابعین رحمۃ اﷲ علیہ کی تعداد بارہ سو ہے جن میں سے سات سو قرآن مجید کے حافظ اور عالم تھے۔رحمت عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی کی کل کمائی اور گراں قدر اثاثہ حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں، جن کی بڑی تعداد اس عقیدہ کے تحفظ کے لئے جام شہادت نوش کرگئی۔ اس سے ختم نبوت کے عقیدہ کی عظمت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔

حضرت حبیب بن زید انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کے مسیلمہ کذاب کی طرف بھیجا، مسیلمہ کذاب نے حضرت حبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اﷲ کے رسول ہیں؟ حضرت حبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہاں، مسیلمہ نے کہا کہ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں (مسیلمہ) بھی اﷲ کا رسول ہوں؟ حضرت حبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جواب میں فرمایا کہ میں بہرا ہوں تیری یہ بات نہیں سن سکتا، مسیلمہ بار بار سوال کرتا رہا، وہ یہی جواب دیتے رہے اور مسیلمہ ان کا ایک ایک عضو کاٹتا رہا حتی کہ حبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بن زید کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ان کو شہید کردیا گیا۔اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مسئلہ ختم نبوت کی عظمت و اہمیت سے کس طرح والہانہ تعلق رکھتے تھے، اب حضرات تابعین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ میں سے ایک تابعی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا واقعہ بھی ملاحظہ ہو: ’’حضرت ابو مسلم خولانی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جن کا نام عبداﷲ بن ثوب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہے اور یہ امت محمدیہ (علی صاحبہا السلام) کے وہ جلیل القدر بزرگ ہیں جن کے لئے اﷲ تعالیٰ نے آگ کو اسی طرح بے اثر فرمادیا جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آتش نمرود کو گلزار بنادیا تھا۔ یہ یمن میں پیدا ہوئے تھے اور سرکار دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کے عہد مبارک ہی میں اسلام لاچکے تھے لیکن سرکاردو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کا موقع نہیں ملا تھا۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے آخری دور میں یمن میں نبوت کا جھوٹا دعویدار اسود عنسی پیدا ہوا۔ جو لوگوں کو اپنی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے کے لئے مجبور کیا کرتا تھا۔ اسی دوران اس نے حضرت ابو مسلم خولانی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا اور اپنی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی، حضرت ابو مسلم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے انکار کیا پھر اس نے پوچھا کہ کیا تم محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان رکھتے ہو؟ حضرت ابو مسلم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہاں، اس پر اسود عنسی نے ایک خوفناک آگ دہکائی اور حضرت ابو مسلم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اس آگ میں ڈال دیا، لیکن اﷲ تعالیٰ نے ان کے لئے آگ کو بے اثر فرمادیا، اور وہ اس سے صحیح سلامت نکل آئے۔ یہ واقعہ اتنا عجیب تھا کہ اسود عنسی اور اس کے رفقأ پر ہیبت سی طاری ہوگئی اور اسود کے ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ ان کو جلاوطن کردو، ورنہ خطرہ ہے کہ ان کی وجہ سے تمہارے پیروؤں کے ایمان میں تزلزل آجائے، چنانچہ انہیں یمن سے جلاوطن کردیا گیا۔ یمن سے نکل کرمدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب ان سے ملے تو فرمایا’’اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے موت سے پہلے امت محمدیہ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس شخص کی زیارت کرادی جس کے ساتھ اﷲ تعالیٰ نے ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام جیسا معاملہ فرمایا تھا۔ “

منصب ختم نبوت کا اعزاز
قرآن مجید میں ذات باری تعالیٰ کے متعلق ”رب العالمین“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے لئے ”رحمۃ للعالمین“ قرآن مجید کے لئے ”ذکر للعالمین“ اور بیت اللہ شریف کے لئے ”ھدی للعالمین“ فرمایا گیا ہے، اس سے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کی آفاقیت و عالمگیریت ثابت ہوتی ہے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصف ختم نبوت کا اختصاص بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے لئے ثابت ہوتا ہے، اس لئے کہ پہلے تمام انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے علاقہ، مخصوص قوم اور مخصوص وقت کے لئے تشریف لائے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حق تعالیٰ نے کل کائنات کو آپ کی نبوت و رسالت کے لئے ایک اکائی (ون یونٹ) بنادیا۔جس طرح کل کائنات کے لئے اللہ تعالیٰ ”رب“ ہیں، اسی طرح کل کائنات کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ”نبی“ ہیں۔ یہ صرف اور صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعزاز و اختصاص ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے جن چھ خصوصیات کا ذکر فرمایا ان میں سے ایک یہ بھی ہے:: ”میں تمام مخلوق کے لئے نبی بناکر بھیجا گیا اور مجھ پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔“ (مشکوٰۃ صفحہ 512 باب فضائل سید المرسلین‘ مسلم جلد1 صفحہ 199
قرآن مجید میں ذات باری تعالیٰ کے متعلق ’’رب العالمین‘‘ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے لئے ’’رحمۃ للعالمین‘‘ قرآن مجید کے لئے ’’ذکر للعالمین‘‘ اور بیت اﷲ شریف کے لئے ’’ھدی للعالمین‘‘ فرمایا گیا ہے، اس سے جہاں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کی آفاقیت و عالمگیریت ثابت ہوتی ہے، وہاں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصف ختم نبوت کا اختصاص بھی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے لئے ثابت ہوتا ہے، اس لئے کہ پہلے تمام انبیأ علیہم السلام اپنے اپنے علاقہ، مخصوص قوم اور مخصوص وقت کے لئے تشریف لائے، جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف لائے تو حق تعالیٰ نے کل کائنات کو آپ کی نبوت و رسالت کے لئے ایک اکائی (ون یونٹ) بنادیا۔جس طرح کل کائنات کے لئے اﷲ تعالیٰ ’’رب ‘‘ ہیں، اسی طرح کل کائنات کے لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ’’نبی‘‘ ہیں۔ یہ صرف اور صرف آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا اعزاز و اختصاص ہے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے لئے جن چھ خصوصیات کا ذکر فرمایا ان میں سے ایک یہ بھی ہے:: ’’میں تمام مخلوق کے لئے نبی بناکر بھیجا گیا اور مجھ پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔‘‘ (مشکوٰۃ صفحہ 512 باب فضائل سید المرسلین‘ مسلم جلد1 صفحہ 199 )

آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت آخری امت ہے، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا قبلہ آخری قبلہ بیت اﷲ شریف ہے، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل شدہ کتاب آخری آسمانی کتاب ہے۔ یہ سب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ منصب ختم نبوت کے اختصاص کے تقاضے ہیں جو اﷲ تعالیٰ نے پورے کردیئے، چنانچہ قرآن مجید کو ذکر للعالمین اور بیت اﷲ شریف کو ھدی للعالمین کا اعزاز بھی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے صدقے میں ملا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت آخری امت قرار پائی جیسا کہ ارشاد نبوی ہے: ’’انا آخر الانبیأ وانتم آخرالامم۔‘‘ (ابن ماجہ صفحہ297)

*جاری ہے۔۔۔*

01/08/2019

Address

Kulgam

Telephone

+916005381126

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lovers of Mufti Shabir Ah Qasmi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share