Islamic Duniya

Islamic Duniya We are a online organization which provide you to learn truth Islam. For more details visit us on www.islamicduniya.com

Islamic Duniya is an organization established in year 2017 and M***i Khalid Ayyoob Misbahi is its founder president and Er Shaharookh Ashrfi is its co-founder. Islamic duniya aims to convey the true and noble message of Islam to muslims as well as non muslims and remove misconception about Islam. Islamic Duniya is going to provide the true knowledge of Islam with its presentations of Islam reaches

millions of people world wide through the internet. Islamic Duniya’s activity and facilities provide the much excellence of Islamic teachings based on "Qur’an" and authentic Hadith as understood by Salaf of this Ummah. Islamic Duniya is an important grossly video channel which is connected with islamicduniya.com. In our website we will provide Islamic books, Islamic Magazines , Islamic Products , Online M***i , Tours & Travels services .

21/05/2025
13/12/2024

Follow the Khalid Ayyoob Misbahi channel on WhatsApp:

23/10/2024

سچا مسلمان وہ ہے جس کی بالغ عقل نہ صرف یہ کہ ہر وقت دوسروں کی ستر پوشی کرتی اور اپنی نیت پاک رکھتی ہے بلکہ اپنا قبلہ بھی درست رکھتی ہے۔

اس جملے کے اندر ایک کمال چھپا ہوا ہے، نشان دہی فرما سکتے ہیں؟؟؟

22/10/2024

شریعت، طریقت، حقیقت، معرفت میں باہم اصلا کوئی تخالف نہیں۔ اس کا مدعی اگر بے سمجھے کہے تو نرا جاہل ہے اور سمجھ کر کہے تو گم راہ بددین۔
شریعت حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اقوال ہیں، اور طریقت حضور کے افعال، اور حقیقت حضور کے احوال، اور معرفت حضور کے علوم بے مثال، صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ الی مالایزال۔ (فتاویٰ رضویہ)

20/08/2024

پر فتن عہد میں مستقبل ساز ہی کام یاب

تحریر: خالد ایوب مصباحی شیرانی
چیرمین: تحریک علمائے ہند

ایسا لگتا ہے جیسے ہمارے عہد کا ہر دن اپنے اندر کوئی نیا فتنہ لے کر طلوع ہورہا ہے۔ نا پختہ ذہنوں کی جدت کاریاں، عمل بیزاریاں، صدیوں پرانے فتنوں کو نئے سرے سے ہوا دینا،سطحیت کو تحقیق کی شکل میں پیش کرنا، اپنی اور اپنوں کی تصحیح اور اپنے مزعومہ حریفوں کی تغلیط کو مشن سا بنا لینا، دینی درد مندی اور ہم دردی پر اپنی گروہ بندی کو ترجیح دینا اور اپنے امتیازی تعارف و تشخص کے لیے عاقبت کی بھی فکر نہ کرنا، عہد رواں کے وہ فتنے ہیں، جنھوں نے نہ علمی مزاج رکھنے والوں کو مقدس رہنے دیا ہےاور ایسا لگتا ہے جیسے نہ ہی کوئی غیر جانب دار بچا ہو۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے :" دنیا میں لفظوں کے علاوہ غیر جانب داری کوئی چیز نہیں"۔
یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان خاموش ذہنی اور فکری فتنوں کی کوکھ میں عملی منافقت، منفی ذہنیت، گروہی تعصب، خانہ جنگی، اخلاقی ابتری، بے کاری اور عاقبت نا اندیشی کی پرورش ہوتی ہے، جن کے نتائج کی شکل میں ایسے افراد جنم لیتے ہیں، جو ایک طرف اپنے گرد و نواح کے لیے آزمائش کا سبب بنتے ہیں، تو دوسری طرف وہ غیر شعوری طور پر خود اپنی شخصیت کے ساتھ بھی خاطرخواہ وفاداری نہیں برت پاتے۔
اگر ہم اس کلیے اور نتیجے کو ملا کر دیکھیں تو پچھلی ایک دہائی میں کئی ایسے چہروں کے خد و خال حاشیہ خیال پر گردش کرتے نظر آئیں گے، کبھی جن کے تقدس کی قسمیں اٹھائی جا سکتی تھیں لیکن ـاللہ بچائےـ آج وہ امت کے لیے آزمائش بنے ہوئے ہیں۔
ایسا کیوں ہوا؟ محض اس لیے کہ انھوں نے خود کو جذباتیت سے بالا ہو کر سنجیدگی، دیانت داری اور عاقبت اندیشی کے ساتھ فتنہ سامانیوں سے بچانے اور حق و فتنہ میں فرق کرنے کی بجائے ، کبھی کسی گروہ کا ساتھ نبھایا تو کبھی اپنی جھوٹی انا کی تسکین چاہی اور ہر بار اپنی جیسی تیسی روش کو ہی نشان حق سمجھا، ملمع سازی کی اور تجزیہ و محاسبہ سے گریزاں رہے۔اور اس طرح ان کی خوش فہمی انھیں شیطان کے اس سنہرے دام میں پھانستی چلی گئی، جو در اصل انھی کے لیے بچھایا گیا تھا۔
فتنے میں مبتلا شخص کی سب سے بڑی عملی پریشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہم مزاجوں کے علاوہ کسی کی بات تسلیم کرنا، اپنے لیےباعث ہتک سمجھتا ہے اوراس طرح اس کی متعصبانہ گروہی فکر اس کے قبول حق میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہے۔ یہ وہ مایہ جال ہے، جس میں پھنسنے کے بعد توفیق خدا وندی ہی نکالے تو نکلا جائے، ورنہ یہاں بڑے بڑوں کا حشر برباد اور زندگی بھر کی جمع پونجی تباہ ہو تی دیکھی جا سکتی ہے۔
جماعت اہل سنت میں کم سے کم پچھلی ایک ڈیڑھ دہائی سے اس فکری فتنوں نے جس طرح اپنی جڑیں مضبوط کی ہیں، اس کے تباہ شدہ جوان اثرات ہر کوئی اپنی نگاہوں سے مشاہدہ کر سکتا ہے۔ ـاللہ نہ کرےـخدشہ یہ ہے کہ ابھی اس بد قسمی کا خمیازہ آئندہ کئی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔
لیکن چوں کہ ہر مثبت و منفی فکر کا کوئی نہ کوئی رد عمل ہوتا ہے، اس منفی فکری کشمکش کا خوش آئند رد عمل یہ ہوا کہ ملک کے لمبے چوڑے رقبے میں کئی جگہوں پر بڑی خاموشی ، مثبت ذہنیت ،زمانہ شناسی اور سنجیدہ مزاجی کے ساتھ ایسے نوجوان ابھر کر سامنے آئے ، جن کی توفیق ایزدی نے مستقبل بینی کے ساتھ مضبوط فیوچر پلاننگ کی اور اپنی صواب دید کے مطابق کسی بہتر کام میں مست ہو گئے۔
اللہ تعالیٰ انھیں ثابت قدم اور راہ حق پر گام زن رکھے، ان شاء اللہ تعالیٰ یہی لوگ در اصل مستقبل کا اثاثہ ثابت ہوں گے۔ کیوں کہ فتنوں کی عمر زیادہ لمبی نہیں ہوتی اوراسی وجہ سے ان کے ساتھ پنپنے والی منفی ذہنیت بھی گزرتے وقت کے ساتھ مرتی چلی جاتی ہے اور جب ایسے مزاجوں کا وقت لد چکا ہو تو ان کے پاس اپنے اوپر کف افسوس ملنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا جبکہ اسی وقت ان فتنہ سامانیوں سے بچتے بچاتے مثبت کام کرنے والوں کا مثبت کام بھی جوان ہو چکا ہوتا ہے اور وہ وقت در حقیقت انھی خوش نصیبوں کا وقت ہوتا ہے۔
اس مجمل تمہید کی صریح تفصیل یہ ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ دو تین دہائیوں بعد جبکہ اس وقت کے جوانوں کی جوانی اور عمر ِکار ڈھل چکی ہوگی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی بدولت مسلسل ترقی پذیر سائنسی اور تکنیکی دنیا اپنے غیر معمولی اثرات سے نظام عالم کو بہت بدل چکی ہوگی، وہ لوگ جو اس وقت فتنہ سامانیوں کی لا یعنی بحثوں کا شکار، یا بیکار، یا عاقبت نا اندیش ہیں، اپنے آپ کو ٹھگا ہوا پائیں گے اور خود کو کوس رہے ہوں گےاور دوہرا افسوس یہ ہوگا کہ اس وقت ان کے پاس احساس زیاں اور ندامت کے علاوہ کوئی چارہ کار بچا بھی نہ ہوگا۔
ذرا تصور کیجیے اپنی ڈھلتی عمر کا وہ وقت جب اِس وقت کہیں کہیں آزمائشی مرحلوں میں ہونے والے ، بہت سے کام آٹو موڈ / آٹو سروس پر انجام پا رہے ہوں گے، آٹو ڈرائیونگ، روبوٹک سرجری، خود کار وکالت، ای ٹرانسپورٹیشن، آرٹیفیشل میموری، گیسٹک بارش، روبوٹک سسٹم، راتوں رات بنتے مکانات اور ہاتھوں ہاتھ تیار ہوتے پکوان۔ یعنی وہ وقت جب تکنیک کا جادو ہر سر چڑھ چکا ہوگااور زندگی کا ہر رنگ سائنس کے رنگ میں رنگ چکا ہوگا۔
اس لیے بہت مناسب ہے کہ اس وقت کا ہر جوان اپنی جوانی کو غنیمت اور اپنی عمر ِکار کو نعمت سمجھے اور اپنے لیے علمی، قلمی، فکری، تعلیمی، تکنیکی،سائنسی، تجارتی، دینی، ملی یا کسی بھی میدان کی معقول، منظم اور با کار مصروفیت پال لے اور نہ صرف رسمی طور پر اس میں مست ہو جائے، بلکہ اپنےمتعلقہ میدان میں بھرپور مہارت بھی حاصل کرے تاکہ دوسروں کے ساتھ نہ سہی، وہ خود اپنی عمر و مستقبل کے ساتھ وفا کر سکے۔
یوں تو ہر ماضی، اپنے مستقبل کا آئینہ ہوتا ہے لیکن ہمارا ماضی قریب ، ہمارے مستقبل کی جس طرح غمازی کر رہا ہے، شاید ابھی ہمارے لیے صحیح اندازہ بھی مشکل ہو۔ اس عہد کی تکنیک نے دنیا کے نظام کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے اور اس ہمہ جہتی تبدیلی کی رفتار ہر دن بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ روشن دماغوں کے لیے یہ بات عجیب نہیں ہوگی کہ آج ہم جن چیزوں کو بہت اہم سمجھ رہے ہیں، بہت ممکن ہے آئندہ وہ غیر اہم بن جائیں اور آج جن تکنیکی سہولیات کو غیر اہم آنک رہے ہیں، آئندہ ان کے بغیر گزارہ نہ ہو۔ اس لیے اپنے روشن مستقبل کی منصوبہ سازی بھی غیر معمولی دماغ سوزی اورباریک بینی کے ساتھ ہونی چاہیے۔
اب دنیا اس فارمولے پر چل نکلی ہے کہ آپ نے اس نظام کائنات سے لیا بہت کچھ ہے، دیا کیا ہے؟ دینے والے، دینے کی پلاننگ کرنے والے اور دے سکنے والے ہی، کام یاب اور قابل قدر شمار کیے جائیں گے، ورنہ کہنے کو تو رواں سانسوں کو بھی زندگی ہی کہا جاتا ہے جیسے آزاد دنیا میں سب کو جینے کا برابر حق حاصل ہے۔

