31/05/2026
فیضان بابو کے والد کو برا بھلا نہ کہیں
تمام اہل گروپ و دیگر سوشل میڈیا یوزر سے گزارش ہے کہ مولانا امتیاز صاحب عرف آتش گوپال گنجوی صاحب کے تعلق سے حسن ظن رکھیں، وہ جس ذہنی پریشانی سے گزر رہے ہیں اس کا اندازہ انہیں لوگوں کو ہو سکتا ہے جو اس طرح کے حالات سے گزرے ہوں۔ ایک طرف اکلوتے لخت جگر کی گمشدگی دوسری طرف اترپردیش پولس انتظامیہ کا رویہ اور ان کے سوالات و جوابات کا سامنا اور اب ان لوگوں کا طعن و طنز جو کل تک ان کے صاحبزادے کی خیریت کو لیکر بے تابی کا اظہار کر رہے تھے، اتنا آسان نہیں ہے کہ انسان نارمل رہے۔
اگر انہوں نے ایسے لوگوں کا "اداکاری" کے ساتھ اور "پیشہ وارانہ" انداز میں شکریہ ادا نہیں کیا تو ان کا سیخ پا ہونا ان کے مثبت ذہن کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔
میں نے آتش صاحب کی اپنے لخت جگر کی خیریت ملنے کے بعد پہلی وڈیو بھی دیکھا تھا جس میں ایسی کوئی خاص بات نہیں تھی جس پر اتنا واویلہ مچا دیا گیا، چند لوگوں کے ذریعے سے بنائے گئے بیانیہ کو ابھی بھی خوب جم کر شیئر کیا جارہا ہے۔
خدارا دوسروں کے بنائے ہوئے بیانیہ سے متأثر ہونے سے بچیں۔
آتش صاحب سے گزارش ہے کہ کچھ دنوں کے لیے سوشل میڈیا سے خود کو دور کرلیں اور حکومت و انتظامیہ کے لوگوں سے مضبوط ذہن کے ساتھ آئینی تعاون کریں۔ اور اپنے گھروالوں کے ساتھ سکون کا وقت گزاریں۔
علامہ عرفان ازہری چھپروی کی تحریر،جمآعت رضاۓ مصطفی واٹشآپ گروپ سے کاپی پیسٹ
عبد الغنی رضوی