online Quran academy

online Quran academy Información de contacto, mapa y direcciones, formulario de contacto, horario de apertura, servicios, puntuaciones, fotos, videos y anuncios de online Quran academy, Centro religioso, Guatemala City.

19/08/2025

Check out hoor baig’s video.

01/08/2025
12/10/2024

نیا_ لبرل فتنہ
آج کل کچھ لبڑلز اور دانشور بڑے زور و شور سے واویلا کر رھے ھیں کہ .....

کعبہ کے گرد گھومنے سے پہلے کسی غریب کے گھر گھوم آؤ۔

مسجد کو قالین نہیں کسی بھوکے کو روٹی دے دو۔

حج اور عمرہ پر جانے سے پہلے کسی نادار کی بیٹی کی رخصتی کا خرچہ اٹھالو۔

تبلیغ میں نکلنے سے بہتر ھے کہ کسی لاچار مریض کو دوا فراھم کر دو۔

مسجد میں سیمنٹ کی بوری دینے سے افضل ھے کہ کسی بیوہ کے گھر آٹے کی بوری دے آؤ۔

*یاد رکھیں۔۔۔👇*

*دو نیک اعمال کو اس طرح تقابل میں پیش کرنا کوئی دینی خدمت یا انسانی ھمدردی نہیں بلکہ عین جہالت ھے۔*

*اگر تقابل ھی کرنا ھے تو دین اور دنیا کا کرو اور یوں کہو !*

15 ، 20 ﻻکھ ﮐﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ لو ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ھﻮ۔

50 ، 60 ھﺰﺍﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ لو ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ھﻮ۔

ھﺮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﮮ ﺳﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻟﮕﻮﺍؤ ﺟﺐ گرمی میں بغیر بجلی کے سونے والا کوئی نہ ھو۔

ﺑﺮﺍﻧﮉﮈ ﮐﭙﮍﮮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺧﺮﯾﺪو ﺟﺐ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﭘﮭﭩﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ھﻮ۔

یہ کروڑوں کی گاڑیاں، لاکھوں کے موبائل فونز اور ھزاروں کے کھلونے خریدتے وقت ان دانشوروں کو غرباء، فقراء، بےآسرا اور بےسہارا لوگوں کو یاد رکھنے کی زحمت گوارہ کیوں نہیں ھوتی۔۔۔؟

آخر یہ چڑ کعبہ، مسجد، حج وعمرہ، اور تبلیغ ھی سے کیوں ھے۔۔۔؟

ان ضروریات کا فرائض سے موازنہ کر کے اور دینی فرائض سے غفلت کا درس دینے والے جب اپنی شادیوں پر عورتیں نچواتے ھیں تب ان کو کیوں یاد نہیں ھوتا کہ وہ بھی کسی کی بیٹیاں اور بہنیں ھیں۔۔۔؟

ھزاروں آرام دہ اشیاء خریدتے وقت ان کو غریب کی بن بیاھی بیٹیاں کیوں ںظر نہیں آتیں..؟

ایک بار ضرور سوچیں؟
کیا انسانیت کی خاطر غیر ضروری امور ترک کرنا بہتر ھے یا کہ فرائض کا ترک کرنا؟

اگر مناسب سمجھیں تو اس پوسٹ کو شئیر کریں تاکہ اس فتنہ سے تمام سادہ لوح مسلمان محفوظ رھیں۔

یہ ھماری ایک دینی اور معاشرتی ذمہ داری ھے کہ اس طرح کے لوگوں کی فتنہ پرور باتیں دوسروں تک بھی پہنچائیں تاکہ وہ بھی اپنا دین اور دُنیا محفوظ رکھ سکیں۔

11/10/2024

# # # بغیر اوون کے فروٹ کیک بنانے کا طریقہ

# # # # اجزاء:
- میدہ: 2 کپ
- بیکنگ پاؤڈر: 1 چائے کا چمچ
- بیکنگ سوڈا: 1 چائے کا چمچ
- نمک: 1 چٹکی
- چینی: 1 کپ
- انڈے: 3 عدد
- مکھن یا تیل: 1 کپ
- دودھ: 1 کپ
- ونیلا ایسنس: 1 چائے کا چمچ
- جیلی (لال اور سبز): 1 کپ (چھوٹی چھوٹی کٹی ہوئی)

# # # # ترکیب:
1. **جیلی کی تیاری:**
- جیلی کے ٹکڑوں کو ایک پیالے میں رکھیں اور ان کو آٹے میں ہلکا سا رول کریں تاکہ وہ کیک کے بیٹر میں نیچے نہ بیٹھ جائیں۔

2. **بیٹر کی تیاری:**
- ایک بڑے پیالے میں مکھن یا تیل اور چینی کو اچھی طرح پھینٹیں جب تک کہ ہلکا اور پھولا ہوا نہ ہو جائے۔
- اب ایک ایک کر کے انڈے شامل کریں اور ہر انڈے کو اچھی طرح مکس کریں۔
- ونیلا ایسنس شامل کریں اور مکس کریں۔

3. **خشک اجزاء کی تیاری:**
- ایک الگ پیالے میں میدہ، بیکنگ پاؤڈر، بیکنگ سوڈا، اور نمک کو چھان لیں۔
- اب خشک اجزاء کو بیٹر میں آہستہ آہستہ شامل کریں اور ساتھ میں دودھ بھی شامل کریں۔
- جب سب اجزاء اچھی طرح مکس ہو جائیں تو کٹی ہوئی جیلی شامل کریں اور احتیاط سے مکس کریں تاکہ جیلی کے ٹکڑے نہ ٹوٹیں۔

4. **پکانے کی تیاری:**
- ایک بڑی دیگچی یا کڑاہی میں نمک کی تہہ بچھا دیں اور اس کے اوپر ایک جالی یا سٹینڈ رکھ دیں۔
- کیک کے سانچے کو چکنا کریں اور بیٹر کو اس میں ڈال دیں۔
- سانچے کو جالی پر رکھیں اور دیگچی کو ڈھک دیں۔

5. **پکانے کا عمل:**
- دیگچی کو درمیانی آنچ پر 45-50 منٹ تک پکائیں یا جب تک کیک کاٹنے والی سوئی صاف نہ نکلے۔

6. **ٹھنڈا کرنا:**
- کیک کو نکال کر ٹھنڈا کریں اور پھر اسے کاٹ کر پیش کریں۔

مزیدار جیلی فروٹ کیک تیار ہے، اسے چائے یا کافی کے ساتھ انجوائے کریں!

‏جہلم کا سب سے بڑا قبرستان کسی مسلمان نے نہیں وقف کیا تھا۔ لیکن وقف کرنے والے کی زندگی کا خاتمہ مسلمان ہونے پر ہوا۔محسنٍ...
11/10/2024

‏جہلم کا سب سے بڑا قبرستان کسی مسلمان نے نہیں وقف کیا تھا۔ لیکن وقف کرنے والے کی زندگی کا خاتمہ مسلمان ہونے پر ہوا۔

محسنٍ اسلام، محسنٍ جہلم ٹنڈل رام پرشاد۔
بہت ہی کم افراد نے یہ نام سُنا ہو گا
میں نے خود آج پہلی بار ہی پڑھا

یہ واقعہ ہے 1933ء کا
جناب ٹنڈل رام پرشاد نواب آف دَکَن جس کی تقریبا” پونے دو مربہ زمین جہلم میں موجود تھی اور ان کی زیادہ تر اراضی دَکَن بھارت میں موجود تھی۔

ان کی ایک رہاٸش جو کہ اس زمانے میں بہت عالیشان رہاٸش گاہ باغ محلہ نزد صرافہ بازار جہلم میں برلبٍ دریاٸے جہلم یہ عمارت ابھی بھی واقع ہے۔