20/08/2024

تحفظ ناموس رسالت: کچھ تشویشیں، کچھ تدبیریں

تحریر:- خالد ایوب مصباحی شیرانی
چیرمین: تحریک علمائے ہند، جے پور

تحفظ ناموس رسالت کی بات کرتے ہوئے ہر مسئلے کی طرح ہماری دو طرح کی ذمہ داریاں ہیں، کچھ کام وہ ہیں، جو ہمیں کرنے ہیں، جنھیں ہم تدبیریں کہہ سکتے ہیں اور کچھ کام وہ ہیں، جو ہمیں چھوڑنے ہوں گے، جنھیں ہم تشویشیں کہہ سکتے ہیں۔
تشویشیں:-
(الف) نوعیت سمجھے بنا زود رد عمل:-
مسئلہ ناموس رسالت ہو یا اسلامیان ہند کو درپیش دیگر مسائل در اصل 2014 سے مرکز میں بھاجپا کے استحکام کے بعد سے ہی ہر دن گئے چن چن کر ان مسائل کو ہوا دی جا رہی ہے، جن سے ملک میں باہمی نفرت اور قومی عصبیت کا زہر گھلے اور امت مسلمہ متشدد ری ایکشن دینے پر مجبور ہو اور اسی شرارت کے ساتھ یہ فکری جنگ، سرد جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے جسے اگر سرد جنگ کے اصولوں کے مطابق لڑا جائے گا تو ان شاء اللہ تعالی کام یابی مقدر ہوگی، ورنہ نہ صرف یہ کہ ناکامی ہاتھ لگے گی بلکہ بد عنوان میڈیا کے ذریعے بد نامی بھی کروائی جائے گی۔
پچھلی ایک مدت سے درپیش مسائل کی بابت یہ وہ نازک نکتہ ہے، جسے ہم اسلامیان ہند کو بہت سنجیدگی کے ساتھ سمجھنا اور برتنا ہوگا، ورنہ مسائل تو نہ حل ہونے تھے، نہ ہوں گے، ان سے بھی بڑا خسارہ یہ ہوگا کہ ان مسائل بابت ہماری غیرتیں بھی خوابیدہ ہوتی چلی جائیں گی اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ زیاں سے کہیں زیادہ نقصان دہ احساس زیاں کا جاتے رہنا ہوتا ہے۔
بنا سوچے سمجھے رد عمل ظاہر کرنے کی بہترین مثال تقریباً ہر مسئلے سے متعلق شہر شہر منعقد ہمارے وہ احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں، جن کے بیچ ہر بار کوئی ان جانا پتھر آتا ہے، جس کے ردعمل کے طور پر پولیس سے ہماری مڈ بھیڑ ہوتی ہے، جو کیمرے میں قید ہو جاتی ہے اور مظاہرہ ختم ہونے سے پہلے پہلے کیمرے میں قید افراد کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی جاتی ہے اور پھر اس سے پہلے کہ مظاہرہ کوئی رنگ دکھائے، ایک نئی مصیبت گلے لگ جاتی ہے۔ غیروں کا آزمودہ فارمولہ اور ہماری مکرر حماقتوں کا یہ وہ تسلسل ہے، جو پچھلی ایک مدت سے بے خطا تیر کی طرح کام کر رہا ہے۔
ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہماری نفسیات نے یہ مان رکھا ہے کہ احتجاج کا ایک ہی طریقہ ہوتا ہے اور وہ ہے مظاہرہ۔ جبکہ ہمارے ملک کی عملی نزاکتیں بار بار کے تجربات کی روشنی میں یہ ثابت کر چکی ہیں کہ سسٹم سے لے کر تعداد تک ہمارا اقلیتی وجود ہمارے حق میں ان احتجاجی مظاہروں کو نیک فال نہیں قرار دیتا۔ اس لیے عقل مندی یہ ہے کہ ہم اپنے غم و غصے کا علاج ان بار بار ڈسنے والے سوراخوں کے علاوہ تلاش کریں، جس کی تفصیل تدبیروں میں آ رہی ہے۔
(ب) مسئلہ سو فیصدی سیاسی ہے:-
زمین ہند کا یہ مشرکانہ مزاج رہا ہے کہ وہ ہر طاقت کے آگے سرینڈر ہو جاتی ہے اور اسے احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہاں محمد صاحب اور پیغمبر اسلام جیسے محترم الفاظ کے ساتھ یاد کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اچانک ان کی شان اقدس میں گستاخیوں اور بے باکیوں کا بڑھ جانا، یہ کوئی ناگہاں حادثہ نہیں بلکہ ایک بڑی سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے اور وہ سازش ہے ایک مخصوص ذہنیت کو سیاسی فائدہ پہنچانا۔ یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں گستاخیاں ہوتی نہیں، پس پردہ رہ کر کروائی جاتی ہیں۔
اس دعوے کو سمجھنے کے لیے گزشتہ دنوں ملعون نرسمہا نند کی گستاخیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
پریس کلب آف انڈیا جو حکومت کا ادارہ ہے، اس میں بیٹھ کر گستاخی کرنا، ملک بھر میں ہوئے نوع بنوع احتجاجات کے باوجود اس کی گرفتاری عمل میں نہ آنا بلکہ اسے زیڈ پلس سیکورٹی فراہم کرنا اور اس کا اب تک وقتاً فوقتاً ہفوات بکے جانا، کیا یہ سب کچھ اتفاق کا نتیجہ ہے؟ اگر نہیں اور سچ مچ نہیں تو کیا اس منظم سازش کا علاج ہمارے غیر منظم احتجاج کر سکتے ہیں؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔
ہاں! یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ اس سیاسی چال کا جواب کسی بہت دانش ورانہ انداز میں کسی دوسری طرح کی سیاسی چال سے دیا جائے اور یہی ردعمل معقول بھی ہے اور کار آمد بھی۔
(ج) باہمی کوسنا چھوڑیں:-
ہم ہر بار یہ دیکھتے ہیں کہ جب بھی کوئی سانحہ گزرتا ہے، ہم آپس میں ہی رسہ کش اور دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ چھوٹوں کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ بڑے کچھ نہیں کرتے اور بڑے اپنے آپ کو اس طرح بے بس ظاہر کرتے ہیں، جیسے وہ بے دست و پا ہیں، کچھ کر ہی نہیں سکتے جبکہ ایمان کی یہ ہے کہ ایک حد تک دونوں ہی اپنی واقعی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر رہے ہوتے ہیں۔
ایسے موقعوں کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ہم باہمی رنجشیں بھول کر موجودہ صورت حال سے نمٹنے کی تدبیروں پر سنجیدگی سے غور کریں اور ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا سیکھیں ورنہ شک و تشکیک کی فضا نے تو پہلے ہی ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔
آئیے! اپنی ان واضح غلطیوں کی اصلاح کے عہد کے ساتھ ہی ہم اس سب سے نازک اور غیرت مند مسئلے کے تدبیری حل کی طرف بڑھتے ہیں، ممکن ہے اللہ رب العزت کوئی راہ نکال دے اور ہم تحفظ ناموس رسالت کے عنوان سے اپنی غیرت ایمانی کو بچانے میں کام یاب ہو سکیں۔
تدبیریں:-
گستاخیاں ٹیمپریچر کی ٹیسٹنگ ہیں:-
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اہل ایمان کی سب سے بڑی طاقت روح محمد رہی ہے اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ باطل قوتیں ہمیشہ جسم ایمانی سے اس روح محمد کو نکالنے کے لیے ہر ممکن جتن کرتی رہی ہیں، جس میں وہ کئی بار کام یاب ہوئی ہیں اور بارہا ناکام بھی۔
ایسے میں ہمیں سب سے پہلے خود سے یہ عزم کرنا ہوگا کہ جب کبھی بھی کوئی گستاخی سننے میں آئے، ہم مارکیٹ میں اس کا جو بھی ری ایکشن دے پائیں، یا نہ دے پائیں، بہر صورت ہر بار اپنی غیرت ایمانی کو زندہ اور اپنی تحریک عشق سالت کو تیزی ضرور دیں تاکہ ہمیں روحانی غذا ملتی رہے اور وہ نہ ہونے پائے، جو دشمن چاہتے ہیں۔
درود پاک کی کثرت، قرآن پاک کی تلاوت، اپنے گھریلو ماحول کی اصلاح اور اپنے بچوں کو حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت گٹھی میں پلاتے رہنا چاہیے تاکہ یہ تحریک نہ صرف ہماری ذات تک محدود رہے بلکہ ہماری نسلوں میں بھی منتقل ہو یعنی ہمیں دشمن کی اس منشا کو عملاً ناکام کرنا ہوگا کہ ہماری ایمانی حرارت کمزور پڑ چکی ہے۔
