13/07/2026
اللہ سبحان و تعالی نے دینِ اسلام کو محض عبادات اور دین کا مجموعہ نہیں بنایا، بلکہ اسے انسان کی انفرادی، اجتماعی، جسمانی اور روحانی فلاح کا مکمل ضابطۂ حیات عطا فرمایا ہے۔
عبادات، خوراک، احتیاط، پرہیز، اعتدال، صبر اور نظمِ زندگی کے ذریعے انسان کو ایسی راہ دکھائی گئی ہے جو اسے صحت مند جسم، مضبوط قلب، طویل عمری اور بامقصد زندگی کی طرف لے جاتی ہے۔ جو شخص ان الٰہی اصولوں کو سمجھ کر اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے، وہ دنیا میں بھی سکون پاتا ہے اور آخرت میں بھی کامیابی کا امیدوار بنتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ بے شمار لوگ صحت سے متعلق ان قیمتی تعلیمات کو نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی ان پر عمل کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ نتیجتاً وہ اپنی سب سے بڑی نعمت، یعنی صحت، کو رفتہ رفتہ کھو دیتے ہیں۔ جب انسان علم سے دور ہو جائے تو بیماری اس کے قریب آ جاتی ہے، اور جب شعور ماند پڑ جائے تو علاج بھی مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔
اسی غفلت کی ایک دردناک تصویر پاکستان میں ذیابیطس کی بڑھتی ہوئی شرح ہے۔ 20 سے 79 سال کی عمر کے 13 کروڑ 4 لاکھ بالغ افراد میں سے 3 کروڑ 45 لاکھ بالغ افراد ذیابیطس کا شکار ہو چکے ہیں، یعنی بالغ آبادی کا 31.4 فیصد۔ دوسرے لفظوں میں، ہر تین بالغ افراد میں سے ایک ذیابیطس میں مبتلا ہے، اور پاکستان اس مرض سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شمار ہونے لگا ہے۔ یہ اعداد و شمار محض ایک طبی مسئلہ نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی بے توجہی، صحت سے متعلق شعور کی کمی اور درست طرزِ زندگی سے دوری کا آئینہ ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ صحت اتفاق کا نہیں بلکہ انتخاب کا نام ہے۔ جب انسان اپنی غذا، ورزش، آرام اور روزمرہ عادات کے بارے میں درست علم حاصل کرتا ہے اور انہیں مستقل مزاجی سے اپنی زندگی میں نافذ کرتا ہے تو وہ نہ صرف بیماریوں سے بڑی حد تک محفوظ رہتا ہے بلکہ ایک متوازن، باوقار اور خوشحال زندگی بھی گزارتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی عطا کردصحت کی نعمت کی قدر کرنے، اس کے بارے میں صحیح علم حاصل کرنے، اور اپنی زندگی کو ان الٰہی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
جزاکم اللہ خیراً۔