08/11/2025
انسانوں کے درمیان رحمت و محبت کے گہرے برادرانہ تعلقات اسلامی تہذیب کی امتیازی خصوصیات میں سے ہیں۔ دیگر فلسفہ ہائے حیات اور خاص طور پر مغربی ورلڈ ویو سماج کوایک ایسے میدان کارزار میں بدل دیتا ہے جہاں افراد ذاتی مفادات کے حصول کی بے رحم مسابقت میں مصروف رہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اسلام ایک ایسے سماج کا تصور دیتا ہے جس میں ہر فرد دوسرے کے ساتھ اخوت، محبت، ہم دردی، تعاون اور تکافل کے رشتے سے بندھا ہوتا ہے۔ انسانی تعلقات کی اسلامی اسکیم میں خاندان اور خونی و ازدواجی رشتوں کی بڑی اہمیت ہے اور اس کے معًا بعد اسلام ‘پڑوس’ کو بھی رشتے کی ایک اہم اساس قراردیتا ہے۔ اسلام کے نزدیک پڑوسی اتفاقی طور پر قریب آجانے والا اجنبی اور ایسا بوجھ نہیں ہے جسے گوارا کرنا ہے بلکہ اللہ کی تفویض کردہ امانت اور ہمارے ایمان کا امتحان ہے اور ایک مبارک وسیلہ ہے جو صبح و شام کی ہماری عام مصروفیاتِ زندگی کو، اللہ کی عبادت اور نیکیوں میں بدل سکتا ہے۔ پڑوسیوں کی ایک چھوٹی سی آبادی محض ایک رہائشی انتظام نہیں ہے بلکہ مثالی اسلامی سماج کی ایک اکائی ہے۔
اسلامی تمدن کی پرورش گاہ (nursery)ہے۔ پڑوس محض اینٹوں اور پتھروں کا بے جان مجموعہ نہیں ہے بلکہ رحماء بینھمکے پاکیزہ جذبے سے دھڑکتے دلوں کی وہ زندہ بستی ہے جہاں ہر مسکراہٹ صدقہ ہے، ہر خدمت نیکی ہے اور تعاون و اشتراک کا ہر عمل عبادت ہے۔ اکیسویں صدی کے طرز حیات نے انسانوں کو بند دروازوں کے پیچھے تنہائیوں میں دھکیل دیا ہے۔ اسلام گھروں اور دلوں کے دروازے کھول کر اجنبیوں کو اخوت کے گہرے رشتے میں جوڑدیتا ہے۔ گلیوں اور راہداریوں کو انس ومحبت کی پناہ گاہوں میں تبدیل کرتا ہے۔ پڑوسیوں کے گھروں کے درمیان کی دیواروں کو اجنبیت، لاتعلقی، بے حسی اور سرد مہری کی فصیلوں میں نہیں بلکہ تعاون و اشتراک کے پلوں میں دیکھتا ہے۔
[مکمل مضمون کمنٹ سیکشن میں]