احتجاج کے کچھ کار آمد طریقے:-
اکیسویں صدی کا بہت بڑا اچیومنٹ یہ ہے کہ اس میں بات کہنے سننے سے لے کر سوچنے سمجھنے تک ہر طریقے میں واضح تبدیلی آئی ہے اور ڈیجیٹلائزیشن کا رجحان اتنی تیزی کے ساتھ بڑھا ہے کہ اس نے پچھلی کئی صدیوں کے معمولات اور تجربات کو خود کے سامنے پھیکا ثابت کر دیا ہے۔ ازاں جملہ احتجاج کے بھی کچھ نئے طریقے دریافت ہوئے ہیں جو بجائے خود بہت کار آمد بھی ہیں اور سہل بھی۔ ایسے میں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے پرانے اور آزمودہ غیر معقول احتجاجی طریقے بدلیں اور ان نئے تکنیکی وسائل کا بھرپور استعمال کریں‌۔
(الف) مسلسل کئی دنوں ٹویٹر ٹرینڈنگ:-
ٹیوٹر عالمی سطح پر اپنی بات رکھنے کا ایک مؤثر سوشل پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے احتجاج وغیرہ بہت اچھے انداز سے درج کروائے جاسکتے ہیں۔
اس کام کے لیے کوڈ کی شکل میں ہیش ٹیگ ( #) کا استعمال ہوتا ہے جو ہم خیال احباب کو باہم مربوط کرتا ہے۔ اگر ٹویٹر کے ذریعے ایک بار بھی کوئی نیشنل ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتا ہے تو اس کا اپنا ایک اثر ہوتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کے اہم ترین مقصد تحفظ ناموس رسالت کے لیے علاقہ وار ٹیمیں بنا کر انھیں ٹیوٹر کی ٹریننگ دینی چاہیے اور پھر ایسے ٹرینڈ تکنیکی احباب کی مدد سے کئی دنوں تک کام یاب ٹرینڈ چلانے چاہیے تاکہ گستاخیوں پر بڑی سطح پر چرچا ہو اور اللہ کرے کوئی قانون بن جائے اور خدا نخواستہ قانون نہ بھی بنے تو عالمی سطح پر حکومت کی ناکامی اور فضیحت درج ہو۔
(ب) وی آئی پی ڈاٹا کلکشن:-
اگر ہم نے مسئلہ تحفظ کو اپنی غیرت کا مسئلہ بنا رکھا ہے اور ان شاء اللہ تعالیٰ ہر مومن کامل کی یہی شان ہوگی تو ہمیں دنیا بھر کا وی آئی پی ڈاٹا جمع کر کے ان تک اپنا مدعا پہنچانا چاہیے۔ چاہے وہ وی آئی پی صاحب ایمان ہوں، یا نہ ہوں کیوں کہ اس وقت پوری دنیا پر جمہوری فکر حاوی ہے اور کوئی بعید نہیں کہ کسی طبقے کا کوئی بڑا سوشل ایکٹوسٹ یہ سودا اپنے سر میں سما لے اور بنیت رفاہ دھمال مچا دے۔
ملکی حد بندیوں سے اوپر اٹھ کر ایسے حکومتی ذمہ داروں، حقوق انسانی کی تنظیموں میں کام کرنے والے رضا کاروں اور عالمی شناخت رکھنے والوں تک خط و کتابت، ای میل اور سوشل میڈیا ٹیگ وغیرہ کے ہر ذریعے سے رسائی حاصل کی جانی چاہیے۔ خدا جانے کہاں کون سی تدبیر کام آ جائے اور کس وقت کس کے دل پر کون سی بات چوٹ کر جائے۔
(ج) جوشیلی نہیں، لیگل باتیں کریں:-
اس میں ذرہ برابر شبہ نہیں کیا جا سکتا کہ ناموس رسالت کا مسئلہ ہر عام و خاص کے لیے غیرت دینی کا مسئلہ ہوتا ہے۔ فرق یہ ہوتا ہے کہ اہل خطابت کو خطابت کے ذریعے اپنی بات کہنے کا پلیٹ فارم مل جاتا ہے اور اہل قلم، قلم کو ذریعہ بنا لیتے ہیں جبکہ عام آدمی کی دینی حمیت ہم تک پہنچ نہیں پاتی۔
ہاں! اس پورے قضیے میں مشترکہ طور پر ہم سب کے کرنے کا کام یہ ہے کہ ہم اس بابت جب بھی بات کریں، جوش و جذبات کی بجائے آئین ہند کی روشنی میں لیگل باتیں کریں تاکہ جیسے جمہوری پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے، ویسے ہی بات بھی پریکٹیکل اور معقول ہو۔
قانونی چارہ جوئیوں بابت جہاں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا سہارا لیا جاسکتا ہے، وہیں ماہرین قانون کی مدد سے انٹرنیشنل کورٹ اور حقوق انسانی کی تنظیموں کا بھی سہارا لیا جاسکتا ہے۔
(د) عدم تشہیر کی مہم:-
ان بڑے اقدامات کے علاوہ ایک ضروری اصلاح یہ کی جانی چاہیے کہ ہم کسی بھی قسم کی گستاخی کو فارورڈ کرنے/ کروانے کے کلچر پر روک لگانے کی مہم چھیڑیں تاکہ کوئی غیر شعوری نقصان بھی نہ ہو۔
سوشل میڈیا اوپن پلیٹ فارم ہے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اس سے نکلنے والا مواد کہاں تک جائے گا۔ بہت ممکن ہے وہ نادان دشمن جنھیں کوئی خاطر خواہ مواد حاصل نہیں، ہمارے بے تکے جذبات کی وجہ سے ان بد بختوں کو مزید گستاخیوں کا موقع میسر آئے۔
اس کی بہترین مثال حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا یہ احتیاطی طرز حکمت ہے کہ انھوں نے شان رسالت میں ہونے والی کسی بھی گستاخی کا ریکارڈ محفوظ نہیں رکھا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج وہ ہمیں معلوم نہیں، ورنہ ایسے تیرہ بختوں کا ایک تسلسل رہا ہے۔
(ھ) غلط فہمیوں کا ازالہ:-
شان رسالت مآب کی پہرے داری کسی فصل گل و لالہ کی پابند نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایک عاشق زار کے لیے یہ وہ کار افتخار ہونا چاہیے جو ہر وقت جاری رہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گستاخان رسالت ازلی تیرہ بخت ہوتے ہیں، جن کے حصے میں دنیا کا بد ترین کام آتا ہے لیکن ظاہر ہے مادی طور پر وہ بھی کچھ باتوں کو بنیاد بناتے ہیں۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری ہونی چاہیے کہ ہر ممکن کوشش کر کے ان کی منہ بندی کرتے رہیں جیسے حضرت رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی کثرت ازدواج اور حضرت عفیفہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی کم عمری کی شادی جیسے ہر اعتراض کا ہر زمانے میں جواب دیا جاتا رہنا چاہیے۔ اس لیے نہیں کہ ان ہفوات میں کوئی دم خم ہے بلکہ محض اس لیے کہ نسلیں ادلتی بدلتی رہتی ہیں، ممکن ہے کوئی ذہن نیا شکار بنے اور ایسے ہر موقع پر پہرے داروں کی ڈیوٹی بڑھ جاتی ہے۔ ورنہ جیسے یہ تسلیم ہے کہ ان گنے چنے اور گھسے پٹے راندہ اعتراضات کے مطول، متوسط اور مختصر ہر نوعیت کے جوابات اب سے پہلے بارہا دیے جا چکے ہیں، جن سے اسلامی کتابیں بھری پڑی ہیں، ویسے یہ بھی آزمایا جا چکا ہے کہ یہ رو سیاہ لوگ اپنے اس مخصوص خ*ل سے باہر نکل بھی نہیں سکتے لیکن بہر صورت یہ غیرت مندی کا ایک مسلسل کام ہے، سو تحریر و تقریر، آڈیو ویڈیو، سائنس اور تکنیک جیسے ہر نئے پرانے طریقے سے کیا جاتا رہنا چاہیے۔
(و) سوشل مواد:-
دشمنوں کی جانب سے داغے گئے مخصوص فرسودہ اعتراضات کے علاوہ بھی نئے ذہنوں میں پیدا ہو سکنے والے اعتراضات اور ممکنہ سائنسی نظریات کے پیشگی مثبت انداز میں جوابات تیار رہنے چاہیے اور جہاں تک شریعت اسلامیہ سے ٹکراؤ یا عقل سلیم سے تصادم نہ ہو حتی الامکان سیرت النبی کی جدید پیمانوں پر تشریح و توضیح جاری رہنی چاہیے تاکہ ہر عہد خود کو حضور رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے قدموں میں رکھے جو در اصل اس عہد کی اپنی ضرورت ہے۔ اسی کے بالکل ساتھ ساتھ ایسا ہر نیا پرانا مواد جدید ذرائع ابلاغ پر مسلسل اپلوڈ ہوتے رہنا چاہیے تاکہ دشمنوں کی زباں بندی کا پیشگی انتظام رہے۔
