Jamia Masjid Daruloom Dandipora

Jamia Masjid Daruloom Dandipora ❤𝙅𝘼𝙈𝙄𝘼 𝙈𝘼𝙎𝙅𝙄𝘿 𝘿𝘼𝙍𝙐𝙇𝙊𝙊𝙈 𝘿𝘼𝙉𝘿𝙄𝙋𝙊𝙍𝘼❤

17/05/2026

Jamia Masjid Daruloom Dandipora

15/05/2026

M***i ayoub sahab bayan

14/05/2026
09/05/2026

٩مئئ  #آج کا کالم - مولانا حافظ محمد چراغ نصیر القاسمیؒ: متوازن داعی، مدبر مصلحاز قلم: آصف حسین الکشمیریموبائل نمبر: 979...
09/05/2026

٩مئئ #آج کا کالم - مولانا حافظ محمد چراغ نصیر القاسمیؒ: متوازن داعی، مدبر مصلح
از قلم: آصف حسین الکشمیری
موبائل نمبر: 9797888975
مولانا حافظ محمد چراغ نصیر القاسمیؒ کا شمار اُن باعمل علماء اور سنجیدہ داعیانِ دین میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اخلاص، استقامت اور خاموش خدمت کے ساتھ دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے وقف کر دی۔ آپ کی شخصیت علم و عمل، دعوت و اصلاح، صبر و حکمت اور اخلاق و کردار کا حسین امتزاج تھی۔ وہ محض ایک مدرس یا خطیب نہیں تھے بلکہ ایک ایسی باوقار اور دردمند شخصیت تھے جنہوں نے اپنے گرد و پیش کے ماحول میں دینی بیداری پیدا کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ ان کی گفتگو میں متانت، اندازِ دعوت میں حکمت اور طبیعت میں عاجزی نمایاں تھی، جس کی وجہ سے عوام و خواص دونوں حلقوں میں انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کی پوری زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ایک مخلص داعی اگر ثابت قدمی کے ساتھ میدانِ عمل میں اتر جائے تو مخالفتوں کے باوجود اپنے نقوش چھوڑ جاتا ہے۔
مولانا حافظ محمد چراغ نصیر القاسمیؒ ولدِ میاں عبدالغنی 1920 میں پنجاب (پاکستان) کے ضلع گجرات کی بستی کوٹلی شاہ جہانیا میں ایک علمی و دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی اور انہی کی نگرانی میں قرآن مجید حفظ کیا۔ بچپن ہی سے ان کے اندر علمِ دین کا غیر معمولی شوق پایا جاتا تھا۔ اپنے علاقے اور شہر کے بڑے بڑے جید علماء و فضلاء سے علوم و فنون میں مہارت حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں علامہ شبیر احمد عثمانی، سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا غلام اللہ خانؒ، مولانا عبدالرحمنؒ، مولانا سید ولایت شاہ صاحب گجراتیؒ، مولانا سید عنایت اللہ شاہ بخاری گجراتیؒ اور مولانا عبدالمالک صاحبؒ جیسے نامور اہلِ علم شامل تھے۔ ان اکابر علماء کی صحبت اور تربیت نے ان کے اندر دینی بصیرت، فکری پختگی اور دعوتی شعور پیدا کیا، جس کے اثرات بعد کی پوری زندگی میں نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ وہ مطالعہ کے شوقین، نہایت سنجیدہ مزاج اور علمی ذوق رکھنے والے انسان تھے، اسی لیے کم عمری ہی میں ان کے اندر دین کی خدمت کا جذبہ پروان چڑھنے لگا تھا۔
تعلیم سے فراغت کے بعد مولانا چراغ نصیر القاسمیؒ نے دعوت و اصلاح کے میدان میں عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔ پونچھ اور راجوری کے ایک اہم سفر کے دوران ردِّ مرزائیت کے سلسلے میں منعقدہ ایک بڑے اجتماع میں شرکت کی اور خطاب فرمایا، جس سے ان کی علمی جرأت اور دینی غیرت نمایاں ہوئی۔ بعد ازاں 1944 میں کشمیر تشریف لائے اور دندی پورہ، کوکرناگ کو اپنی دعوتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ اس وقت علاقے کے حالات یہ تھے کہ لوگ اسلامی تعلیمات سے ناواقف اور مختلف بدعات، خرافات اور غیر شرعی رسومات میں مبتلا تھے۔ مولانا مرحوم نے جب یہ کیفیت دیکھی تو واپس جانے کے بجائے اسی خطے میں قیام کرنے کا فیصلہ کیا اور پوری یکسوئی کے ساتھ اصلاحِ معاشرہ کا عظیم کام شروع کیا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اس علاقے کو صرف ایک مدرس نہیں بلکہ ایک مخلص داعی، مربی اور رہنما کی ضرورت ہے، چنانچہ انہوں نے اپنی زندگی اسی مقصد کے لیے وقف کر دی۔
دسمبر 1944 میں دندی پورہ کی مسجد میں “مکتب تقویتہ الاسلام” کے نام سے قرآن و حدیث کی ترویج و اشاعت کے لیے ایک دینی مکتب قائم کیا گیا، جہاں سے ان کی تدریسی، اصلاحی اور دعوتی خدمات کا باضابطہ آغاز ہوا۔ انہوں نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو اپنی دعوت کا بنیادی محور بنایا اور نہایت حکمت و بصیرت کے ساتھ لوگوں کو قرآن و سنت کی طرف بلانا شروع کیا۔ رفتہ رفتہ لوگوں میں دینی شعور بیدار ہونے لگا، بدعات و رسومات سے نفرت پیدا ہوئی اور لوگ اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی طرف راغب ہونے لگے۔ مولانا چراغ نصیر القاسمیؒ کی گفتگو میں درد تھا، لہجے میں اخلاص تھا اور انداز میں ایسی تاثیر تھی جو سننے والوں کے دلوں پر براہِ راست اثر ڈالتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے دروس اور بیانات سننے کے لیے دور دراز علاقوں سے لوگ آیا کرتے تھے۔
دعوت و اصلاح کی اس جدوجہد میں مولانا چراغ نصیر القاسمیؒ کو بے شمار آزمائشوں، مخالفتوں اور تکالیف کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بعض شرپسند عناصر نے ان کے خلاف ماحول بنایا، تحقیر و تذلیل کی، جھوٹے الزامات لگائے اور ڈوگرہ دور میں انہیں مختلف مقدمات میں پھنسانے کی کوشش کی گئی۔ یہاں تک کہ انہیں تھانے میں بند بھی کیا گیا، مگر ان تمام مشکلات کے باوجود ان کے پائے استقلال میں ذرہ برابر لغزش پیدا نہ ہوئی۔ وہ صبر، تحمل اور ثابت قدمی کے پیکر تھے۔ دورانِ تحریر جب مولانا چراغ نصیر القاسمیؒ پر ڈھائے گئے مظالم اور آزمائشوں کا تذکرہ سامنے آیا تو کچھ لمحوں کے لیے قلم تھم سا گیا، دل بوجھل ہو گیا اور آنکھیں نمناک ہو گئیں۔ وہ لمحہ یقیناً نہایت دردناک تھا جب بعض بلوائی عناصر نے مولانا مرحوم کا بستر، کپڑے اور دیگر سامان مکتب سے باہر پھینک دیا اور انہیں کشمیر چھوڑنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ مگر مولانا چراغؒ نے ہر آزمائش کو صبر و حکمت کے ساتھ برداشت کیا اور دعوت و اصلاح کا سفر جاری رکھا۔ ایسے ہی اہلِ استقامت کے بارے میں علامہ محمد اقبال نے کیا خوب فرمایا:
“جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے”
یہ اشعار گویا مولانا چراغ نصیر القاسمیؒ کی پوری زندگی کی عملی تفسیر محسوس ہوتے ہیں، جنہوں نے شدید مخالفتوں، آزمائشوں اور مشکلات کے باوجود دین کی خدمت اور اصلاحِ معاشرہ کا سفر جاری رکھا اور کبھی مایوسی کو اپنے قریب آنے نہ دیا۔
