Syed Sadatullah Husaini

Syed Sadatullah Husaini Ameer (President) of Jamaat-e-Islami Hind
Writer, Scholar and Community Leader

انسانوں کے درمیان رحمت و محبت کے گہرے برادرانہ تعلقات اسلامی تہذیب کی امتیازی خصوصیات میں سے ہیں۔ دیگر فلسفہ ہائے حیات ا...
08/11/2025

انسانوں کے درمیان رحمت و محبت کے گہرے برادرانہ تعلقات اسلامی تہذیب کی امتیازی خصوصیات میں سے ہیں۔ دیگر فلسفہ ہائے حیات اور خاص طور پر مغربی ورلڈ ویو سماج کوایک ایسے میدان کارزار میں بدل دیتا ہے جہاں افراد ذاتی مفادات کے حصول کی بے رحم مسابقت میں مصروف رہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اسلام ایک ایسے سماج کا تصور دیتا ہے جس میں ہر فرد دوسرے کے ساتھ اخوت، محبت، ہم دردی، تعاون اور تکافل کے رشتے سے بندھا ہوتا ہے۔ انسانی تعلقات کی اسلامی اسکیم میں خاندان اور خونی و ازدواجی رشتوں کی بڑی اہمیت ہے اور اس کے معًا بعد اسلام ‘پڑوس’ کو بھی رشتے کی ایک اہم اساس قراردیتا ہے۔ اسلام کے نزدیک پڑوسی اتفاقی طور پر قریب آجانے والا اجنبی اور ایسا بوجھ نہیں ہے جسے گوارا کرنا ہے بلکہ اللہ کی تفویض کردہ امانت اور ہمارے ایمان کا امتحان ہے اور ایک مبارک وسیلہ ہے جو صبح و شام کی ہماری عام مصروفیاتِ زندگی کو، اللہ کی عبادت اور نیکیوں میں بدل سکتا ہے۔ پڑوسیوں کی ایک چھوٹی سی آبادی محض ایک رہائشی انتظام نہیں ہے بلکہ مثالی اسلامی سماج کی ایک اکائی ہے۔

اسلامی تمدن کی پرورش گاہ (nursery)ہے۔ پڑوس محض اینٹوں اور پتھروں کا بے جان مجموعہ نہیں ہے بلکہ رحماء بینھمکے پاکیزہ جذبے سے دھڑکتے دلوں کی وہ زندہ بستی ہے جہاں ہر مسکراہٹ صدقہ ہے، ہر خدمت نیکی ہے اور تعاون و اشتراک کا ہر عمل عبادت ہے۔ اکیسویں صدی کے طرز حیات نے انسانوں کو بند دروازوں کے پیچھے تنہائیوں میں دھکیل دیا ہے۔ اسلام گھروں اور دلوں کے دروازے کھول کر اجنبیوں کو اخوت کے گہرے رشتے میں جوڑدیتا ہے۔ گلیوں اور راہداریوں کو انس ومحبت کی پناہ گاہوں میں تبدیل کرتا ہے۔ پڑوسیوں کے گھروں کے درمیان کی دیواروں کو اجنبیت، لاتعلقی، بے حسی اور سرد مہری کی فصیلوں میں نہیں بلکہ تعاون و اشتراک کے پلوں میں دیکھتا ہے۔

[مکمل مضمون کمنٹ سیکشن میں]

آر ایس ایس کی صد سالہ تاریخ کے موضوع پر ہفت روزہ دعوت کے مدیر محترم ڈاکٹر فہیم الدین احمد کو دیا گیا تفصیلی انٹرویو۔[PDF...
16/10/2025

آر ایس ایس کی صد سالہ تاریخ کے موضوع پر ہفت روزہ دعوت کے مدیر محترم ڈاکٹر فہیم الدین احمد کو دیا گیا تفصیلی انٹرویو۔

[PDF link in comment section]

گزشتہ ماہ تعلیمی اداروں کے اساسی تصورات پر گفتگو کرتے ہوئے اس وضاحت کی کوشش کی گئی تھی کہ تعلیمی ادارے کیسے اسلام کے منف...
05/10/2025