اس موقع پر ہمیں یہ نفسیاتی پہلو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ اعتراض ہونے کے بعد اس کا جواب تلاش کر کے لانے میں جواب تو ہو جاتا ہے لیکن بارہا جواب کی اہمیت کم ہوجاتی ہے جبکہ اگر پہلے سے جواب موجود ہو اور بعد میں اس جواب کے مطابق اعتراض سامنے آئے تو اعتراض ہلکا ہو جاتا ہے۔
(ز) پیغام رسالت کی تبلیغ:-
ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق غلط فہمیوں کی بنیادی وجہ گستاخانہ جسارتیں ہی نہیں ہوتیں بلکہ بہت ممکن ہے اس سائنٹفک دور میں بہت سارے اعتراضات اس لیے پیدا ہوئے ہوں کہ دنیا کو شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ واقعی واقفیت نہیں، جو آپ کی عظمت نشانی کا تقاضا ہے اور ظاہر ہے اس کے لیے ہم کلمہ گو ذمہ دار ہیں کیوں کہ ہم نے پیغام رسالت کی اس تن دہی کے ساتھ ترجمانی اور تبلیغ و اشاعت نہیں کی، جو ایسی بلند پایہ اور عظیم الشان تعلیمات کا حق تھا۔
سو ہمیں چاہیے کہ ہم زندگی کے ہر موڑ پر، زندگی کے ہر موڑ سے متعلق بطور خاص ان تعلیمات رسالت کی تبلیغ و اشاعت کے لیے کوشاں رہیں، جو رفاہ عامہ، خدمت انسانیت، بلندی اقدار اور اخلاقیات سے متعلق ہیں۔ اس طرح کی تعلیمات تہذیب یافتہ قوموں اور منصف مزاج انسانوں کو بہت زیادہ متاثر کرتی ہیں۔
(ح) تحریک عشق رسالت:-
عشق رسالت مآب کسی ایک تنظیم کا منشور یا کسی خاص موسم کی ہوا نہیں بلکہ اہل ایمان کے لیے مقصد حیات اور روح حیات کا درجہ رکھتی ہے۔ اور ہر صاحب ایمان کا یہ وہ مشترکہ کام ہے جو سب کو، ہر جگہ، ہر بار اور ہر طرح کرنا ہوگا۔ دنیا کی نفسا نفسی، مذہبی رنگوں کی خرید و فروخت اور مادیت کی سرد و گرم ہواؤں کے ساتھ اگر اس چراغ عشق کی لو ماند پڑی ہے تو اس میں درود و سلام کے خوش گوار نغموں، نعتہائے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی عاشقانہ گونج، سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ بول اور اسلاف کرام کی عاشقانہ زندگیوں کے ایمان افروز واقعات جیسے ہر ممکن ذریعے سے پھونک مارنا اور نسلِ نو میں یہ درد دورں منتقل کرنا ایک مستقل ذمہ داری ہے، جو علم و جہالت کی قید کے بنا ہر کلمہ گو آسانی سے کر سکتا ہے۔ ویسے ہی جیسے ہمارے پڑوس میں گزشتہ سالوں ایک عاشق رسول نے اس کی ایک بہترین عملی مشق کی تھی۔
(ط) تکنیکی چارہ جوئی:-
گزشتہ چند سالوں میں گستاخیوں کا جو غیر معمولی ریشو بڑھا ہے، اس میں سوشل پلیٹ فارمز کا بہت اہم کردار ہے کیوں کہ ان اوپن پلیٹ فارمز نے ہر بندر کے ہاتھ میں ڈگڈگی تھما دی ہے، جو جہاں چاہے، بجاتا پھرے، ورنہ یہ بد تہذیب لوگ ہمیشہ سے رہے ہیں لیکن ازیں قبل ایسے پاگلوں کو اپنی ہفوات بکنے کے لیے کوئی پلیٹ فارم مہیا نہ تھا مگر جس طرح سوشل پلیٹ فارم نے ہر عام سے عام انسان کو اپنی بات کہنے کا موقع دیا ہے بلکہ بات کہنا بھی کمائی کا ذریعہ بنا دیا ہے، ویسے ہی انھیں پلیٹ فارمز نے ایسے انتظامات بھی رکھے گئے ہیں کہ کسی بھی بدتمیز کو لگام لگائی جاسکتی ہے۔ تکنیکی زبان میں سوشل میڈیا پر ہونے والی گستاخیوں پر قدغن لگانے کو "رپورٹ" کرنا کہتے ہیں۔ رپورٹ کا مطلب کسی بھی چینل یا سوشل اکاؤنٹ کی بدتمیزی کی شکایت کرنا ہوتا ہے۔ ٹویٹر، فیس بک، انسٹا گرام، یوٹیوب اور وہاٹس ایپ سمیت ہر پلیٹ فارم پر یہ آپشن موجود ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایک ٹیم بنا کر ان پلیٹ فارمز کی اس تکنیکی چارہ جوئی کا بھرپور استعمال کریں اور ایسے تمام بدتمیز اکاؤنٹس کو رپورٹ کر کے بلاک کروائیں۔ یہ کام کیوں کر ممکن ہوگا؟ اس کی تفصیلات کا یہ موقع نہیں۔ یہ کام کسی بھی معمولی تکنیکی سمجھ رکھنے والے انسان سے براہ راست سمجھا جا سکتا ہے۔
(ی) ایشو کو انٹرنیشنل لیول دینا:-
اوپر لکھا جا چکا ہے کہ جب تک حقوق انسانی کے ناطے ہم اپنے اس درد کو بین الاقوامی رنگ نہیں دیں گے، شاید درد کا درماں نہ نکلے اور دیدہ و دانستہ گستاخیوں کا ماحول بنانے والے متعصب مشرکین اور ازلی بدبخت اپنی اوچھی حرکتوں سے باز نہ آئیں۔ ایسے میں ہمیں چاہیے کہ ہم سوشل پلیٹ فارمز، غیر متعصب میڈیا ہاؤسز، حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں اور بطور خاص مسلم ممالک کی حکومتوں تک کسی بھی جمہوری اور غیر پریشان کن راستے سے اپنا درد پہنچائیں اور ان سے ان مسائل میں مداخلت کی گزارش کریں۔
بہت ممکن ہے عالمی دباؤ وہ کام کروا دے، جو ہم تصور بھی نہیں کر پا رہے ہیں۔ کیوں کہ ڈپلومیسی کے مطابق عالمی بازار سے لکھے گئے چند خطوط کی اہمیت، گھر کے اندر موجود سروں سے بھی زیادہ ہو جایا کرتی ہے۔
(ک) اقلیتوں سے روابط:-
جس طرح مسلمان حضرت رسالت مآب، اسلام اور اسلامیات کی شان میں کی جارہی گستاخیوں سے پریشان ہیں، اسی طرح ایک حد تک عیسائی اور ایک حد تک سکھ کمیونٹی بھی اسی طرح کی حرکتوں سے مضطرب ہے کیوں کہ گزشتہ سالوں میں ان کے مقدسات کے ساتھ بھی اسی طرح کی چھیڑ خانیاں ہوئی ہیں۔ چناں چہ گزشتہ سالوں پنجاب میں سکھوں کی مقدس کتاب گرو گرنتھ صاحب کی توہین کے واقعات سامنے آئے، جس سے وہاں اشتعال پیدا ہوا اور اس وقت برسراقتدار پارٹی کو اس کا خمیازہ اگلے انتخابات میں اپنی حکومت گنوا کر بھگتنا پڑا۔ ایسے میں اگر مسلم کمیونٹی، عیسائیوں اور سکھوں کے ساتھ اتحاد کر لیتی ہے تو ممکن ہے کوئی ایسا بل پاس کروانے میں مدد ملے، جس میں تمام مذہبی مقدسات کو تحفظ فراہم ہو۔ خیال رہنا چاہیے کہ سکھ کمیونٹی اس بابت ایک حد تک پیش رفت کر چکی ہے البتہ ابھی ان کا بل زیرالتوا ہے۔
(ل) بڑوں سے ملاقاتیں:-
ناموس رسالت کو تحفظ فراہم نہ ہونا اگر ایک درد ہے تو اس درد کا رونا ہر اس دروازے پر رویا جانا چاہیے، جہاں سے مداوا کی کوئی موہوم سی بھی امید ہو، چاہے یہ امید کسی برسر اقتدار یا غیر مقتدر سیاسی پارٹی سے ہو، موجودہ وزیر اعظم سمیت کسی بھی بڑے سیاسی رہ نما سے ہو، یا اسمبلیوں کے مسلم/ غیر مسلم ممبران سے ہو، اپنے علاقے کی معزز اور بااثر شخصیات سے ہو، یا کسی اور ذریعے سے۔ ملاقات کرنے میں کوئی مضائقہ یا نقصان نہیں، خدا کرے، امید بر آئے اور خدانخواستہ کچھ حاصل نہ ہو تو کچھ کھونا بھی نہیں۔
(م) قدرے نرم ریاستوں پر محنت:-
ملک کے طول و عرض میں ہر طرح کا سیاسی رنگ موجود ہے۔ کچھ ریاستوں میں نفرتوں کی سیاست ہے ہے، کچھ میں معتدل اور کچھ میں نرم۔ ناموس رسالت بابت جتنی بھی کوششیں ہوں، وہ ایک طے شدہ ہدف کے مطابق سسٹم کے ساتھ ہونی چاہیے، ورنہ محنتیں بھی ہوں گی اور نتیجہ بھی برآمد نہیں ہوگا۔ ہمیں سب سے پہلے ان ریاستی حکومتوں کو اپنا سافٹ ٹارگیٹ ماننا چاہیے، جہاں مسلمانوں کے تئیں کچھ نرمی ہے یا وہاں کے وزرائے اعلی کے مزاج میں سیکولر ازم ہے اور ایسی حکومتوں سے مل کر تحفظ ناموس رسالت بابت بل پاس کروانے کی کوشش ہونی چاہیے۔
اللہ کرے ہم اپنا محاسبہ کرتے ہوئے مقصد میں کام یابی کی تمام لازمی صفات سے لیس ہو کر میدان میں اتریں اور بامراد لوٹیں۔

