06/01/2026
*صرف نیت اچھی ہونا کافی نہیں !*
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
*نہی عن المنکر سے ہماری مجرمانہ غفلت !*
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
زاہد نام کا ایک شخص پیدل حج کا ارادہ کرکے گھر سے نکلا ، سوائے مختصر سامان سفر کے اور کچھ ساتھ نہ تھا ، اخلاص اتنا کہ نہ اس کے جانے کا نہ کسی کو پتہ ، نا کوئی شور نا کوئی ہنگامہ ۔ بس اللہ کو دل سے راضی کرنے نکل پڑا ۔ کچھ دور جانے کے بعد راستہ میں ایک شخص خالد سے ملاقات ہوئی ، علیک سلیک کے بعد باہم تعارف ہوا، بتایا کہ حج کے لئے جارہاہوں ، دونوں طرف سے جذباتی گفتگو ،اور دعاؤں کی گذارشات پھر ملاقات ختم ،اس کے بعد زاہد اپنا سامان اٹھائے حج کیلئے چلنے لگا۔
خالد نے کہا: بھائی آپ حج کیلئے جارہے ہیں تو یہ راستہ نہیں ، دوسرا راستہ ہے۔
زاہد: نہیں بھائی یہی راستہ ہے ۔
خالد ـ: نہیں محترم ! آپ غلط راستے پر جارہے ہیں ۔ میں اگر چہ ابتک حج کیلئے نہیں گیا مگر اس راستہ سے واقف ہوں ۔
دونوں ایک دوسرے سے راستے کے بارے میں تکرار کرتے رہے۔ سچ یہی تھا کہ زاہد جو راستہ اختیار کررہا تھا وہ بیت اللہ کو نہیں جاتا تھا۔ مگر وہ خالد کی بات ماننے کو تیار نہیں تھا اور خالد بھی اس کو اپنی بات منوانے پر اصرار کررہا تھا۔اتنے میں تیسرا شخص راشد آیا۔
راشد نے کہا : کیا ہوا صاحبان ! آپ دونوں کس بات پر جھگڑرہے ہیں؟
خالد : جی ! یہ زاہد صاحب ہیں ، حج کیلئے گھر سے نکلے ہیں مگر غلط راستہ اختیا ر کررہے ہیں۔ میں ہزار سمجھاتا ہوں ، مانتے ہی نہیں۔
راشد: کیوں زاہد صاحب ! آپ ان کی بات کیوں نہیں مانتے ؟
زاہد: کیوں مانوں؟ مجھے جو معلوم ہے وہی سچ ہے۔
راشد: دیکھو خالد بھائی ! مجھے بھی معلوم ہے کہ وہ غلط راستے پر جارہے ہیں مگر ذرا یہ تو سوچو کہ بندہ نے حج کا ارادہ کیا ہے ،یہی بڑی بات ہے، ایسے زمانے میں آخر حج کیلئے کون ہمت کرتا ہے، آپ ان کے حوصلہ و ارادہ کی داد دیجئے ، آپ کیوں خواہ مخواہ ان کے راستے کے پیچھے پڑے ہیں؟ آپ اپنا کام کیجئے، اگر آپ کو راستہ پتہ ہے تو خود چلے جائیے ۔
خالد: ارے راشد بھائی ! عجیب آدمی ہوآپ ، یہ آدمی اتنے نیک راستے پر نکلا ہے مگر بھٹک جانے کا ڈر ہے،اور آپ ہیں کہ مجھے ہی خاموش کررہے ہیں۔
راشد: خالد بھائی ! اگر آپ کو صحیح راہ دکھانے کی اتنی ہی ہمدردی ہے تو شراب پینے والوں کے پاس جاؤ! سوخوروں اور دھوکہ بازوں کے پاس جاؤ، انہیں راہ دکھاؤ، کیوں اس بیچارے کے پیچھے پڑے ہو، وہ غلط راستے پر جارہا ہو گا مگر اس کی نیت تو بہت اعلیٰ ہے اور مقصد بھی بہت عظیم ہے۔
خالد: راشد بھائی ! آپ کی سوچ پر افسوس ہے۔ شرابیوں ، دھوکہ بازوں کے پاس بھی ضرور جانا چاہئے ،انہیں بھی صحیح راہ دکھانا چاہئے ، مگر بُرے لوگ جو بُرا کام کررہے ہیں کم ازکم وہ برے کو برا تو مان رہے ہیں۔ اور یہ زاہد صاحب حج کیلئے نکلے ہیں اور غلط راستے کو صحیح سمجھ بیٹھے ہیں ۔ذرا بتلائیے! میری اور آپ کی ہمدردی کے یہ زیادہ مستحق ہیں یا وہ برے لوگ ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو دوستو ! اس تحریر سے یہ بتانا مقصود ہے کہ
عمل خواہ کتنا ہی نیک اور کتنے ہی اخلاص پر مبنی ہو مگر راستہ صحیح ہونا ضروری ہے۔
