Salam times islamic world

Salam times islamic world Given a message to all my lovely brothers & sisters

10/04/2026
27/03/2026

The heyday of Baghdad was 1,200 years ago when it was the thriving capital of the Muslim civilisation. For about 500 years the city boasted the cream of intellectuals and culture, a reputation gained during the reigns of some of its most famous Caliphs (Al-Rashid, Al-Ma’mun, Al-Mu’tadhid and Al-Muktafi).

As one of the world’s biggest and richest cities at the time, Baghdad had wealth that went far beyond money. For more than two centuries, it was home to the House of Wisdom, an academy of knowledge that attracted brains from far and wide. From mathematics and astronomy to zoology, the academy was a major centre of research, thought and debate in Muslim Civilisation.

In the House of Wisdom, translators, scientists, scribes, authors, men of letters, writers, authors, copyists and others used to meet every day for translation, reading, writing, scribing, discourse, dialogue and discussion. Many manuscripts and books in various scientific subjects and philosophical concepts and ideas, and in different languages were translated there.

A wide range of languages including Arabic, Farsi, Aramaic, Hebrew, Syriac, Greek and Latin were spoken and read at the House of Wisdom.

“The House of Wisdom: How Arabic Science Saved Ancient Knowledge and Gave Us the Renaissance” by Jim Al Khalili
“The House of Wisdom: How the Arabs Transformed Western Civilization” by Jonathan Lyons
“The House of Wisdom” by Florence P. Heide and Judith H. Gilliland
“House of Wisdom” by Carmel Reilly
“Bayt Al-Hikma and the Intellectual Movement During the Time of Caliph Al-Ma’mūn” by David Edward Atkinson
And “1001 Inventions: Uncovering The Enduring Legacy of Muslim Civilization” National Geographic, edited by Professor Salim Al-Hassani

ميں قرآن ميں کہاں ہوں ؟---------------ایک جليل القدر تابعی اور عرب سردار احنف بن قيس ايک دن بيٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے يہ ...
22/01/2026

ميں قرآن ميں کہاں ہوں ؟
---------------
ایک جليل القدر تابعی اور عرب سردار احنف بن قيس ايک دن بيٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے يہ آيت پڑھی

❤️ لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (سورۃ انبياء 10)
(ترجمہ) ”ہم نے تمہاری طرف ايسی کتاب نازل کی جس ميں تمہارا تذکرہ ہے، کيا تم نہيں سمجھتے ہو“۔

وہ چونک پڑے اور کہا کہ ذرا قرآن مجيد تو لاؤ۔ اس ميں، ميں اپنا تذکرہ تلاش کروں، اور ديکھوں کہ ميں کن لوگوں کے ساتھ ہوں، اور کن سے مجھے مشابہت ہے؟

انہوں نے قرآن مجيد کھولا، کچھ لوگوں کے پاس سے ان کا گزر ہوا، جن کی تعريف يہ کی گئی تھی

كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ o وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ o وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ِ (الذريٰت-17،18،19)
(ترجمہ) ”رات کے تھوڑے حصے ميں سوتے تھے، اور اوقات سحر ميں بخشش مانگا کرتے تھے، اور ان کے مال ميں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا“۔

کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا،
تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (السجدہ۔ 16)
(ترجمہ) ”ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہيں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُميد سے پکارتے ہيں۔ اور جو (مال) ہم نے ان کو ديا ہے، اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔

کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا،
❤️ وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا (الفرقان۔ 64)
(ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ کرکے اور (عجز وادب سے) کھڑے رہ کر راتيں بسر کرتے ہيں“۔

اور کچھ لوگ نظر آئے جن کا تذکرہ اِن الفاظ ميں ہے،
الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاء وَالضَّرَّاء وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (اٰل عمران۔ 134)
(ترجمہ) ”جو آسودگی اور تنگی ميں (اپنا مال خدا کي راہ ميں) خرچ کرتے ہيں، اور غصہ کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہيں، اور خدا نيکو کاروں کو دوست رکھتا ہے“۔

اور کچھ لوگ ملے جن کی حالت يہ تھی،
وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر۔ 9

(ترجمہ) ”(اور) دوسروں کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہيں خواہ ان کو خود احتياج ہی ہو، اور جو شخص حرص نفس سے بچا ليا گيا تو ايسے ہی لوگ مُراد پانے والے ہوتے ہيں“۔

اور کچھ لوگوں کی زيارت ہوئی جن کے اخلاق يہ تھے،
وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (الشوريٰ۔ 37)
(ترجمہ) ”اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حيائی کی باتوں سے پرہيز کرتے ہيں، اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کر ديتے ہيں“۔

وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (الشوريٰ۔ 38)
(ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہيں اور نماز پڑھتے ہيں، اور اپنے کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہيں اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمايا ہے اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔

وہ يہاں پہنچ کر ٹھٹک کر رہ گئے، اور کہا : اے اللہ ميں اپنے حال سے واقف ہوں، ميں تو ان لوگوں ميں کہیں نظر نہيں آتا!

پھر انہوں نے ايک دوسرا راستہ ليا، اب ان کو کچھ لوگ نظر آئے، جن کا حال يہ تھا،
إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ o وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوا آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍ (سورہ صافات۔ 35،36)
(ترجمہ) ”ان کا يہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئي معبود نہيں تو غرور کرتے تھے، اور کہتے تھے، کہ بھلا ہم ايک ديوانہ شاعر کے کہنے سے کہيں اپنے معبودوں کو چھوڑ دينے والے ہيں؟

پھر اُن لوگوں کا سامنا ہوا جن کی حالت يہ تھی،
وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ (الزمر۔45)
(ترجمہ) ”اور جب تنہا خدا کا ذکر کيا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ايمان نہيں رکھتے انکے دل منقبض ہو جاتے ہيں، اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کيا جاتا ہے تو اُن کے چہرے کھل اُٹھتے ہيں“۔

کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب پوچھا گيا،
مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ o قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ o وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ o وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ oوَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ o حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ (المدثر۔ 47-42)
(ترجمہ) ”کہ تم دوزخ ميں کيوں پڑے؟ وہ جواب ديں گے کہ ہم نماز نہيں پڑھتے تھے اور نہ فقيروں کو کھانا کھلاتے تھے اور ہم جھوٹ سچ باتيں بنانے والوں کے ساتھ باتيں بنايا کرتے اور روز جزا کو جھوٹ قرار ديتے تھے، يہاں تک کہ ہميں اس يقيني چيز سے سابقہ پيش آگيا“۔

يہاں بھی پہنچ کر وہ تھوڑی دير کے لئے دم بخود کھڑے رہے۔ پھر کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا: اے اللہ! ان لوگوں سے تيری پناہ! ميں ان لوگوں سےبری ہوں۔

اب وہ قرآن مجيد کے اوراق کو ا لٹ رہے تھے، اور اپنا تذکرہ تلاش کر رہے تھے، يہاں تک کہ اس آيت پر جا کر ٹھہرے:
وَآخَرُونَ اعْتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُواْ عَمَلاً صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (التوبہ۔ 102)
(ترجمہ) ”اور کچھ اور لوگ ہيں جن کو اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار ہے، انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا ديا تھا قريب ہے کہ خدا ان پرمہربانی سے توجہ فرمائے، بے شک خدا بخشنے والا مہربان ہے“۔

اس موقع پر اُن کی زبان سے بے ساختہ نکلا، ہاں ہاں! يہ بے شک ميرا حال ہے۔

( محدث ابو عبداللہ محمد بن نصر مروزی بغدادی کی کتاب قيام الليل سے ايک عبرت انگيز قصہ)

Assalamualaikum wr wbपवित्र कमरा। धरती पर सबसे सम्मानित दफ़न जगह।यहीं पर पैगंबर ﷺ आराम करते हैं। और उनके बगल में, उनके द...
05/01/2026

Assalamualaikum wr wb
पवित्र कमरा। धरती पर सबसे सम्मानित दफ़न जगह।

यहीं पर पैगंबर ﷺ आराम करते हैं। और उनके बगल में, उनके दो सबसे करीबी साथी – अबू बक्र RA और उमर RA।

👉 पैगंबर ﷺ को क़िबला की तरफ़ मुँह करके दफ़नाया गया है। अबू बक्र RA उनके पीछे लेटे हैं, उनका सिर पैगंबर ﷺ के कंधों के बराबर है। उमर RA अबू बक्र RA के पीछे लेटे हैं, उनका सिर अबू बक्र के कंधों के बराबर है।

👉 यह कमरा असल में आयशा RA का कमरा था – जहाँ पैगंबर ﷺ ने अपने आखिरी दिन बिताए, उनका सिर उनकी गोद में था जब उनकी रूह अल्लाह के पास लौट रही थी। और यहीं उन्हें दफ़नाया गया था।

अबू बक्र RA ने अपने प्यारे साथी के बगल में दफ़नाए जाने की गुज़ारिश की। उनकी इच्छा पूरी की गई।
जब सालों बाद उमर RA शहीद हुए, तो आयशा RA ने वह जगह छोड़ दी जो उन्होंने अपने लिए रखी थी – ताकि वह भी उनके बगल में आराम कर सकें।

तीन आदमी। तीन सबसे अच्छे दोस्त। हमेशा के लिए साथ-साथ।

👉 हरा गुंबद हमेशा हरा नहीं था। पहले इस पर पेंट नहीं था, फिर यह सफेद हो गया – इसे सिर्फ़ 1837 CE में ऑटोमन युग के दौरान हरा रंग दिया गया। आज, यह मदीना की सबसे जानी-मानी निशानियों में से एक है।

जब आप जाएँ, तो पैगंबर ﷺ के शब्दों को याद रखें:

“कोई भी मुझ पर सलाम नहीं भेजता, लेकिन अल्लाह मेरी रूह को मुझे वापस कर देगा ताकि मैं उसका सलाम लौटा सकूँ।” [अबू दाऊद, 2041]

आप सिर्फ़ एक कब्र पर नहीं जा रहे हैं। आप उसे सलाम कर रहे हैं जो आपको वापस सलाम करेगा।

अल्लाह हम सभी को वहाँ खड़े होने का सम्मान दे।


Address

Delhi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Salam times islamic world posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Salam times islamic world:

Share