https://surveyheart.com/form/65029686dcee497bfb46468fतहरीक उलमा ए हिंद (TUH) ने पिछले 4 सालों से इस्लामी बहनों के लिए ऑन...
14/09/2023

https://surveyheart.com/form/65029686dcee497bfb46468f

तहरीक उलमा ए हिंद (TUH) ने पिछले 4 सालों से इस्लामी बहनों के लिए ऑन लाइन दर्से निज़ामी कोर्स का इंतज़ाम कर रखा है

जिसके
तहत फ़िल वक़्त तजवीद कोर्स, ऐदादिया, ऊला, सानिया और सालिसा में 9 मुअ़ल्लिमात की निगरानी में 115 बहनें तालीम हासिल कर रही हैं।

अगर
अगर आपके घर में भी कोई बहन, बेटी, या बहू घर बैठे ज़िम्मेदार और बा-सलाहियत अलिमात से तजवीद कोर्स, या ऑन लाइन दर्से निज़ामी कोर्स, या शार्ट दीनियत कोर्स करना चाहती है तो बिला ताख़ीर इस लिंक पर क्लिक करके फार्म फ़िल करके करके एडमिशन दिलवा दें

ताकि
रबीउल अव्वल शरीफ़ के मुबारक मौके़ पर शुरू होने वाले नए बैच से वह अपनी बा-ज़ाब्ता पढ़ाई का आग़ाज़ कर सकें।

कोर्स की ख़ुसूसियात:-
(1) शार्ट होने के बावजूद मज़बूत तालीम
(2) तालीम के साथ तरबियत का इंतज़ाम
(3) पर्दादारी का मुकम्मल ख़याल और एहतमाम
(4) अरबी से पीएचडी आलिमा की तालीमी निगरानी
(5) लगभग पार्ट टाइम और आ़म तौर पर मुनासिब वक़्त

*नोट:-* इस वक़्त जबकि हमारी बच्चियां ऐतक़ादी और फ़िक्री तौर पर बड़ी तेज़ी से बे-राह रवी का शिकार हो रही हैं, हस्सास् वालिदैन की दोहरी ज़िम्मेदारी बनती है कि आलिमा बनाने के लिए ना सही, कम से कम उनके ईमान व फ़िक्र और अपनी आबरु बचाने के लिए ही सही, अपनी बहन बेटियों को ऐसे पाकीज़ा निज़ाम से वाबस्ता करें, मुमकिन है कामयाबी मिले। ख़याल रहना चाहिए कि ऐसे हस्सास मसाइल का प्रैक्टिकल हल ही हल है, बातें हरगिज़ नहीं।