صحیح راستہ بتانے والے فرد کو صرف تنقید کرنے والا سمجھ کر نظر انداز کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔
کوئی معمار اگر عمارت کی خامیوں پر چشم پوشی کرلے تو یہ خیانت ہے ۔
نیز اگر بروقت عمارت کی خامیاں دور نہ کی گئیں تو پھر عمارت بہت جلد زمیں بوس ہوجائے گی ، خواہ اس کا معمار کتنا ہی تجربہ کار اور اس کا مکین کتنا ہی طاقتور ہو۔
آج کل بہت سے لوگ خلاف شرع کام کرتے ہیں۔ ممکن ہے وہ مخلص بھی ہوں مگر یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان کو روکے ٹوکے نہیں۔ان کے کام کو غلط نا کہے، وہ اپنی مصلحت کو اپنے فہم سے شریعت پر مقدم کردیتے ہیں۔ جب کہ شریعت میں اس مصلحت اور اس فہم کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ حد تو یہ ہے کہ اب بہت سے اصحاب جبہ و دستار کو سیدھے سادھے یا اصول پسند بندےقبول نہیں، نہ ان کے حلقہ میں نہ ان کے اطراف میں ۔ ایسے لوگوں سے ایک خوبصورت جملہ سننے کو ملتا ہے کہ ایسے لوگ اگر ساتھ ہوں گے تو کام نہیں ہوگا۔ صحیح ہے ایسے لوگ نہ ہونے سے کام تو ہوجائے گا مگر عنداللہ اس کام کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔
(ہاں اگر صحیح کام پر بھی تنقیدیں کرنے والے افراد ساتھ ہوں تو پھر انہیں کنارے رکھنا ہی عقلمندی ہے ) لیکن اگر غلط کاموں پر نکیر کرنا کسی کو ناپسند لگنے لگے تو اس کی مثال اس مرحوم باپ کی محروم اولاد سی ہے جس کو کوئی روکنے اور ٹوکنے والا نہیں ہوتا ، یا پھر اس بے مہار چوپایہ کی ہے جو دوسرے کی کھیتیوں میں منہ ڈالنے لگتا ہے ۔
واقعہ یہ ہے کہ قرآن میں امر بالمعروف کا جہاں جہاں ذکر ہے وہیں نہیں عن المنکر کا بھی ذکر ہے، اور حدیث میں جو وھن والی وعید بتائی گئی ہے اس میں بھی نہی عن المنکر کا ذکر موجود ہے۔افسوس یہ ہے کہ اب عوام اور اصاغر کو تو چھوڑئیے ، نہی عن المنکر کے فریضہ سے (خاکم بدہن)بہت سے اکابر کی بھی غفلت بڑھتی جارہی ہے۔ اب حال یہ ہوگیا ہے کہ بے پردگی ، شادی بیاہ کی ناجائز رسمیں، فضول خرچیاں ، ناج گانے ،موسیقی ،زناکاری و بدکاری ، فسق و فجور تو قابل اصلاح نظر آتے ہیں اور اس پر خوب جلسے اور لمبی لمبی تقریریں بھی ہوتی ہیں مگر یہی خلاف شرع کام جھوٹ ،دھوکہ ،غیبت ، چغلخوری ، دجل و فریب ، عہدوں کا شاطرانہ حصول ، ایک دوسرے پر تہمتیں ، ایک دوسرے کا دل میں بغض ، یہ سب جب اپنے حلقہ احباب یا فریق مخالف کے افراد کرنے لگتے ہیں تو پھر نہی عن المنکر کا فریضہ یکسر فراموش ہوجاتا ہے بلکہ بعض تو خود بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ اس میں شریک نظر آتے ہیں۔ خوب جان لیجئے کہ جس طرح عوام کے درمیان نہی عن المنکر ضروری ہے ایسے ہی خواص کے درمیان بھی ضروری ہے، ہاں انداز تخاطب اور فرق مراتب کا لحاظ ضرور ہو مگر نہی عن المنکر کے فریضہ میں سب داخل ہیں۔
فإنما اهلك الناس قبلكم انهم كانوا إذا سرق فيهم الشريف تركوه، وإذا سرق فيهم الضعيف اقاموا عليه الحد (بخاری 4304) رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم سے پہلی قومیں اس لئے برباد ہوئیں جب ان کا کوئی بڑا امیر و کبیر جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی معمولی سا آدمی جرم کرتا تو اسے سزا دی جاتی۔ (مفتی مقبول احمد مفتاحی کے وال سے)