Islam

Islam Anything about Islam

26/05/2024

سورۃ أنعام ... کی کچھ خصوصیات ایسی ہیں کہ جو اسے ایک انتہائی سپیشل سورۃ بنا دیتی ہیں مثلاً ...

جب یہ سورۃ نازل ہوئی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ سبحان اللہ ... اس سورۃ نے تو پورے آسمان کو فرشتوں کے ساتھ بھر دیا (المستدرک للحاکم 3226)

اور جس رات یہ سورۃ نازل ہوئی تھی ، اسے رات ... آپ ﷺ نے اسے قلمبند بھی کروا دیا تھا ۔

عبداللہ بن رباحؓ کہتے ہیں کہ الأنعام کے شروع سے لے کر سورۃ ھود کے آخر تک ... پوری کی پوری تورات کی تعلیمات موجود ہیں (سنن دارمی 3445)

پندرہویں صدی کے ایک مصری مفسر ، محدّث اور مؤرخ تھے علّامہ جلال الدّین سیوطیؒ جنہوں نے پانچ سو سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں اور ان کی تفسیر کا نام ہے ’’الدر منثور فی التفسیر بالماثور‘‘ ۔

مجھے نہیں پتہ کہ اس تفسیر کا پاکستان میں کوئی اردو ترجمہ ہے یا نہیں لیکن ... کچھ باتوں کے حوالے سے یہ تفسیر ، بڑی ہی مایہ ناز تفسیر ہے اور اس کے شروع میں ہی ... امام سیوطیؒ نے ایک بات کہی ہے ۔

کہ اس تفسیر کے اندر میں نے کہیں بھی ... اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا بلکہ تمام تر روایات صرف اور صرف احادیث اور آثار سے لی ہیں ۔

اور یہ بات سچ ہے کہ امام سیوطی نے اس تفسیر میں دس ہزار تو صرف حدیثیں ہی لکھی ہیں لیکن اسے مکمل کرنے کے بعد انہیں ایک چیز نے بہت زیادہ ہرٹ کیا ۔

وہ کہتے ہیں کہ میں دیکھ رہا ہوں لوگوں میں علم حاصل کرنے کا شوق کم ہوتا چلا جا رہا ہے ، ان کی ہمتیں ماند پڑ رہی ہیں ۔

لیکن پھر بھی ... اپنے شوق اور محبّت کی خاطر انہوں نے اپنی تفسیر کی تمام تر روایات کو revise کرنے کا سوچا کہ مستند اور کمزور روایات کو الگ کروں لیکن اسی دوران ، ان کی وفات ہو گئی اور یہ کام ... ادھورا رہ گیا ