Ahel e Bait e Athar Hussainiat

Ahel e Bait e Athar Hussainiat اہلبیت اطہر حسینت علیہم السلام

  ،   مخلوق، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل کے بعد انسانیت کا امام ہوں۔ماخذ: میزان الحکمۃالإمام علي علیہ السلام)أن...
29/05/2026


،
مخلوق، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل کے بعد انسانیت کا امام ہوں۔

ماخذ: میزان الحکمۃ
الإمام علي علیہ السلام)

أنا حجة الله، وأنا خليفة الله، وأنا صراط الله، وأنا باب الله، وأنا خازن علم الله، وأنا المؤتمن على سر الله، وأنا إمام البرية بعد خير الخليقة محمد نبي الرحمة (صلى الله عليه وآله).

المصدر ميزان الحكمة

゚viralシ ゚

25/05/2026


۸ ذی الحجہ ۶۰ ہجری — قافلۂ حسینی کی مکہ سے کربلا روانگی

نواسۂ رسول ﷺ، امام حسین علیہ السلام نے حج کو عمرے میں تبدیل کرکے اپنے اہلِ خانہ اور جانثار اصحاب کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے کربلا کی جانب سفر کا آغاز فرمایا، جو تاریخِ اسلام کے عظیم ترین واقعہ، واقعۂ کربلا پر منتج ہوا۔
یزید بن معاویہ نے اقتدار سنبھالتے ہی تمام اسلامی علاقوں کے گورنروں کو حکم دیا کہ امام حسین علیہ السلام سے زبردستی بیعت لی جائے۔ امام حسینؑ نے کھلے الفاظ میں ظلم، فسق اور فاجر حکمران کی بیعت سے انکار فرمایا۔
اس سے قبل امام حسینؑ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تشریف لائے تھے۔ مکہ میں آپؑ تقریباً چار ماہ قیام پذیر رہے۔ اس دوران اہلِ کوفہ کی جانب سے ہزاروں خطوط موصول ہوئے جن میں امامؑ کو عراق آنے کی دعوت دی گئی اور مکمل نصرت و حمایت کا یقین دلایا گیا۔
جب امام حسینؑ مکہ میں موجود تھے تو یزیدی حکومت نے خفیہ طور پر قاتلوں کو بھیجا تاکہ حج کے دوران امامؑ کو شہید کیا جائے۔ یہ خطرناک منصوبہ امام حسینؑ تک پہنچا، اور یہ واضح ہوگیا کہ اگر آپؑ مکہ میں رہ کر حج مکمل کرتے ہیں تو خانۂ کعبہ کی حرمت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس لیے امام حسینؑ نے حج کو عمرے میں تبدیل فرمایا اور ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے روانگی اختیار کی۔

جب امام حسین علیہ السلام مکہ سے روانہ ہوئے تو قافلے میں یہ عظیم شخصیات شامل تھیں:
اہلِ بیتؑ
حضرت عباس علیہ السلام — لشکر کے علمبردار اور محافظِ خیام
حضرت علی اکبر علیہ السلام — نوجوانانِ بنی ہاشم کے سردار
حضرت قاسم بن حسن علیہ السلام
امام زین العابدین علیہ السلام — بیماری کی حالت میں قافلے کے ساتھ
حضرت عون بن عبداللہ
حضرت محمد بن عبداللہ
حضرت علی اصغر علیہ السلام — شیر خوار طفل
حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا
حضرت زینب سلام اللہ علیہا
حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا
حضرت رباب سلام اللہ علیہا
حضرت لیلیٰ سلام اللہ علیہا