وقت گزرتا گیا اور مولانا چراغ نصیر القاسمیؒ کی محنتوں کے ثمرات نمایاں ہوتے گئے۔ 1973 میں “مکتب تقویتہ الاسلام” کو مکمل مدرسے کی شکل دے دی گئی اور اس کا نام “جامعہ انوارالعلوم” رکھا گیا۔ یہ ادارہ جلد ہی جنوبی کشمیر کا ایک ممتاز دینی مرکز بن گیا، جہاں دور دراز علاقوں سے طلبہ حصولِ علم کے لیے آنے لگے۔ مدرسے نے علاقے میں دینی بیداری پیدا کرنے اور نئی نسل کو قرآن و سنت سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ راقم الحروف کی اس سلسلے میں مدرسہ کے موجودہ ذمہ دار اور مولانا مرحوم کے فرزند مولانا یونس چراغ القاسمی صاحب سے گفتگو ہوئی، جس میں انہوں نے بتایا کہ اس وقت مدرسہ میں تقریباً 150 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جہاں ناظرہ، حفظِ قرآن اور عربی پنجم تک تعلیم دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ “چراغ پبلک اسکول” کے نام سے ایک عصری تعلیمی ادارہ بھی چل رہا ہے۔ اس ادارے کی علمی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں وقتاً فوقتاً برصغیر کے نامور علماء تشریف لاتے رہے، جن میں قاری طیب صاحبؒ، مولانا سلمان ندوی صاحب، مولانا انظر شاہ کشمیری صاحب، مولانا مسیح اللہ خانؒ اور مولانا احمد خضر صاحب جیسے جلیل القدر علماء شامل ہیں۔
مولانا حافظ محمد چراغ نصیر القاسمیؒ صرف معلم، مدرس اور مبلغ ہی نہیں تھے بلکہ ایک اچھے ادیب، صاحبِ قلم مصنف اور باوقار شاعر بھی تھے۔ ان کی تحریروں میں اصلاحِ معاشرہ، دینی شعور اور اخلاقی تربیت کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔ انہوں نے کئی اہم کتابیں تصنیف کیں، جن میں “خالقِ کائنات کون”، “تلخ حقیقت”، “مسافرِ آخرت”، “معصوم مظلوم بچیاں” اور “قرآنِ عظیم کی فریاد” خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی تحریریں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک دردمند داعی کے احساسات، فکر اور امت کی اصلاح کی حقیقی تڑپ کی عکاس ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تصانیف نے عوام و خواص دونوں حلقوں میں اثر چھوڑا اور لوگوں کے اندر دینی بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایک عظیم دینی مشن کی تکمیل اور طویل دعوتی جدوجہد کے بعد آخر وہ وقت بھی آ پہنچا جب 8 جنوری 1994 کو مولانا حافظ محمد چراغ نصیر القاسمیؒ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ حضرت مولانا حافظ محمد امین صاحب نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپ کو مزارِ چراغ میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی سربلندی، قرآن و سنت کی اشاعت اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کیے رکھی۔ آج بھی جنوبی کشمیر کے دینی حلقوں میں ان کی خدمات، قربانیاں اور دعوتی جدوجہد احترام اور عقیدت کے ساتھ یاد کی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کروٹ کروٹ مغفرت فرمائے، ان کی دینی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ آمین۔
مولانا مرحوم اپنے پیچھے دو صاحبزادے، مولانا یونس چراغ القاسمی اور محترم یوسف چراغ، نیز چار صاحبزادیاں چھوڑ گئے، جو ان کی دینی و اخلاقی روایت کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔ بلاشبہ مولانا حافظ محمد چراغ نصیر القاسمیؒ جنوبی کشمیر کی دینی تاریخ کا ایک روشن باب تھے، جن کی خدمات، قربانیاں اور دعوتی جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔*****

Address

Anantnag

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Masjid Daruloom Dandipora posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share