گزشتہ ماہ تعلیمی اداروں کے اساسی تصورات پر گفتگو کرتے ہوئے اس وضاحت کی کوشش کی گئی تھی کہ تعلیمی ادارے کیسے اسلام کے منفرد تصورِتعلیم کی عملی شہادت پیش کرسکتے ہیں اور اس کے لیے نصاب، نظام اور اداروں کے بنیادی ڈھانچے کی کس قسم کی تشکیل مطلوب ہے۔ اس ماہ ہندوستان کے پس منظر میں اس مسئلے کے عملی پہلوؤں کو ہم زیر بحث لائیں گے اور اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کریں گے کہ یہاں کے مخصوص حالات میں ان تصورات کو روبہ عمل لانے کی کیا شکلیں ممکن ہیں؟

قانونی و دستوری پس منظر
بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ گزشتہ مضمون میں تعلیم کے عمل کو اسلام کی قدروں سے ہم آہنگ کرنے کی جو بات کہی گئی تھی، ہمارے ملک کا دستور اقلیتوں کو اس کا پورا حق دیتا ہے۔ یہ عمل عین دستور اور قانون کے مطابق ہے۔ دستور ہند کی دفعہ 30 اقلیتوں کو اپنی پسند کے مطابق تعلیمی ادارے قائم کرنے اور آزادانہ اُن کا انتظام کرنے کا حق دیتی ہے۔ اسی دفعہ کی شق 3 میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ اس طرح کے تہذیبی مقاصد کے لیے قائم اقلیتی ادارے دیگر اداروں کے برابر سرکاری امداد کے مستحق ہوں گے۔

[مکمل مضمون کمنٹ سیکشن میں]

اسلامی فلاحی اداروں  کی کام یابی اور تاثیر کے لیے ایک اور اہم صفت جو درکار ہے وہ اختراع و ایجاد اور تخلیقی صلاحیت (innov...
06/08/2025

اسلامی فلاحی اداروں کی کام یابی اور تاثیر کے لیے ایک اور اہم صفت جو درکار ہے وہ اختراع و ایجاد اور تخلیقی صلاحیت (innovation and creativity) ہے۔ اداروں ہی میں نہیں بلکہ یہ صفت تو ہر میدان میں غیر معمولی ترقی کے لیے درکار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا بنائی ہی اس طرح ہے کہ اس میں ہر آن تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں اور ہر لحظہ، نئے آئیڈیا اور نئی تدبیروں و ترکیبوں کا تقاضا کررہا ہے۔ اس لیے سماجی کام ہویا صنعت و تجارت، سیاست ہو یا دعوت و تحریک ہر محاذ پر اختراع و ایجاد کی ضرورت مسلسل پیش آتی رہتی ہے۔ آگے بڑھنا ان ہی لوگوں کے لیے ممکن ہوتا ہےجو نئی راہوں اور نت نئے طریقوں کی تلاش میں مستقل مصروف رہتے ہیں،زمانے کی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ان تبدیلیوں کے مطابق اپنے اندر بھی تبدیلیاں لاتے ہیں۔ ان کے اندر زمانہ کی تبدیلیوں کو محسوس کرنے اور اس کے مطابق تیزی سے خود کو بدلنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ تبدیلی ان کے لیے ایک آسان اور فطری عمل ہوتا ہے۔

[مکمل مضمون کمنٹ سیکشن میں۔ ایڈمن]

29/07/2025
اس سلسلہ مضامین کا مرکزی موضوع یہ ہے کہ فلاحی ادارے کس طرح اسلام کی شہادت کا موثر ذریعہ بن سکتے ہیں؟ کچھ اصولی باتوں پر ...
06/07/2025

اس سلسلہ مضامین کا مرکزی موضوع یہ ہے کہ فلاحی ادارے کس طرح اسلام کی شہادت کا موثر ذریعہ بن سکتے ہیں؟ کچھ اصولی باتوں پر گفتگو کے بعد اسلامی تاریخ کے ادارہ جاتی کاموں کے ماڈل کے طور پر ہم وقف کے ادارے کو زیر بحث لاچکے ہیں۔ علاوہ ازیں، شفاخانوں، رفاہ عام کے اداروں اور علمی و تحقیقی اداروں پر الگ الگ قسطوں میں تفصیل سے گفتگو ہوچکی ہے۔ اس سلسلے کے اگلے حصے میں مالیاتی اداروں اور تعلیمی اداروں پر گفتگو پیش نظر ہے اور ان کے علاوہ ‘دیگر اداروں’ کے عنوان سے مختلف النوع شعبوں سے تعلق رکھنے والے اداروں کو بھی زیر بحث لانے کا ارادہ ہے۔ ان شاء اللہ۔