اصحابِ باوفا
حضرت حبیب ابن مظاہر — بزرگ صحابی اور امامؑ کے وفادار ساتھی
حضرت مسلم بن عوسجہ — ابتدا کے جانثار، شدید زخمی ہو کر بھی وفادار رہے
حضرت زہیر بن قین — راستے میں شامل ہو کر کامل وفا اختیار کی
حضرت بُریر بن خضیر — عابد و زاہد اور مجاہدِ راہِ حق
حضرت نافع بن ہلال — شجاع محافظِ امامؑ
حضرت جون — غلام ہونے کے باوجود عشقِ اہلِ بیتؑ میں شہید
حضرت حنظلہ بن اسعد — حق کا پیغام بلند کرنے والے
حضرت عابس بن ابی شبیب — بے مثال شجاعت کے مالک
حضرت قیس بن مسہر — امامؑ کے پیغامبر، راستے میں شہید
حضرت عبداللہ بن یقطر
حضرت حر بن یزید ریاحی — ابتدا میں دشمن لشکر کے کمانڈر، بعد میں حق پہچان کر امامؑ کے ساتھی اور شہید
حضرت سعید بن عبداللہ حنفی — نماز کے وقت ڈھال بن کر شہید ہوئے
حضرت وہب بن عبداللہ — والدہ اور زوجہ سمیت قربان ہوئے
حضرت انس بن حارث — صحابیٔ رسول ﷺ، نصرتِ امامؑ کے لیے آئے
حضرت حجاج بن مسروق — اذان دینے کی سعادت حاصل کی
حضرت سوید بن عمرو — شدید زخمی حالت میں بھی لڑتے رہے
حضرت ابو ثمامہ صائدی — نمازِ ظہر کی یاد دہانی کرائی

روایات میں آتا ہے کہ جب قافلۂ حسینی مکہ سے روانہ ہوا تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا اپنے بھائی امام حسینؑ کے ہمراہ تھیں، جبکہ حضرت عباس علیہ السلام قافلے کی حفاظت پر مامور تھے۔

روانگی کے وقت امام حسینؑ نے فرمایا:
میں نہ سرکشی کے لیے نکلا ہوں، نہ فساد کے لیے، نہ ظلم کے لیے، بلکہ اپنے نانا ﷺ کی امت کی اصلاح کے لیے نکل رہا ہوں۔

اور ایک مقام پر فرمایا:
“جو ہمارے ساتھ جان دینے کے لیے تیار ہے، وہ ہمارے ساتھ چلے

السلام علیک یا اباعبداللّٰہ الحسینؑ
السلام علی الحسینؑ و علی علی بن الحسینؑ و علی اولاد الحسینؑ و علی اصحاب الحسینؑ

゚viralシ ゚ ゚

⁉️  ⁉️ " ِسنت___ہیں_کہنے_والوں_سے_سوال ‼️امام حسینؑ اور شہدائے کربلاؑ کے قاتلین میں اگر عبداللہ ابنِ عمر ابن خطاب کو شام...
24/05/2026

⁉️
⁉️ " ِسنت___ہیں_کہنے_والوں_سے_سوال ‼️

امام حسینؑ اور شہدائے کربلاؑ کے قاتلین میں اگر عبداللہ ابنِ عمر ابن خطاب کو شامل کیا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا
کیونکہ عمر بن خطاب کے بیٹے نے نا فقط یزید بن معاویہ کی بیعت کی تھی بلکہ یزید بن معاویہ کی بیعت کے لیے تبلیغ بھی کی اور جو شخص یزید بن معاویہ کی بیعت سے منھ موڑتا تھا تو اس کو ک۔ا۔ف۔ر بھی کہتا تھا

جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے نافع کہتے ہیں:

👈یزید بن معاویہ کے دور حکومت میں جب حرہ کے واقعے میں جو ہوا سو ہوا (یعنی جو اہلِ مدینہ سے ظلم ہوا) تو حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب عبداللہ بن مطیع کے پاس گئے ، اس نے کہا : ابن عمر کے لیے گدا بچھاؤ ۔ ابن عمر نے کہا: میں اس لیے تمہارے پاس نہیں آیا ، میں تمہارے پاس ( صرف ) اس لیے آیا ہوں کہ تم کو ایک حدیث سناؤں جو میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی ،

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے ( مسلمانوں کے حکمران کی ) اطاعت سے ہاتھ کھینچا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں حاضر ہو گا کہ اس کے حق میں کوئی دلیل نہ ہو گی اور جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں کسی ( مسلمان حکمران ) کی بیعت نہیں تھی تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا ۔‘‘

📚حوالہ[صحیح مسلم 4793]

گویا ابنِ عمر کے نزدیک یزید ل کی بیعت نا کرنا ک۔ف۔ر اور جہالت تھا اور جن صحابہ نے یزید ل کی بیعت نہیں کی تھی انہیں عمر کا بیٹا ک۔ا۔ف۔ر اور جاہل سمجھتا تھا
اب اُن اہلِ سنت سے سوال ہے جو آج یہ کہتے پھرتے ہیں "ہم تو حسینی ہیں"
ہمارا سوال ہے کہ آپ کس منہ سے حسینی سے ہیں؟
جن لوگوں نے یزید کا ساتھ دیا اور یزید سے منھ موڑنے والے کو ک۔ا۔ف۔ر اور جاہل کہا وہ بھی آپ کے نزدیک "رضی اللہ" ہیں🤔

اور جو یزید اور ابنِ عمر کے ہاتھوں قتل ہوئے وہ بھی رضی اللہ ہیں!!