एडमिशन की आख़री तारीख़:- 30/ सितंबर 2023
लिंक:-

व्हाट्सएप्प नंबर:-9772797875

ADDMISSION FOR ONLINE MADARSA LILBANAT

https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSfTQ1vgh1rYbklzpha03wqLPc6xiFZPghffpB-C83O_B8uzJg/viewform?usp=sf_linkहरवह शख़्...
29/04/2023

https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSfTQ1vgh1rYbklzpha03wqLPc6xiFZPghffpB-C83O_B8uzJg/viewform?usp=sf_link

हर
वह शख़्स जिसके घर में कोई बा-शऊर बच्ची है और वह उसे पार्ट टाइम में आ़लिमा बनाना चाहता है, उसके लिए यह बड़ी ख़ुश ख़बरी होगी कि *तहरीक उलमा ए हिंद* ने ऐसी बहनों/ बच्चियों के लिए पिछले तीन सालों से *ऑनलाइन दर्से निजा़मी* का इंतज़ाम कर रखा है, जिसके तहत अभी ऐदादिया, ऊला, सानिया और सालिसा तक का दर्जे जै़ल तफ़सील के मुताबिक़ मुकम्मल इंतिजा़म है।

*ख़ुसूसियात:-*
*(1)* 5 साला ऑनलाइन तालीमी व तरबियती कोर्स
*(2)* रोज़ाना सुबह और शाम का टोटल 3.5 घंटे का साइड टाइम (यानी अगर कोई बच्ची स्कूल/ कॉलेज में पढ़ रही है, या जॉब कर रही है, या कोई बहन हाउस वाइफ़ है, वह भी पार्ट टाइम में आसानी से यह कोर्स कर सकती है।)
*(3)* हर हफ़्ता इस्लामी और फ़िक्री तरबियत
*(4)* बा-सलाहियत मोअ़ल्लिमात के ज़रिए टीचिंग
*(5)* कम फ़ीस में उम्दा क्वालिटी
*(6)* पर्दा दारी का मुकम्मल ख़्याल
*(7)* अ़रबी स्पीकिंग/ टीचिंग के लिए अ़रबी में पीएचडी ख़ुसूसी मुअ़ल्लिमा का इंतज़ाम।

जो भाई भी इस पुर फ़ितन ज़माने में अपनी मेहरम रिश्ते दार ख़वातीन को आ़लिमा कोर्स करवाना चाहते हैं, जो करवाना भी चाहिए, या जो भी इस्लामी बहन आ़लिमा कोर्स करना चाहती हैं, वो ऊपर दिए गए लिंक पर क्लिक करके अपनी/ स्टूडेंट की डिटेल्स भर दें।

*संयोजक:-* हज़रत मौलाना डॉक्टर ग़ौस मोहम्मद अज़हरी
असिस्टेंट प्रोफेसर: दि इंग्लिश एंड फॉरेन लैंग्वेज यूनिवर्सिटी, हैदराबाद

*निगरां:-* हज़रत मौलाना मुफ़्ती ख़ालिद अयूब मिस्बाही
चेयरमैन: तहरीक उलमा ए हिंद, शेरानी आबाद

*एडमिशन की आख़िरी तारीख़:- 31 मई 2023*

राब्ता नंबर:- मोहम्मद अरबाज़ रज़ा क़ादरी
+91 97727 97875

ज़ेरे एहतमाम:- *तहरीक उलमा ए हिंद*
Social Media Links:-
(1) TUH Web:- www.tuhind.in
(2) TUH Email:- [email protected]
(3) TUH page links👇*
https://facebook.com/tuhindoffice
(4) TUH Twitter Account*👇
https://twitter.com/tuhindoffice
(5) TUH INSTAGRAM ACCOUNT👇*
https://Instagram.com/tuhindoffice
(6) TUH Telegram Channel👇*
https://t.me/tuhindoffice
(7) TUH YouTube Channel Link 👇*
https://www.youtube.com/c/TahreekTV

Online Darse Nizami For Female (Aalima Course) Me Addmission Ke Liye Details

 #रमज़ान_हेल्पलाइनके तहत  #दैनिक_भास्कर  #नागौर &  #जयपुर में  के चैयरमेन &  के संस्थापक सेक्रेट्री  #मुफ्ती   #मिस्बाही...
24/03/2023

#रमज़ान_हेल्पलाइन
के तहत #दैनिक_भास्कर #नागौर & #जयपुर में के चैयरमेन & के संस्थापक सेक्रेट्री #मुफ्ती #मिस्बाही #शेरानी से हुए #इस्लामी सवाल/ जवाब पढ़ें और शेयर करें।

السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ*कुर्बानी* करना हर साहिबे निसाब पर वाजिब हैलेकिन बहुत सारे ज़हनों में यह ख़्याल पाया जा...
23/06/2022

السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ

*कुर्बानी* करना हर साहिबे निसाब पर वाजिब है

लेकिन
बहुत सारे ज़हनों में यह ख़्याल पाया जाता है कि एक घर से एक बकरे की *कुर्बानी* काफ़ी हो जाती है

जबकि
शरई तौर पर इससे वाजिब अदा नहीं होता

ऐसे में
कम दामों में ज़िम्मेदारी के साथ अपने सर से वाजिब अदा करने के लिए

*इज्तेमाई कुर्बानी*

में हिस्सा ले सकते हैं।

तफसील के लिए WhatsApp/ Call करें:-

-खालिद अयूब मिस्बाही शेरानी
Phonepe/ Google pay/ Paytm
+919828049081

08/06/2022

سفر نامہ عرب کی 12/ویں قسط:

