05/05/2026
منشیات ہمارے معاشرے کے لیے ایک خطرناک ناسور بن چکی ہیں۔ یہ نہ صرف انسان کی صحت کو تباہ کرتی ہیں بلکہ اس کے اخلاق، کردار اور مستقبل کو بھی برباد کر دیتی ہیں۔ اسلام ایک پاکیزہ اور متوازن زندگی کا درس دیتا ہے اور ہر اس چیز سے منع کرتا ہے جو انسان کے لیے نقصان دہ ہو۔ منشیات بھی انہی چیزوں میں شامل ہیں جنہیں دینِ اسلام نے سختی سے حرام قرار دیا ہے۔
منشیات کا استعمال انسان کی عقل کو مفلوج کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ صحیح اور غلط میں فرق کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ نشہ انسان کو گناہوں کی طرف لے جاتا ہے اور اس کی شخصیت کو تباہ کر دیتا ہے۔ ایک نشے کا عادی شخص نہ صرف اپنی زندگی برباد کرتا ہے بلکہ اپنے گھر والوں اور پورے معاشرے کے لیے بھی مسائل پیدا کرتا ہے۔
آج کل نوجوان نسل اس لعنت کا زیادہ شکار ہو رہی ہے، جو کہ ایک انتہائی تشویشناک بات ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں بری صحبت، بے روزگاری، اور دینی و اخلاقی تربیت کی کمی شامل ہیں۔ اگر ہم نے بروقت اس مسئلے پر قابو نہ پایا تو ہمارا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
منشیات کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب مل کر کوشش کریں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں اور ان پر نظر رکھیں۔ علماء کرام اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ منشیات کے نقصانات سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس کے خلاف سخت قوانین نافذ کرے۔
*جنرل سکریٹری دعوت منہاج الاسلام ٹرسٹ*