کیا بروزِ محشرِ رسالتِ مابﷺوآلہ کو یہ کہو گے

یارسول اللہﷺوآلہ ہم آپ کی اہلبیتؑ کے قاتلوں کو بھی رضی اللہ کہتے تھے اور آپ کی اولاد کو بھی!
جواب عنایت کیجئے۔!؟!؟
゚ ゚viralシ ゚

🔰 *🔰🔰 *فرمانِ امیرالمومنین مولا علی علیہ الصلٰوۃ والسّلام* 🔰 ❣️👉 *❣️👈 *میں علی علیہ الصلٰوۃ والسّلام ہی مومن کی نماز ہوں...
23/05/2026

🔰 *🔰

🔰 *فرمانِ امیرالمومنین مولا علی علیہ الصلٰوۃ والسّلام* 🔰
❣️👉 *

❣️👈 *میں علی علیہ الصلٰوۃ والسّلام ہی مومن کی نماز ہوں*
❣️👉 *

❣️👈 *میں علی علیہ الصلٰوۃ والسّلام ہی حی علٰی الصلٰوۃ ہوں*

❣️👉 *

❣️👈 *میں علی علیہ الصلٰوۃ والسّلام ہی حی علٰی الفلاح ہوں*

❣️👉 *

❣️👈 *میں علی علیہ الصلٰوۃ والسّلام ہی حی علٰی خیرالعمل ہوں*

🌳 *قال علي (ع)...أَنَا صَلَاةُ الْمُؤْمِنِ أَنَا حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ أَنَا حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ أَنَا حَيَّ عَلَى خَيْرِ الْعَمَلِ*

📚 *حوالہ جات:*
*📕الفضائل، شاذان بن جبرئيل القمي‌، صفحه 84*
*📗حلية الأبرار في أحوال محمد و آله الأطهار (ع)، السيد هاشم البحراني، جلد 2، صفحه 124*
*📙مجمع النورين، الشيخ أبو الحسن المرندي، صفحه 227*
*📘سر الصلاة (معراج السالكين و صلاة العارفين)، آغا خميني، صفحه 144*
゚viralシ ゚ ゚

 : محمد بن الحنفیہ اسی رات امام حسین علیہ السلام کے پاس آئے جس رات امام حسین علیہ السلام نے فجر کے وقت مکہ سے روانگی کا ...
23/05/2026

: محمد بن الحنفیہ اسی رات امام حسین علیہ السلام کے پاس آئے جس رات امام حسین علیہ السلام نے فجر کے وقت مکہ سے روانگی کا ارادہ کیا۔ انہون نے ان سے کہا: "اے میرے بھائی، آپ اپنے والد اور اپنے بھائی کے ساتھ اہل کوفہ کی خیانت سے بخوبی واقف ہیں، مجھے ڈر ہے کہ آپ کا انجام بھی آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی طرح ہو، اگر آپ نے یہیں رہنا مناسب سمجھا تو آپ حرم کے اندر رہنے والوں میں سب سے زیادہ عزت والے اور محفوظ ترین ہیں۔" الحسین نے جواب دیا: "اے میرے بھائی، مجھے ڈر ہے کہ یزید بن معاویہ مجھے یہیں حرم کے اندر قتل کر دے، اس طرح مجھے وہ آلہ بنا دے جس کے ذریعے اس مقدس گھر کی حرمت کو پامال کیا جاتا ہے۔" ابن حنفیہ نے پھر مشورہ دیا: "اگر یہ خوف ہے تو یمن یا بیابان کے کسی دور دراز علاقے کی طرف چلو، وہاں تم سب لوگوں سے زیادہ محفوظ ہو گے، اور کوئی تم پر ہاتھ نہیں اٹھا سکے گا۔" الحسین نے جواب دیا: "میں آپ کی تجویز پر غور کروں گا۔" تاہم فجر کے وقت الحسین علیہ السلام اپنے سفر پر روانہ ہوئے۔ جب اس کی خبر ابن الحنفیہ تک پہنچی تو وہ جلدی سے الحسین کے پاس پہنچا جو اس وقت تک اپنی اونٹنی پر سوار ہو چکا تھا اور اس کی لگام پکڑ لی تھی۔ اس نے کہا: اے میرے بھائی، کیا تم نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ جو معاملہ میں نے تمہارے سامنے رکھا ہے اس پر غور کرو گے؟ الحسین نے جواب دیا: "واقعی، میں نے کیا۔" ابن حنفیہ نے پوچھا: پھر آپ کو اتنی عجلت میں جانے پر کس چیز نے مجبور کیا؟ الحسین نے جواب دیا: "جب میں نے تم سے علیحدگی اختیار کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل خانہ نے رویا میں مجھے دیکھا اور فرمایا: "اے حسین، آگے بڑھو، کیونکہ اللہ نے تم کو قتل ہوتے دیکھنا چاہا ہے۔" یہ سن کر محمد بن حنفیہ نے کہا: "لیکن اگر ہم اللہ ہی کی طرف لوٹ جائیں گے، تو ہم اللہ کی طرف لوٹ جائیں گے۔" ان عورتوں کو اپنے ساتھ لے جانے کا کیا مطلب ہے، جب تم ایسے سنگین حالات میں نکل رہی ہو؟" حسین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے گھر والوں نے مجھ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو اسیر ہوتے دیکھنا چاہا ہے۔" اس کے بعد ابن حنفیہ نے اسے رخصت کیا، اور حسین رضی اللہ عنہ اپنے راستے پر چل پڑے۔
------
*اللحف*، ص. 39; *بحار الانوار*، جلد 1۔ 44، ص۔ 364.
سید الشہداء علیہ السلام سنٹر فار اسلامک ریسرچ کے ذریعہ ترمیم شدہ اور تصدیق شدہ۔
عن أحمد بن داود القمي، عن أبي عبد الله (ع) قال: جاء محمد ابن الحنفية إلى الحسين (ع) في الليلة التي أراد الحسين الخروج في صبيحتها عن مكة فقال له: يا أخي إن أهل الكوفة قد عرفت غدرهم بأبيك وأخيك، وقد خفت أن يكون حالك كحال من مضى، فان رأيت أن تقيم فإنك أعز من بالحرم وأمنعه، فقال: يا أخي قد خفت أن يغتالني يزيد بن معاوية بالحرم، فأكون الذي يستباح به حرمة هذا البيت، فقال له ابن الحنفية: فان خفت ذلك فصر إلى اليمن أو بعض نواحي البر فإنك أمنع الناس به، ولا يقدر عليك أحد، فقال: أنظر فيما قلت. فلما كان السحر، ارتحل الحسين (ع) فبلغ ذلك ابن الحنفية فأتاه فأخذ بزمام ناقته وقد ركبها فقال: يا أخي ألم تعدني النظر فيما سألتك؟ قال: بلى, قال: فما حداك على الخروج عاجلا؟ قال: أتاني رسول الله (ص) بعد ما فارقتك, فقال: يا حسين اخرج فان الله قد شاء أن يراك قتيلا, فقال محمد ابن الحنفية: إنا لله وإنا إليه راجعون، فما معنى حملك هؤلاء النساء معك, وأنت تخرج على مثل هذا الحال؟ قال: فقال لي (ص): إن الله قد شاء أن يراهن سبايا، فسلم عليه ومضى.
------
اللهوف ص 39, بحار الأنوار ج 44 ص 364
تحقيق مركز سيد الشهداء (ع) للبحوث الإسلامية....!!
゚ ゚viralシ ゚

 🛑 ❗✅رسول اللہ ﷺ کا انتہائی سخت الفاظ میں معاویہ و ابو سفیان پر لعنت کرنا اہلسنت کتب سے ثابت ہے۔ 📗تاریخ طبری میں نقل کیا...
21/05/2026


🛑 ❗

✅رسول اللہ ﷺ کا انتہائی سخت الفاظ میں معاویہ و ابو سفیان پر لعنت کرنا اہلسنت کتب سے ثابت ہے۔