تحریر:- *خالد ایوب مصباحی شیرانی*
چیرمین: تحریک علمائے ہند، راجستھان

*کاش! ہمارے پاس کئی بشارت صدیقی ہوتے*

7/ اپریل جمعرات کو ہم قبل افطار مکہ مکرمہ سے جدہ پہنچے اور 10/ اپریل تک یہیں قیام رہا۔ کرم فرما خلیل خان نے ہمارے انتظام میں تمام شیرانی بھائیوں کی افطار پارٹی رکھی تھی، جس کی بدولت ہماری تمام بھائیوں سے یکجا ملاقات ہو گئی۔
ہم نے یہ پایا کہ خلیل خان عرف کے کے صاحب کا یہاں مقیم ہمارے بھائیوں پر قائدانہ سا اثر ہے۔ سب کو محبت کے ساتھ مربوط رکھنا، سب کا خیال رکھنا، سب سے یاری دوستی نبھانا اور پردیس میں اپنائیت کا احساس دلانا جسیم بدن کے باوجود متحرک کردار والے اس انسانیت دوست کی پہچان تھی۔
جدہ کے متعلق یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ ہمارے حاجیوں کی جائے نزول بھی ہے اور مکہ مکرمہ کا ایرپورٹ بھی۔ ہاں یہ بتایا جانا چاہیے کہ جس طرح جدہ میں حاجیوں کے قافلے اترتے ہیں، اسی طرح وہاں تاجروں کا بھی ورود ہوتا ہے۔ پرانے انداز کا نیا شہر جو جدید اور قدیم دونوں رنگتوں کا بھرپور مزہ دے۔
کے کے صاحب کے جسم کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ متحرک کردار کے حامل ہوں گے لیکن جب اٹھاؤ، بھرپور جوش کے ساتھ اٹھتے ہیں اور جتنا کوئی نحیف بدن نہیں چل پاتا، اس سے زیادہ ایکٹیو ہو کر چلتے ہیں، نہ خود تھکتے ہیں، نہ اپنے ساتھیوں کو تھکنے دیتے ہیں۔
ہمیں اپنی پوری ٹیم کے ساتھ بن لادن کیمپ لے گئے، جہاں ہمارے کئی عزیز رہتے ہیں۔ یہ کیمپ کیا ہے؟ عام طور پر عرب بھر میں پائی جانے والی پردیسیوں کی نئی بستی ہے۔ دو دو تین تین منزلہ عارضی رہائش گاہیں جو فائبر کے چھپروں سے بنائی گئی ہیں، سستے داموں میں ایک مدت تک کام نکال دیتی ہیں اور پھر بھی نقل و حمل کی پوری گنجائش رہتی ہے۔
شہر کا چکر لگاتے ہوئے ہمارا گزر شاہی ایئرپورٹ سے بھی ہوا۔ ہمیں پتہ چلا کہ ایسے ایئرپورٹ ہر بڑے شہر میں بنائے گئے ہیں، جن کا واحد استعمال کبھی کبھی اس شہر میں بادشاہ سلامت کا نزول اجلال ہوتا ہے۔
جدہ کا ٹھیک ٹھاک حصہ سمندر کو ٹچ کرتا ہے۔ یہیں کنارے پر بادشاہ کا شاہی محل بنا ہوا ہے، جس پر تبصرے کی ضرورت نہیں۔ محل سے متصل سمندر کے اندر فوارہ نما پانی کا مینار سا بنایا گیا ہے، جس پر مسلسل مینار کی طرح پانی چڑھتا اور اترتا رہتا ہے۔ اس مینار آب کو ہم نے رات میں بہت دور سے چمکتا دیکھا، اگر کے کے صاحب نے اس کی درج بالا تفصیل نہ بتائی ہوتی تو ہمیں بھی بنا قریب گئے محض ایک خوب صورت روشنی کا گمان رہتا۔
سمندر کے کنارے پر ایک نہایت خوب صورت ہوٹل بنایا گیا ہے، جس کے نیچے سمندر کا پانی گزرتا ہے اور جنت تجری تحتھا الانھار کا نقشہ پیش کرتا ہے۔
حکومت عرب جدہ شہر کی غیرمعمولی توسیع اور تحسین چاہتی ہے، جس کے لیے ایک بڑے جگر گردے والا کام یہ کیا گیا ہے کہ قدیم شہر کی گھنی آبادی والے اندرونی حصے کے کئی کلومیٹر ایریا کو ملبے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس پروجیکٹ کو جدہ پروجیکٹ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کی مکمل شکل تو آنے والا زمانہ اپنی آنکھوں سے دیکھے گا، البتہ ہم نے جو ملبہ دیکھا تو سریوں کے انبار سے ایسا لگا جیسے کھیتوں میں درختوں کی چھنگائی کے بعد لکڑیوں کے بڑے بڑے ڈھیر پڑے ہیں۔ کہیں دور تک صاف سپاٹ میدان پڑا ہے، کسی کونے پر سریوں کے آڑے ترچھے ڈھیر ہیں اور کہیں اینٹ گارے کا ٹوٹا بکھرا چورن ہے۔ اس توڑے ہوئے حصے کے علاوہ اطراف و جوانب کا خاصا علاقہ تھا، جس کی شکست و ریخت ابھی باقی ہے، بجلی کنکشن کاٹ دیے گئے ہیں اور ایک ویرانی سی ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ ہم نے ان اندھیری کالونیوں کو غور سے دیکھا تو ترس آنے لگا۔ کچھ بلڈنگیں ایسی تھیں، جن کی تازگی دور سے صاف ہویدا تھی۔
میلوں کو محیط اس پرانے شہر کو ایک فیصلے پر یوں اتھل پتھل کر دینے کی ہمت عرب حکمرانوں کی ہی ہو سکتی ہے اور اس کے لیے سچ مچ بڑا کلیجہ چاہیے۔
جدہ میں گھومتے ہوئے، ہمارا گزر ایک مسجد سے متصل اس قتل گاہ سے بھی ہوا، جہاں غیرت مند عرب میں قتل کی سزا کے لائق لوگوں کو جلادوں کے ہاتھوں بر سر بازار ان کے آخری بھیانک انجام تک پہنچایا جاتا تھا۔
اس سے کچھ آگے چل کر ہم نے وہ مقفل احاطہ بھی دیکھا جو دنیا کی پہلی خاتون اور ہم سب کی ماں حضرت سیدہ حوا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آخری آرام گاہ ہے۔ مقفل ہونے کی وجہ سے پس دیوار سے ہی فاتحہ پڑھنا مجبوری رہی۔
جدہ کا انڈسٹریل ایریا خاصا پھیلاؤ رکھتا ہے جبکہ جدہ کا عمومی رنگ شہر بمبئی کی طرح ہے، گھنی آبادی اور ایک حد تک آج کے عرب کی بو نہ دینے والا پرانے طرز کا پرانا سا شہر۔
جدہ میں ہمارے لیے سب سے زیادہ خوش گوار لمحہ وہ تھا جب ہماری ملاقات بشارت بھائی صدیقی اشرفی حیدر آبادی سے ان کے فلیٹ پر ہوئی۔ عرب میں ورود کے ساتھ ہی ہم دونوں وہاٹس ایپ کے ذریعے رابطے میں تھے اور ملاقات پلان کر رہے تھے، جو آخر ایک شام کی علمی افطاری پر مکمل ہوئی۔
بشارت بھائی سے کوئی سات سالوں سے رابطہ ہے، جب ماہ نامہ احساس کا دور تھا اور جامعہ اشرفیہ کے شعبہ تربیت تدریس سے وابستگی۔ بشارت بھائی کے مطابق ان کے لیے ہمارے تعارف کا ذریعہ رسالے کی ندرت اور ہندی زبان رہی۔ ان کا ماننا ہے کہ ہندی زبان میں اسلامیات پر خاصا کام ہونا چاہیے، جو نہیں ہو سکا، آپ نے ماہ نامہ احساس کے ذریعے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی اور اس پر رسالہ کا معیار سہاگہ۔
بشارت بھائی کے احساس کو سلام کرنے کو جی چاہتا تھا، جو گفتگو گفتگو میں حافظ اشرف اور خلیل خان صاحبان کے سامنے ہماری فکر کو لفظوں کا پیرہن دیتے جا رہے تھے۔
اس نیت سے کہ ممکن ہے ہم خیال احباب مل جائیں مناسب لگتا ہے کہ ہم یہاں اپنی فکر روئیں۔ ہندی وہ بھارتی زبان ہے جو مہاراشٹر، گجرات، اترپردیش، بہار، جھارکھنڈ، راجستھان، اڑیسہ، دہلی، پنجاب، ہریانہ ہماچل پردیش، اترا کھنڈ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ وغیرہ کوئی آدھم آدھ بھارت کی ترجمان کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس ناحیہ سے کہ گجرات اور مہاراشٹر وغیرہ جہاں وہاں کی علاقائی زبان ہی بول چال اور تعلیم کی زبان ہے، وہاں بھی ہندی کو سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں ایک ایسی زبان جو ملک کی اتنی بڑی آبادی کی دعوتی ترجمان ہو، کیا اس میں اسلامیات پر خاطر خواہ ذخیرہ نہیں ہونا چاہیے؟