نواب آف دَکَن ٹنڈل رام پرشاد ایک انتہاٸی رحم دل اور درویش صفت انسان تھا۔

گو کہ یہ شخص انتہاٸی امیر کبیر اور نواب خاندان کا اکلوتا وارث تھا جو کہ مُنہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوا تھا۔

اہلِ جہلم میں صرف چند افراد ہی جانتے ہوں گے۔
نواب آف دَکَن اکثر اوقات اپنی اراضی دیکھنے دَکَن سے جہلم تشریف لاتے اور ان دنوں بھی وہ جہلم ڈھوک عبدﷲ کے نزدیک اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے کہ کُچھ لوگ ایک بوڑھی عورت کا جنازہ لیٸے ان کے پاس سے گُزرے۔

نواب آف دَکَن سمجھے کہ شاید یہ کوئی بیمار آدمی ہے اور اسے کسی حکیم کے پاس لے کر جا رہے ہیں۔

تھوڑی دیر گُزری تھی کہ وہی باغ محلے کے افراد اسی طرح جنازہ لے کر واپس آ گٸے۔
نواب ٹنڈل رام پرشاد بھی اسی راستہ پر کھڑے اپنی سواری کا انتظار کر رہے تھے۔
ازراہِ ہمدردی انہوں نے ان افراد میں سے کسی سے پُوچھا کہ اب اس مریض کا کیا حال ہے۔
مرحومہ کے ایک بچّے نے رو رو کے ساری داستان سناٸی کے ان کے دو تین جاننے والوں نے اپنی زمین میں اس کی والدہ کی قبر بنانے سے صاف انکار کر دیا ہے اور اب ان خاتون کی قبر اپنے گھر میں بنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

نواب صاحب یہ سُن کر بہت رنجیدہ ہوئے اور بیشک نیکی کرنے کی طاقت اور بُرائی سے بچنے کی توفیق ﷲ ہی کی طرف سے ہے۔

چنانچہ ﷲ پاک نے ٹنڈل رام پرشاد کے دِل میں اس مرحومہ کے لیٸے رحم ڈالا اور نواب صاحب نے مرحومہ کے بچّوں کو پاس بُلایا اور یکدم حیرت انگیز پیشکش کر دی۔

اگر آپ کے مسلمان بھاٸیوں نے مَـیَّت دفنانے سے انکار کیا ہے تو آپ پریشان نہ ہوں یہ زمین یہ جاٸیداد ادھر ہی رہ جانی ہے۔
البتّہ ہم سب انسانوں نے جَلد یا بَدیر دُنیا سے چلے جانا ہے۔
آپ لوگ میری اس زمین پر جس جگہ چاہتے ہیں اپنی والدہ کو دفن کر دیں۔اور آج سے میں اپنی یہ پونے دو مربع زمین مسلمانوں کے قبرستان کے لیئے وقف کرتا ہوں۔

یہ بات سُنتے ہی سب مسلمانوں کی آنکھوں میں تشکر سے آنسو آ گٸے اور مرحومہ کو دفنانے کے بعد فاتحہ خوانی کی گٸی اور ٹنڈل رام پرشاد کے لیٸے بھی خصوصی طور پر بہت سی دعاٸیں مانگی گٸیں چنانچہ یہ دُعا بارگاہ الٰہی میں جلد ہی قبول کر لی گٸی۔

اور چند روز بعد ہی ٹنڈل رام پرشاد نے ایک ولئِ کامل سَیّد عطاء اللہ شاہ بُخاری صاحب کے ہاتھوں اس شرط پر اسلام قبول کیا کہ میں اپنا نام تبدیل نہیں کروں گا۔

چنانچہ ﷲ ربُّ الِعِزّت نے ٹنڈل رام پرشاد کے لیٸے رُشد و ہدایت کے دروازے کھول دیٸے اور نواب صاحب اسلام قبول کرنے کے کُچھ عرصہ کے بعد دَکَن تشریف لے گٸے اور اپنے وکیل کو وصیَّت کی کہ میرے مرنے کے بعد مجھے جہلم کے قبرستان میں دفنایا جاٸے۔

چنانچہ چند سال بعد یعنی قیام پاکستان سے 5 سال قبل 1942ء کو جہلم اور پاکستان کے مسلمانوں کے محسن اس دنیاٸے فانی سے کُوچ کر گٸے اور ان کی میَّت دَکَن سے ان کی ذاتی گاڑی میں جہلم لاٸی گٸی اور جہلم میں بہت بڑی تعداد میں مسلمانوں نے جنازہ میں شرکت کی اور جہلم کے اس عظیم قبرستان میں سَپُردٍ خاک کیا گیا۔

آج جہلم کے تقریباً ہر گھر کا کوٸی نہ کوٸی فرد اس قبرستان میں سَپُردٍ خاک ہے اور آج بھی جہلم کے باسی اس عظیم ٹنڈل رام پرشاد کی محبّتوں اور احسان کے قرضدار ہیں۔

ہمیں صرف اس آیت پر غور کرنے کی ضرورت ہے
سورۃ آلِ عمران (مدنی۔ کل آیات 200)

قُلِ اللّـٰـهُـمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِى الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُۖ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ ۖ بِيَدِكَ الْخَيْـرُ ۖ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (26)

تو کہہ اے ﷲ ، بادشاہی کے مالک ! جسے تو چاہتا ہے سَلطَنَت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے سَلطَنَت چھین لیتا ہے ، جسے تو چاہتا ہے عِزَّت دیتا ہے اور جسے تو چاہے ذلیل کرتا ہے ، سب خوبی تیرے ہاتھ میں ہے ، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

11/10/2024

مکافات کی چکی چلتی آہستہ ہے لیکن پیستی بہت باریک ہے بہو کو بیٹی سمجھنا چاہیے اگر دل ذرا سخت ہو جائے تو کچھ وقت کے لیے اسے اپنی بیٹی کی جگہ رکھ کر سوچ لیا کریں پھر دیکھیں دل کیا فیصلہ کرتا ہے لیکن اگر دل فیصلہ نہ کرے آنکھیں بند ہو جائیں تو تو پھر مکافات عمل کا انتظار کریں اسی کے متعلق ایک واقع ملاحظہ کریں اور ذرا گہرائی سے سوچیے
امی آج تو بھائی نے بھابھی کو خوب مارا ہےصغیرہ نے مسکراتے ہوئے اپنی امی کو بتایا اچھا ہوا بہت اتراتی تھی میں نے ہی تیرے بھائی سے کہا تھا کہ زیادہ جورو کا غلام بن کے مت رہا کر پیار کے ساتھ غصہ اور ناراضگی بھی ضروری ہے کبھی کبھی ڈانٹ ڈپٹ بھی ہونی چاہیے لیکن تیرے بھائی نے تھوڑی بات کو زیادہ سمجھا اور میں تو کہتی ہوں اچھا ہی کیا دو چار اور مارنے چاہیے تھے
صغیرہ نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا اور بات بلکہ کہا جائے اس سازش میں حصہ لیتے ہوئے معلومات میں مزید اضافہ کیا کہ بھائی تو بھابھی کو چھوڑنے کے لیے بھی کہہ رہے تھے میں تو کہتی ہوں اگر ایسا ہوا تو اچھا ہی ہو گا اس سے پہلے کہ ماں کوئی جواب دیتی تبھی فون کی گھنٹی بجی ماں نے گھنٹی کی آواز سن کر صغیرہ سے کہا دیکھ کس کا فون ہے
اس وقت کون ہو سکتا ہے؟
شاید باجی کا فون ہو ان کو بھی یہ خوش خبری سناتی ہوں صغیرہ سرگوشی کے انداز میں گنگناتی ہوئی اٹھی باجی کا نمبر دیکھ کر فون اٹھایا اور چہک کر کہا ہیلو لیکن ادھر کی بات سن کر چیخ ماری
ماں نے گھبراتے ہوئے پوچھا کیا ہوا صغیرہ خیر تو ہے؟
صغیرہ نے روتے اور ہکلاتے ہوئے بتایا امی جان باجی باجی وہ باجی کو ان کے شوہر نے بہت مارا ہے اور طلاق دینے کا کہہ رہے ہیں اب بھی کوئی نا سمجھے تو اسکی کم عقلی ہے اسی لیے کہتے ہیں کہ مکافات کی چکی چلتی آہستہ ہے لیکن پیستی بہت باریک ہے

11/10/2024

ایک چوہا کسان کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا، ایک دن چوہے نے دیکھا کہ کسان اور اس کی بیوی ایک تھیلے سے کچھ نکال رہے ہیں،چوہے نے سوچا کہ شاید کچھ کھانے کا سامان ہے-

خوب غور سے دیکھنے پر اس نے پایا کہ وہ ایک چوهےدانی تھی-

خطرہ بھانپنے پر اس نے گھر کے پچھلے حصے میں جا کر کبوتر کو یہ بات بتائی کہ گھر میں چوهےدانی آ گئی ہے-

کبوتر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ مجھے کیا؟ مجھے کون سا اس میں پھنسنا ہے؟

مایوس چوہا یہ بات مرغ کو بتانے گیا-

مرغ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ... جا بھائی یہ میرا مسئلہ نہیں ہے-

مایوس چوہے نے دیوار میں جا کر بکرے کو یہ بات بتائی ... اور بکرا ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہونے لگا-

اسی رات چوهےدانی میں كھٹاك کی آواز ہوئی جس میں ایک زہریلا سانپ پھنس گیا تھا-

اندھیرے میں اس کی دم کو چوہا سمجھ کر کسان کی بیوی نے اس کو نکالا اور سانپ نے اسے ڈس لیا-

طبیعت بگڑنے پر کسان نے حکیم کو بلوایا،

حکیم نے اسے کبوتر کا سوپ پلانے کا مشورہ دیا،

کبوتر ابھی برتن میں ابل رہا تھا

خبر سن کر کسان کے کئی رشتہ دار ملنے آ پہنچے جن کے کھانے کے انتظام کیلئے اگلے دن مرغ کو ذبح کیا گیا

کچھ دنوں کے بعد کسان کی بیوی مر گئی ... جنازہ اور موت ضیافت میں بکرا پروسنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ......

چوہا دور جا چکا تھا ... بہت دور ............

اگلی بار کوئی آپ کو اپنے مسئلے بتائے اور آپ کو لگے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو انتظار کیجئیے اور دوبارہ سوچیں .... ہم سب خطرے میں ہیں ....

سماج کا ایک عضو، ایک طبقہ، ایک شہری خطرے میں ہے تو پورا ملک خطرے میں ہے ....

ذات، مذہب اور طبقے کے دائرے سے باہر نكليے-

خود تک محدود مت رہیے- دوسروں کا احساس کیجئے

11/10/2024

آپ کے بیٹا اور بہو کے درمیان کوئی جھگڑا ہو گیا ہے یہ آپ کے بیٹا اور بہو کا جھگڑا ہے آپ کا نہیں۔
جھگڑا کمرے سے باہر نکل آیا ہے آوازیں بلند ہو گئی ہیں تو معاملہ سنبھالیں بڑھائیں مت۔

دونوں فریق کی بات سنیں اور فیصلہ کریں۔

صلح کرنے میں کردار ادا کریں لڑائی طول دینے میں نہیں۔

آپ اپنی مرضی سے جان بوجھ کے ایسی بہو لائے ہیں جو نوکری کرتی ہے کہ وہ آپ کے بیٹے کو کمائی میں سپورٹ کرئے گی تو اس سے اس بات پہ جھگڑے مت کریں کہ وہ گھر کو صحیح نہیں سنبھال رہی۔ اگر وہ کمائی میں مدد کر رہی ہے تو گھر سنبھالنے میں آپ کا بیٹا بھی اتنا ہی زمہ دار ہے جتنی کہ بہو۔

اس کے ساتھ بہو کی جاب کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بیٹا نوکری چھوڑ کے بیٹھ جائے یا اس پہ کمانے اور گھر چلانے کی زمہ داری ختم ہو گئی ہے۔
یا وہ گھر اور بچوں کا خرچ بالکل نہیں دے گا کیونکہ بیوی کی اچھی تنخواہ آتی ہے۔ اس بات پہ بیٹے کو شہہ مت دیں۔

میاں بیوی خود بیلنس کریں گے اخراجات بھی اور گھر کی زمہ داریوں کو بھی۔ یہ ان کا کام ہے آپ کا نہیں۔ نا لڑکی کے والدین نا لڑکے کے۔ اس میں اچھا یہ ہے دونوں اپنی تنخواہوں کو ایک جگہ جمع کریں اور اس میں سے خرچ کریں۔

جاب والی بہو سے تقاضے کرنا کہ وہ کمائے بھی گھر بھی سنبھالے اور نکھٹو بیٹے کو ٹرے لگا کے گرم گرم روٹی پکا کے کھانا پیش بھی کرئے بلکل جہالت ہے۔

بہو کی تنخواہ کتنی ہے اور وہ کہاں خرچ کرتی ہے یہ بھی آپ کا معاملہ نہیں ہے۔

اگلی بات بہو کو جو زیورات آپ نے شادی پہ تحفے کے طور پہ دیے ہیں وہ اسی کے ہیں وہ ان کو پہنے نا پہنے بیچ دے جو بھی کرئے۔ پہلے ہی سوچ سمجھ کے اتنا دیں جتنا آپ بھی ہضم کر لیں بعد میں جتانا، واپس مانگنا، حساب لینا شدید ترین کم ظرفی ہے۔

شادی پہ جو پیسے مہمانوں نے آپ کو دیے وہ آپ کے ہیں جو دلہن یا دلہا کو دیے وہ انہی کے ہیں دلہن سے سلامیاں منہ دکھائیاں رکھ لینا بہت چھوٹی حرکت ہے۔

بچوں کے عقیقے باپ کی زمہ داری ہے دادا ، نانا ، چچا، تایا، ماموں کی نہیں کہ وہ عقیقہ منعقد کریں اور بچے کو ملنے والے سب پیسے سمیٹ لیں کہ خرچہ ہم نے کیا۔ یہی کرنا ہے تو آپ لوگ ہرگز خرچہ مت کریں اپنے بیٹے کو کرنے دیں وہ اپنی استطاعت کے مطابق عقیقے سالگرائیں کرئے نا کرئے۔

عورت کی ڈیلیوری کا خرچہ شوہر کی زمہ داری ہے بیوی کے والدین کی نہیں۔

جب بہووں کو مشکل اور کمزور وقت میں شوہر سے الگ کر کے ڈیلیوری کے لیے اس کے ماں باپ کے گھر روانہ کر دیا جاتا ہے پریگنینسی میں اس کے کھانے پینے اور آرام کا خیال نہیں رکھا جاتا تو اپنے بڑھاپے اور بیماری میں اپنی بکنگ بھی بیٹیوں کی طرف کروا لیں بہوؤں کو اس بات پہ مت کوسیں کہ ساس بیمار ہوئی تو خدمت نہیں کی۔

بہو کو رکھیں یا چھوڑیں اپنے کاکے کو انگلیوں پہ نچائیں لیکن یاد رکھیں کہ بچوں کی زمہ داری باپ ہی کی ہے ان کا مکمل خرچہ باپ ہی اٹھائے گا۔

ہمارے یہاں بہو بیٹے کی لڑائی کا خاص طور پہ لڑکے کے والدین اپنی لڑائی بنا کے لڑنا شروع ہو جاتے ہیں اپنی عمر اور رتبے کا کچھ تو خیال کریں۔

بہو لانے سے پہلے اس کی شکل و صورت، اخلاق، کردار، سگھڑاپا، تعلیم، تربیت، ذات برادری، خاندان، حسب نسب اور نفسیاتی مسائل کا اچھی طرح جائزہ لے لیں اور ساتھ ایک بار اپنی اور اپنے بیٹے کی شکل، تعلیم، تربیت، خاندان اور اپنے نفسیاتی مسائل پہ بھی ایک نگاہ ڈال لیں۔ اس کے بعد جس لڑکی کو گھر لائیں بعد میں اس کے بخیے مت ادھیڑیں ۔

ﷲ نے سب سے پہلا رشتہ شوہر اور بیوی کا بنایا ہے اس کائنات میں سب سے قریبی تعلق بھی یہی ہے۔ ان کو علیحدہ کرنا شیطانی عمل ہے۔
Copied

11/10/2024

ایک صاحب کو انگور بہت پسند تھے… صبح اپنی فیکٹری جاتے ہوئے انہیں راستے میں اچھے انگور نظر آئے…انہوں نے گاڑی روکی اور دوکلو انگور خرید کر نوکر کے ہاتھ گھر بھجوا دئیے اور خود اپنی تجارت پر چلے گئے… دوپہر کو کھانے کے لئے واپس گھر آئے…دستر خوان پر سب کچھ موجود تھا مگر انگور غائب… انہوں نے انگوروں کا پوچھا… گھر والوں نے بتایا کہ وہ تو بچوں نے کھا لئے…کچھ ہم نے چکھ لئے…معمولی واقعہ تھا مگر بعض معمولی جھٹکے انسان کو بہت اونچا کر دیتے ہیں… اور اس کے دل کے تالے کھول دیتے ہیں… وہ صاحب فوراً دستر خوان سے اٹھے… اپنی تجوری کھولی، نوٹوں کی بہت سی گڈیاں نکال کر بیگ میں ڈالیں اور گھر سے نکل گئے… انہوںنے اپنے کچھ ملازم بھی بلوا لئے …پہلے وہ ایک پراپرٹی والے کے پاس گئے … کئی پلاٹوں میں سے ایک پلاٹ منتخب کیا…فوراً اس کی قیمت ادا کی…پھر ٹھیکیدار اور انجینئر کو بلایا … جگہ کا عارضی نقشہ بنوا کر ٹھیکیدار کو مسجد کی تعمیر کے لئے… کافی رقم دے دی… اور کہا دو گھنٹے میں کھدائی شروع ہونی چاہیے…وہ یہ سب کام اس طرح تیزی سے کر رہے تھے…جیسے آج مغرب کی اذان تک ان کی زندگی باقی ہو…ان کاموں میں ہفتے اور مہینے لگ جاتے ہیں… مگر جب دل میں اخلاص کی قوت ہو… ہاتھ بخل اور کنجوسی سے آزاد ہو تو… مہینوں کے کام منٹوں میں ہو جاتے ہے…
یہی صورتحال تاجر صاحب کے ساتھ بھی ہوئی… اخلاص اور شوق کی طاقت نے …چند گھنٹوں میں سارے کام کرا دئیے… بہترین موقع کا پلاٹ بھی مل گیا… اچھا انجینئر اور اچھا ٹھیکیدار بھی ہاتھ آ گیا… اور مغرب کی اذان سے پہلے پہلے کھدائی اور تعمیر کا کام بھی شروع ہو گیا …شام کو وہ صاحب واپس گھر آئے تو گھر والوں نے پوچھا کہ آج آپ کھانا چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے؟… کہنے لگے… اپنے اصلی گھر اور اصلی رہائشی گاہ کا انتظام کرنے…اور وہاں کھانے پینے کا نظام بنانے گیا تھا…الحمد للہ سارا انتظام ہو گیا … اب سکون سے مر سکتا ہوں… آپ لوگوں نے تو میری زندگی میں ہی… انگور کے چار دانے میرے لئے چھوڑنا گوارہ نہ کئے… اور میں اپنا سب کچھ آپ لوگوں کے لئے چھوڑ کر جا رہا تھا … میرے مرنے کے بعد آپ نے مجھے کیا بھیجنا تھا؟ … اس لئے اب میں نے خود ہی اپنے مال کا ایک بڑا حصہ اپنے لئے آگے بھیج دیا ہے…اس پر میرا دل بہت سکون محسوس کر رہا ہے.
اس پوری تحریر نے ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے.
جب تک موت کی کیفیت طاری نہ ہو جائے
اس میسج کو Delete کرنے سے پہلے کسی ایک کو ضرور بهیج دیں.

11/10/2024

ایک عورت ایک ذہنی معذور شخص کے پاس سے گزری، جو زمین پر ایک چھڑی سے کچھ بنا رہا تھا۔ اس کے دل میں اس کے لیے ہمدردی پیدا ہوئی اور اس سے پوچھا: "تم یہاں کیا کر رہے ہو؟"

اس شخص نے جواب دیا:
میں جنت بنا رہا ہوں اور اسے حصوں میں تقسیم کر رہا ہوں۔"
عورت مسکرائی اور کہا: "کیا میں اس میں سے ایک حصہ لے سکتی ہوں؟ اور اس کی قیمت کتنی ہے؟

اس شخص نے اسے دیکھا اور کہا:
ہاں، ایک حصہ بیس ریال میں ہے۔
عورت نے اسے بیس ریال اور کچھ کھانا دیا اور وہاں سے چلی گئی۔

اُس رات عورت نے خواب میں خود کو جنت میں دیکھا۔ صبح وہ خواب اپنے شوہر کو سنائی اور جو کچھ ہوا تھا وہ بھی بتایا۔
شوہر فوراً اس شخص کے پاس گیا اور کہا: "میں بھی جنت کا ایک حصہ خریدنا چاہتا ہوں، اس کی قیمت کیا ہے؟
اس شخص نے جواب دیا: "میں تمہیں نہیں بیچتا۔"

شوہر حیران ہوا اور بولا: "کل تو تم نے میری بیوی کو بیس ریال میں جنت کا ایک حصہ بیچا تھا!
ذہنی معذور شخص نے کہا: "تمہاری بیوی جنت بیس ریال میں نہیں خرید رہی تھی، بلکہ وہ میرا دل خوش کر رہی تھی۔ اور تم تو صرف جنت خریدنا چاہتے ہو، جبکہ جنت کی کوئی خاص قیمت نہیں ہے، کیونکہ جنت تک پہنچنے کا راستہ ’دل خوش کرنے‘ سے ہو کر گزرتا ہے۔

لوگوں کے دل خوش کرو، کیونکہ جو دل خوش کرنے والوں کے ساتھ چلتا ہے، اللہ اسے خطرات سے بچا لیتا ہے۔❤️

Dirección

Guatemala City

Horario de Apertura

Lunes 14:00 - 14:30
Martes 14:00 - 14:30
Miércoles 14:00 - 14:30
Jueves 14:00 - 14:30
Viernes 14:00 - 14:30
Sábado 14:00 - 14:30
Domingo 14:00 - 14:30

Teléfono

+923194317415

Página web

Notificaciones

Sé el primero en enterarse y déjanos enviarle un correo electrónico cuando online Quran academy publique noticias y promociones. Su dirección de correo electrónico no se utilizará para ningún otro fin, y puede darse de baja en cualquier momento.

Contacto El Lugar De Culto

Enviar un mensaje a online Quran academy:

Compartir

Categoría