📗تاریخ طبری میں نقل کیا گیا ہے

📖۔۔۔اس بارے میں سب سے زیادہ عداوت کرنے والا سب سے بڑا آپ کا مخالف اور ان میں سب سے پہلا ہر ایک جنگ اور ہر لڑائی میں کہ کوئی جھنڈا اسلام کے خلاف بلند نہ ہوتا تھا جو اس کے ہاتھ میں نہ ہوتا ہو۔ بدر و احد و خندق اور فتح مکہ کی ہر مقام جنگ میں جو اس جنگ کا رئیس اور سردار ہوتا تھا وہ بنی امیہ کا ابوسفیان بن حرب اور اس کے گروہ تھے جن پر کتاب اللہ میں لعنت کی گئی ۔ جن پر مختلف مقامات و مواضع میں رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے لعنت کی گئی۔ یہ اس لیے ہوا کہ ان کا کفر و نفاق اور ان کا حال پہلے سے اللہ کے علم میں تھا۔ اس نے مجاہد ہو کر جنگ کی یا مشقت اٹھا کے مدافعت کی نیا مخالف بن کر مقیم رہا یہاں تک کہ اسے تلور نے مغلوب کر دیا اور اس طرح اللہ کا حکم بلند ہو گیا کہ ان کو ناگوار تھا تو وہ بغیر اس پر اعتقاد رکھنے کے اسلام کا قائل بن گیا اور اس کفر کو پوشیدہ کئے رہا جسے اس نے جدا نہ کیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں نے اسے پہچان لیا۔ اسے موافقہ القلوب کے لقب سے ممتاز کر دیا اور اسے اور اس کے بیٹے کو باوجود اس کا علم رکھنے کے قبول کر لیا ۔ ان آیات میں سے جن میں اللہ نے اپنے رسول ﷺ کی زبان سے ان پر لعنت کی۔۔۔

اور اس کے متعلق قرآن نازل کیا یہ ہے :

♦️وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا طُغْيَانًا كَبِيرًا ﴾

"اور وہ درخت جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے اور ہم انہیں ڈراتے ہیں، مگر ان میں سوائے زبردست سرکشی کے اور کچھ نہیں بڑھتا "۔

📖کسی کے درمیان اختلاف نہیں کہ اس سے اللہ کی مراد بنی امیہ ہیں ۔ انہیں میں سے رسول اللہ ﷺ کا اس حالت کے متعلق ارشاد ہے جب کہ وہ ایک گدھے پر سوار آ رہا تھا معاویہ اسے کھینچ رہا تھا۔ اس کا بیٹا یزید اسے ہنکار رہا تھا کہ کھینچنے والے اور سوار ہانکنے والے پر خدا کی لعنت ہے۔(یعنی رسول اللہ ﷺ نے تینوں پر لعنت کی ہے)

📚(تاریخ طبری/ جلد ہفتم حصہ دوم ، صفحہ196)

📙کتاب انساب الاشرف ، امام أحمد بن يحيى ، البلاذري (المتوفى 279ھ) نے نقل کیا۔

"كان جالسا فمر أبو سفيان على بعير ومعه معاوية وأخ له ، أحدهما يقود البعير والآخر يسوقه، فقال رسول الله صلى عليه وسلم: لعن الله الحامل والمحمول والقائد والسائق"

📖ابو سفیان گدھے پر سوار تھا ، معاویہ نے اسکی لگام پکڑی ہوئی تھی اور ابو سفیان کا بیٹا یزید گدھے کو پیچھے سے ہانک رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خداوند اسکو کہ جو گدھے پر سوار ہے، اور اسکو کہ جو گدھے کے آگے ہے اور اسکو کہ جو گدھے کے پیچھے ہے، لعنت کرے۔

📚(أنساب الأشراف للبلاذري/ جلد 5 ، صفحہ 136)

📕کتاب السنۃ ، ابو بکر احمد ابن ہارون خلال متوفی 311 ہجری کہ جو عالم بزرگِ اہل سنت ہے عبید الله ابن موسی سے روایت کو نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ۔

"فحدث فی الطریق فمر حدیث لمعاویة فلعن معاویه ولعن من لا یلعنه"

📖ہم راستے پر جا رہے تھے کہ معاویہ کا ذکر ہوا ، ہم نے معاویہ پر لعنت کی اور جو اس پر لعنت نہیں کرتا، ہم نے اس پر بھی لعنت کی۔

پھر لکھا ہے کہ

"أنه کان معه فی طریق مکة فحدث بحدیث لعن فیه معاویة،"

📖مکہ کے راستے میں حدیث کو ذکر کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے معاویہ پر لعنت کی ہے

"فقال نعم لعنه الله ولعن من لا یلعنه"

📖راوی کہتا ہے ، ہاں خدا نے بھی اس پر لعنت کی ہے اور جو اس (معاویہ) پر لعنت نہیں کرتا ، اس پر بھی خدا کی لعنت ہو۔

✅إسناده حسن
اس روایت کی سند حسن (معتبر) ہے۔

📚(السنة / جلد 1 ، صفحہ 505 ، حدیث 808)

📘اہلسنت کے امام ہیثمی نے اپنی کتاب مجمع الزوائد میں اس روایت کو نقل تو کیا لیکن اپنی ناصبی خصلت سے باز نہ آتے ہوئے روایت میں تحریف کر کے ان تینوں کے نام ہذف کر دیے۔

📖حضرت سفینه بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص اونٹ پر سوار گزرا جس کے آگے ایک شخص جانور کو چلا رہا تھا اور ایک شخص پیچھے سے اسے ہانک رہا تھا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اُس آگے سے چلانے والے پیچھے سے ہانکنے والے اور سوار شخص ( یعنی ان تینوں افراد پر ) لعنت کرے۔

✅یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔

📚(مجمع الزوائد / جلد 1 ، صفحہ 294 ، حدیث 437)

゚ ゚viralシ ゚

    ؐ_ص__نے_نبی_پاک_ص_کے____نکاح_کا_جو_خطبہ_پڑھا_اس_کے_چند_جملے۔ ؐ_ص__نے_فرمایا اس خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں ابراہیم ص کی...
18/05/2026


ؐ_ص__نے_نبی_پاک_ص_کے____نکاح_کا_جو_خطبہ_پڑھا_اس_کے_چند_جملے۔

ؐ_ص__نے_فرمایا

اس خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں ابراہیم ص کی اولاد اور اسماعیل ص کی ذریت سے بنایا اور ہمارے لیے ایک گھر بنایا جس کا حج کیا جاتا ہے
اور پُر امن حرم بنایا اور ہمیں لوگوں کا حاکم بنایا اور ہمیں اس شہر میں برکت دی جس میں ہم رہتے ہیں
پھر قریش کا کوٸی شخص میرے بھتیجے محمؐد بن عبداللہؐ علیہ ؐالسلام کا ہم پلہ نہیں ہے اور نہ اس سے کسی کا قیاس کیا جا سکتا ہے۔

اہل سنت کی کتاب تاریخ یعقوبی جلد 2 صفہ 38

  ٰ_علیہ_وآلہ___وسلم_کہ_مولاعلی_ع_کا_دشمن_حرامی_ہوتاہے
22/03/2026


ٰ_علیہ_وآلہ___وسلم_کہ_مولاعلی_ع_کا_دشمن_حرامی_ہوتاہے

 ُنزل_فيه_القرآن_هدىً_للناسرسالة عاشق الولاية لكم ياسادة ياكرام في شهر رمضان المبارك/// هل تعرفون ماهي نعمة الله  في اية...
16/03/2026

ُنزل_فيه_القرآن_هدىً_للناس
رسالة عاشق الولاية لكم ياسادة ياكرام في شهر رمضان المبارك/// هل تعرفون ماهي نعمة الله في اية 7 سورة المائدة وماهي الوسيلة إلى الله تعالى اية 35 وماهو النور في اية 15؟؟؟؟؟
1-{{واذكروا نعمة الله(( هي الولاية))عليكم وميثاقه الذي واثقكم به}}اية 7
لما أخذ رسول الله(ص)الميثاق عليهم بالولاية في يوم الغدير قالوا سمعنا وأطعنا ثم نقضوا البيعة بعد وفاة الرسول(ص)
2-{{ فبما نقضهم ميثاقهم لعناهم}} اية 63
اي نقضوا عهد وولاية امير المؤمنين علي بن ابي طالب(ع) وهذا ماحصل كما تعرفون في السقيفة
3-{{ياأيها الذين أمنوا ((بالولاية))اتقوا الله وابتغوا اليه الوسيلة}}اية 35
الوسيلة هم النبي محمد(ص) واهل بيته الطيبين الطاهرين علي وفاطمة والحسن والحسين وتسعة معصومين من ذرية الحسين (ع) آخرهم هو الامام المهدي(عج)
4-{{ قد جاءكم من الله نور وكتاب مبين}}اية 15
النور هو امير المؤمنين علي(ع) والائمة من ولده(ع)
رمضان المبارک کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لیے ہدایت کے طور پر نازل ہوا۔
رمضان کے اس بابرکت مہینے میں آپ کے لیے خاندانِ نبوی کے ایک عقیدت مند پیروکار کا پیغام: کیا آپ جانتے ہیں کہ سورۃ المائدۃ کی آیت نمبر 7 میں اللہ کا فضل کیا ہے، آیت نمبر 35 میں اللہ تعالیٰ کا کیا مطلب ہے، اور آیت نمبر 15 میں نور کیا ہے؟