شاید حساس قارئین کو یہ سن کر دھچکا لگے کہ عام اسلامی لٹریچر اور کتب حدیث و فقہ کو چھوڑیے صرف ترجمے کی حد تک دیکھا جائے تب بھی کلام الٰہی قرآن مجید کا بھی جماعتی سطح پر کلام الرحمن نامی صرف ایک ترجمہ ہے، جو آل رسول حضرت سید حسنین میاں نظمی مارہروی علیہ الرحمہ نے کیا اور بس۔ جبکہ اس علمی پروجیکٹ کا قابل غور پہلو یہ ہے کہ چوں کہ ہندی لے دے کر بھارت کے انھی علاقوں کی زبان ہے اس لیے اس میں اسلامیات پر جو کام ہو سکتا ہے، بہرصورت اسی علاقے میں ہو سکتا ہے، کیوں کہ نہ یہ انگریزی کی طرح عالمی زبان ہے کہ اسلامی جگت میں کہیں بھی کام ہونے کی گنجائش ہو اور نہ اردو کی ہی طرح قدرے وسیع کہ پاکستان جیسے ملکوں میں بھی کام ہو سکے۔
الحمد للہ رب العالمین ادارہ قرآن کے پاس ہندی میں اسلامیات پر لمبے چوڑے کام کا پروجیکٹ تیار ہے، خواہش مند/ درد مند/ ضرورت مند/ حوصلہ مند/ رضا کار رابطہ کر سکتے ہیں۔
افطار سے قبل افطار کی پر تکلف تیاریوں کے ساتھ شدہ شدہ رسمی گفتگو ہوتی رہی اور بعد افطار وہ مستقل علمی بزم سجی کہ یاد رہے گی۔
بشارت بھائی نہ با ضابطہ روایتی عالم دین ہیں اور نہ مدرسوں میں دو دن گزارے لیکن بفضلہ تعالیٰ وہ گہرا علمی ذوق، شوق، لگن، مطالعہ اور فکر پائی ہے کہ دوران گفتگو خاصے پڑھے لکھوں کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیں بالکل ٹھیک اس فقہی قضیے کا مجسم جو اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے یوں لکھا ہے:
سندکوئی چیز نہیں، بہتیرے سند یافتہ محض بے بہرہ ہوتے ہیں اور جنھوں نے سند نہ لی، ان کی شاگردی کی لیاقت بھی ان سند یافتوں میں نہیں ہوتی، علم ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔ مفتیان کامل کے بعض صحبت یافتہ کہ ظاہری درس وتدریس میں پورے نہ تھے مگرخدمت علمائے کرام میں اکثر حاضر رہتے اور تحقیق مسائل کا شغل ان کا وظیفہ تھا، فقیر نے دیکھا ہے کہ وہ مسائل میں آج کل کے صدہا فارغ التحصیلوں بلکہ مدرسوں بلکہ نام کے مفتیوں سے بدرجہا زائد تھے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 23)
خود نے اپنے احوال ذکر کرتے ہوئے بتایا: جب میں انٹر میں تھا، تبھی میرے کتابی شوق کا حال یہ تھا کہ اپنی پاکٹ منی سے کتابیں چھاپتا تھا۔
بشارت بھائی کے مرشد طریقت اور میرے مرشد اجازت حضرت شیخ الاسلام سید مدنی میاں صاحب ان کے متعلق فرماتے ہیں: بشارت جناتی آدمی ہے جانے کہاں سے نسخے تلاش کر نکالتا ہے، کن کن سے کام کروا لیتا ہے اور کیسا کیسا سخت ترین کام بھی کر گزرتا ہے۔ اگر ہم بشارت کو جنات نہ بھی کہیں تو ان جناتی خوبیوں کو ان کے اندر ضرور مانتے ہیں۔
یقیناً اللہ تعالیٰ نے ان کے ان علمی کاموں میں خوب برکتیں ارزاں فرمائی ہیں۔ جیسے ان کی بلند فکری اور اخلاص ہے کہ وہ پرانے اور نام دار ارباب قلم سے زیادہ نئی علمی صلاحیتوں کو میدان فراہم کرنے کا مزاج رکھتے ہیں اور انھیں غیر شعوری تربیت دیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ان علمی کاموں کے پیچھے تقریباً نوجوان نسل ہے، ویسے ہی اللہ تعالیٰ نے ان کے تعلقات میں بھی غیر معمولی برکتیں عطا فرمائی ہیں۔ ہند و پاک کا شاید ہی کوئی مشہور قلمی چہرہ ایسا ہوگا، جو ان کے نام و کام سے براہ راست متعارف، متاثر اور وابستہ نہ ہو اور عاجزی یہ ہے کہ ان تعلقات کو نبھانے کی پہل بشارت بھائی کی طرف سے ہی ہوتی ہے۔ اردو کے علاوہ عربی اور انگریزی دنیا کے عالمی اکیڈمک ارباب علم و قلم سے گہرے مراسم ان اردو تعلقات پر مستزاد۔
بشارت بھائی کی وہ خوبی جو ان اشاعتی کاموں میں انھیں سب سے ممتاز کرتی ہے، یہ ہے کہ وہ یہ پورا کام اپنے ذاتی پیسوں سے کرتے ہیں اور اپنی جاب کے بعد باقی اوقات اسی میں لگے رہتے ہیں۔
سن 2007 میں میلاد النبی ﷺ کے موضوع پر انگریزی میں دار الاسلام فاؤنڈیشن کے تحت بشارت بھائی کی پہلی کتاب شائع ہوئی اور 2010 میں ادارہ اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن قائم ہوا، جس کے تحت اردو کتابیں شائع ہوتی ہیں۔ اس وقت سے جو پاکیزہ سلسلہ چلا، اس کے تحت اب تک ان کی کوششوں سے 100/ سے زائد اسلاف کرام کی کتابوں اور رسالوں کے عربی سے اردو میں ترجمے کیے جا چکے ہیں۔ ان کی تحریک پر 40/ سے زائد نئی اربعینات تیار کی جا چکی ہیں اور 20/ سے زیادہ اربعینات کا عربی سے اردو میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ 100/ سے زیادہ اردو اور 20/ سے زیادہ انگریزی کتابیں اور رسالے شائع کر چکے ہیں جبکہ انگریزی میں جن کتب و رسائل کا ترجمہ ہوا ہے، ان کی تعداد بھی 100/ سے زائد ہے، جن میں مسند امام اعظم ابو حنیفہ سب سے اہم قرار دی جا سکتی ہے۔
پہلے سر کھپا کے اپنے ذاتی ذوق سے یہ تلاش کرنا کہ کس موضوع پر کام کروایا جانا چاہیے؟ یا کس کتاب کا ترجمہ کیا جانا چاہیے؟ یا ترجمہ ہونا ہے تو اردو میں ہونا چاہیے یا انگریزی میں؟ کتاب لکھی جانی چاہیے تو کس نوعیت کی؟ موضوع کے انتخاب کے بعد اس کی مکمل خاکہ نگاری، اس کے بعد اس کے لیے مناسب فرد کا تعین، اس تعین کے بعد منتخب فرد کی مکمل علمی اور قلمی معاونت، کام کی تکمیل کے بعد حسب ضرورت کتاب کی ٹائپنگ اور مکمل پروف ریڈنگ۔ 380/ کتابوں کی تحریک/ تالیف/ تخریج/ تجدید/ تحقیق/ ترجمہ/ تحشیہ وغیرہ کے یہ چار سطروں میں ذکر کردہ 35/ سالہ حیدر آبادی نوجوان بشارت صدیقی کے وہ جاں کاہ کام ہیں، جو پچھلے 15/ سالوں سے تقریباً بنا تکان جاری ہیں اور جن کاموں کے کے تسلسل کا ایک بڑا حصہ ہنوز عزم و راز ہے۔
ان تفصیلات سے اہل علم نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ سچ مچ بشارت بھائی کے کام جناتی ہیں۔ جن کاموں کے لیے کبھی کبھار زندگیاں ناکافی ہوتی ہیں، وہ یہ کر چکے ہیں یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک بڑے ادارے کے کام بشارت بھائی کا اخلاص تن تنہا کر رہا ہے۔
بشارت بھائی نے پہلے سے ملاقات کے لیے کتابیں سجا رکھی تھیں، افطار کے بعد ان کا ڈھیر لے آئے۔ اتنی گنجائش نہ تھی کہ کسی ایک کتاب کا بھی تفصیل سے مطالعہ کیا جا سکے، اس لیے سر ورق دیکھتے اور ایک کتاب کی تین چار جگہوں سے ورق گردانی کرتے ہوئے بھی جب عشا کا وقت ہو چلا تو مجبوری تھی کہ اپنے رفقا کا خیال رکھتے ہوئے چلا جائے اور بشارت بھائی کو الوداعی سلام کیا جائے۔
اس بات کا افسوس رہے گا کہ دونوں کی شدید خواہشوں کے باوجود اس شہر میں دوبارہ ملاقات نہ ہو سکی البتہ بشارت بھائی سے سنجیدہ اور علمی ملاقات کا اختتامیہ ہمارے کے کے صاحب کے اس غائبانہ جملے پر کتنا دل چسپ ہوا، کے کے صاحب جب سگریٹ پی پلا کر اور انتظار کرتے کرتے تھک گئے تو سیڑھیوں سے اترنے کے بعد حافظ صاحب سے مارواڑی میں کہنے لگے: *اے مولصاب گیلا (پاگل) ہے، کتاباں لکھن میں ہی آپ کی (اپنی) زندگی برباد کر دی۔*
حافظ صاحب نے جب ہم سے خلیل خان کا یہ تاثر بیان کیا تو تمام سنجیدگی بھول کر بے ساختہ ہنسی چھوٹ گئی اور آج بھی جب یہ جملہ حاشیہ خیال میں گزرتا ہے، ویسے ہی لبوں پر مسکراہٹ کھیلنے لگتی ہے، جیسے ابھی آپ مسکرا رہے ہیں۔ (جاری)

Address

Jaipur

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Duniya posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share