لیکن اس دفعہ الگ الگ شعبوں سے متعلق اداروں کی بحث کے سلسلے کو ملتوی کرکے اداروں کے نظم و انتظام سے متعلق کچھ گذارشات ہم پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ان گذارشات کا تعلق تمام طرح کے اداروں سے ہے۔

[مکمل مضمون کی لنک کمنٹ سیکشن میں۔ ایڈمن]

گذشتہ مہینے تحقیقی اداروں اور فکر گاہوں سے متعلق کچھ اصولی باتوں پر گفتگو ہوئی تھی۔ ان اداروں کےسلسلے میں پانچ امور کو ا...
05/06/2025

گذشتہ مہینے تحقیقی اداروں اور فکر گاہوں سے متعلق کچھ اصولی باتوں پر گفتگو ہوئی تھی۔ ان اداروں کےسلسلے میں پانچ امور کو اسلام کے بنیادی اصولوں اور اساسی قدروں کی حیثیت سے پیش کیا گیا تھا اور کچھ ایسے تاریخی نمونوں اور ماڈلوں کی بھی پیش کش ہوئی تھی جن سے پتہ چلتا ہے کہ ان اصولوں کو ہماری تاریخ کے روشن ادوار میں کس طرح برتا گیا اور تحقیقی ادارے اور فکر گاہیں کس طرح کام کرتی رہیں۔ اس ماہ اس موضوع کے عملی پہلو کو زیر بحث لایا جارہا ہے یعنی یہ کہ ہمارے زمانے میں اس طرح کے کاموں اور اداروں کی موجودہ صورتِ حال کیا ہے؟ اس صورتِ حال کے اسباب کیا ہیں؟ ہونا کیا چاہیے؟ اور کیسے اس مطلوب کی طرف بڑھا جاسکتا ہے؟

[مکمل مضمون کمنٹ سیکشن میں]

فلاحی اداروں کے ذریعے اسلام کی عملی شہادت کے مرکزی موضوع کے تحت آج ہم اُن اداروں کو زیر بحث لائیں گے جن کا مقصد علمی تح...
16/05/2025

فلاحی اداروں کے ذریعے اسلام کی عملی شہادت کے مرکزی موضوع کے تحت آج ہم اُن اداروں کو زیر بحث لائیں گے جن کا مقصد علمی تحقیقات اور فیصلہ سازی و پالیسی سازی میں علمی معاونت ہے۔یعنی تحقیقی ادارے (research centres) اور فکر گاہیں (think tanks)۔ تحقیقی اداروں سے ہماری مراد وہ ادارے ہیں جوعلم کے مختلف شعبوں میں نئے علوم کی پیداوار knowledge production) )کا کام کرتے ہیں اور فکر گاہوں (think tanks) سے مراد وہ ادارے ہیں جو سرکاروں ، تنظیموں، قیادتوں ،تجارتوں کو اور دیگر اہم فیصلہ سازوں کو علمی مشاورت فراہم کرتے ہیں، یعنی پالیسیوں کی تشکیل و ترمیم ، حکمت عملی کی تعیین اور بڑی فیصلہ سازی میں علمی کمک بہم پہنچاتے ہیں۔

اسلامی تحریک بنیادی طور پر ایک فکری و نظریاتی تحریک ہے اوراس کے پیش نظر ایک متبادل تمدن کی صورت گری اور اس کی تشکیل اور اس کا ارتقا ہے۔ اس لیے ان دونوں طرح کے اداروں کی اس کے لئے بڑی اہمیت ہے۔ اس سلسلہ مضامین میں اختیار کردہ طریقِ کار کے مطابق پہلے ہم اس حوالے سے اسلام کے بنیادی اصولوں یا اساسی قدروں (core values)کو پیش کریں گے، پھر اسلامی تہذیبی روایات کے حوالوں سے یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ہماری تاریخ کے روشن ادوار میں ان اداروں کے کام کا طریقہ کیا رہا اور انھوں نے کیسے اسلام کی قدروں کا عملی نمونہ پیش کیا ۔ آخر میں ہمارے زمانے میں ان اداروں کے مطلوبہ کردار کے سلسلےمیں کچھ گذارشات پیش کی جائیں گی۔

[مکمل مضمون کی لنک کمنٹ سیکشن میں۔ ایڈمن]

اسلامی ادارہ سازی: رفاہی ادارے فلاحی اداروں کے ذریعے اسلام کی عملی شہادت اس سلسلہ مضامین کا مرکزی موضوع ہے۔ اس کے تحت اس...
03/05/2025

اسلامی ادارہ سازی: رفاہی ادارے


فلاحی اداروں کے ذریعے اسلام کی عملی شہادت اس سلسلہ مضامین کا مرکزی موضوع ہے۔ اس کے تحت اس ماہ ہم رفاہی اداروں اور ان کے کردار کو زیر بحث لائیں گے۔ رفاہی کام (charity work)سے یہاں ہماری مراد وہ منظم اجتماعی سرگرمیاں ہیں جو بلامعاوضہ، رضاکارانہ طریقوں سے،ضرورت مند انسانوں کی مدد و خدمت اور ان کی حاجتوں کو رفع كرنے کے لیے انجام دی جاتی ہیں۔ ان سرگرمیوں کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس سلسلہ مضامین میں دیگر عنوانات کے تحت جن کاموں اور خدمات کوزیر بحث لایا جارہا ہے (مثلاً گذشتہ ماہ کا مضمون : شفاخانے) ان کا بڑا حصہ بھی رفاہی کام ہی ہیں لیکن آج ہم ایسے عام کاموں کو زیر بحث لارہے ہیں جن کا احاطہ ادارہ جاتی کاموں کے دیگر بڑے محاذوں کے تحت نہیں ہورہا ہے اور جن کا اصل ہدف غریبوں اور محتاجوں کی بنیادی ضروریات زندگی (livelihood)کی تکمیل ہوتا ہے۔

موجودہ دورمیں بڑی رضاکارانہ تنظیموں (NGOs)کے ساتھ، شہری اور محلہ جاتی سطح کے ادارے، خانہ دار خواتین کی انجمنیں، ہاؤسنگ سوسائٹیاں، سروس کلب (مثلاً روٹری کلب، لائنس کلب وغیرہ) نوجوانوں کی ویلفیر تنظیمیں، وظیفہ یابوں اور چہل قدمی کرنے والوں کی اسوسی ایشنیں (walkers associations)کارپوریٹ کمپنیوں کے رفاہی مراکز، مذہبی مقامات اور مذہبی ادارے و تنظیمیں وغیرہ جیسے طرح طرح کےاجتماعی گروہ رفاہی خدمات انجام دیتے ہیں۔ مسلمانوں میں بھی مذکورہ بالا نوعیت کے اداروں کے ساتھ،مساجد، درگاہوں،خانقاہوں وغیرہ سے منسلک ادارے، دینی انجمنیں وغیرہ بھی رفاہی کاموں میں مصروف ہیں۔ تحریکات اسلامی کے کاموں کا دنیا بھر میں یہ ایک اہم محاذ ہےاور ہمارے ملک میں بھی تحریک اسلامی ہمیشہ ان کاموںمیں پیش پیش رہی ہے۔ یہ کام کس طرح اسلام کی عملی شہادت کے اور اسلام کی روشنی میں متبادل پالیسیوں اورسماجی معمولات (social norms)کے فروغ کا ذریعہ بنائے جاسکتے ہیں؟ اس پر ذیل کی سطروں میں کچھ معروضات پیش کی جارہی ہیں۔

[مکمل مضمون کی لنک کمنٹ سیکشن میں۔]

23/04/2025

Address

Hyderabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syed Sadatullah Husaini posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Syed Sadatullah Husaini:

Share