1- {اور اپنے اوپر خدا کے احسان کو اور اس کے عہد کو یاد کرو جس سے اس نے تم کو باندھ رکھا ہے} آیت 7۔
جب غدیر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ولایت کا عہد لیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اپنا عہد توڑ دیا۔

2- { پس ان کے عہد شکنی پر ہم نے ان پر لعنت بھیجی} آیت 63
یعنی انہوں نے امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے عہد و ولایت کو توڑ دیا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، سقیفہ میں ایسا ہی ہوا۔

3- {اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو۔} آیت 35۔
وسیلہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کا پاکیزہ اور صالح خاندان ہیں: علی، فاطمہ، حسن، حسین، اور حسین علیہ السلام کی نسل میں سے نو معصوم امام، جن میں سے آخری امام مہدی علیہ السلام ہیں (خدا جلد از جلد ظہور فرمائے)۔

4- {تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے} آیت 15
نور امیر المومنین علی علیہ السلام اور ان میں سے امام ہیں۔ ان کے بیٹے (صلی اللہ علیہ وسلم)
゚viralシ

  ُحد_کی___وادی_میں_اسلام_کے__شیر_نے_جامِ_شہادت____نوش_کیااسلامی تاریخ کے عظیم ترین واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جب رسو...
06/03/2026


ُحد_کی___وادی_میں_اسلام_کے__شیر_نے_جامِ_شہادت____نوش_کیا

اسلامی تاریخ کے عظیم ترین واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم چچا، اسلام کے دلیر محافظ اور بے مثال مجاہد حضرت امیر حمزہ علیہ السلام نے میدانِ اُحد میں شہادت حاصل کی۔ یہ واقعہ اُس جنگ سے متعلق ہے جسے جنگِ اُحد کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ ہجرت کے تیسرے سال مدینہ کے قریب جبلِ اُحد کے دامن میں پیش آئی۔ اس جنگ کے پیچھے وہ حالات تھے جو اس سے پہلے پیش آنے والی جنگِ بدر کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ جنگِ بدر میں مکہ کے مشرکین کو سخت شکست ہوئی تھی اور ان کے بہت سے سردار مارے گئے تھے۔ اس شکست نے قریش کے دلوں میں شدید انتقام کی آگ بھڑکا دی تھی۔

مکہ کے سرداروں نے اس شکست کا بدلہ لینے کا پختہ ارادہ کیا۔ قریش کے بڑے بڑے سرداروں نے ایک بڑی فوج تیار کی تاکہ مدینہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کو ختم کیا جا سکے۔ اس لشکر کی قیادت ابو سفیان کے ہاتھ میں تھی۔ اس لشکر میں تقریباً تین ہزار جنگجو تھے جن کے پاس گھوڑے، ہتھیار اور جنگی سازوسامان موجود تھا۔ دوسری طرف مدینہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حملے کی خبر ملی تو آپ نے مسلمانوں سے مشورہ کیا۔ بعض کی رائے تھی کہ مدینہ کے اندر رہ کر دفاع کیا جائے اور بعض کی رائے تھی کہ شہر سے باہر جا کر مقابلہ کیا جائے۔ آخر کار طے پایا کہ دشمن کا مقابلہ مدینہ سے باہر کیا جائے۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ہزار کے قریب صحابہ کے ساتھ مدینہ سے نکلے اور اُحد کے پہاڑ کے قریب مورچہ سنبھالا۔ راستے میں کچھ لوگ واپس چلے گئے اور مسلمانوں کی تعداد تقریباً سات سو رہ گئی۔ آپ نے میدانِ جنگ میں ایک پہاڑی پر تیر اندازوں کو مقرر کیا اور انہیں سختی سے حکم دیا کہ وہ کسی حال میں اپنی جگہ نہ چھوڑیں، چاہے مسلمان جیت جائیں یا شکست کھا جائیں۔

جنگ شروع ہوئی تو ابتدا میں مسلمانوں کو برتری حاصل ہوئی۔ دشمن کے لشکر میں اضطراب پھیل گیا اور ان کی صفیں ٹوٹنے لگیں۔ اس موقع پر حضرت امیر حمزہ علیہ السلام میدان میں غیر معمولی بہادری کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ آپ دشمن کے لشکر پر ٹوٹ پڑتے اور ایک کے بعد ایک جنگجو کو شکست دیتے جاتے تھے۔ میدان میں آپ کی جرات اور طاقت کو دیکھ کر دشمن کے لشکر میں خوف پھیل گیا تھا۔

اسی دوران مکہ کی ایک عورت ہندہ بنت عتبہ اپنے باپ، بھائی اور قریبی رشتہ داروں کی موت کا بدلہ لینے کے لیے بے حد بے چین تھی جو جنگِ بدر میں مارے گئے تھے۔ اس نے ایک حبشی غلام وحشی سے کہا کہ اگر وہ حضرت حمزہ علیہ السلام کو قتل کر دے تو اسے آزادی اور انعام دیا جائے گا۔ وحشی نیزہ پھینکنے میں مہارت رکھتا تھا اور وہ میدان میں مناسب موقع کی تلاش میں تھا۔

جنگ کے دوران جب حضرت حمزہ علیہ السلام دشمن کے مقابلے میں مصروف تھے تو وحشی ایک چٹان کے پیچھے چھپ کر موقع دیکھتا رہا۔ جب اسے موقع ملا تو اس نے پوری قوت سے اپنا نیزہ پھینکا۔ وہ نیزہ حضرت حمزہ علیہ السلام کو لگا اور آپ شدید زخمی ہو گئے۔ اسی زخم کے نتیجے میں آپ نے میدانِ اُحد میں جامِ شہادت نوش کیا۔ اس طرح اسلام کے ایک عظیم مجاہد اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محبوب چچا شہید ہو گئے۔

اسی دوران میدانِ جنگ میں ایک اور اہم واقعہ پیش آیا۔ جب مسلمانوں کو ابتدا میں کامیابی حاصل ہوئی تو کچھ تیر اندازوں نے یہ سمجھ کر کہ جنگ ختم ہو گئی ہے اپنی جگہ چھوڑ دی۔ اس موقع سے دشمن نے فائدہ اٹھایا اور عقب سے حملہ کر دیا۔ اس اچانک حملے سے مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا ہو گیا اور میدانِ جنگ کی صورت حال بدل گئی۔

جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت حمزہ علیہ السلام کی شہادت کی خبر ملی تو آپ کو شدید صدمہ ہوا۔ آپ نے اپنے چچا کی بہادری، قربانی اور اسلام کے لیے ان کی خدمات کو یاد فرمایا۔ حضرت حمزہ علیہ السلام اسلام کے ابتدائی دور میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے مضبوط محافظوں میں سے تھے اور انہوں نے ہر موقع پر دین کی حمایت کی تھی۔

جنگِ اُحد کے بعد مسلمانوں نے اس واقعے سے اہم سبق حاصل کیا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی مکمل اطاعت کامیابی کی بنیاد ہے۔ حضرت حمزہ علیہ السلام کی شہادت اسلامی تاریخ میں عظیم قربانی اور وفاداری کی مثال کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔ آج بھی اُحد کے میدان میں ان کا مزار اس عظیم قربانی کی یاد دلاتا ہے۔

اگر آپ کو یہ تاریخی واقعہ پسند آیا ہو تو پیج کو فالو کریں اور اس پوسٹ کو آگے شیئر کریں۔

 رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کو خداﷻ نے جہنم کا نظارہ دکھلایا۔ آپ نے جہنم میں ایسے لوگوں کو دیکھا جو سر کے بل اُلٹ...
04/03/2026


رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کو خداﷻ نے جہنم کا نظارہ دکھلایا۔ آپ نے جہنم میں ایسے لوگوں کو دیکھا جو سر کے بل اُلٹے لٹکے ہوئے تھے۔ اُنکے جبڑے چیرے ہوئے تھے اور منہ سے خون بہہ رہا تھا۔ آپﷺ کو بتایا گیا یہ وہ لوگ ہیں جو روزے کا وقت ختم ہونے سے پہلے ہی افطار کر لیا کرتے تھے۔

Address

Ist Cross
Bangalore
560032

Telephone

+918660856605

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahel e Bait e Athar Hussainiat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share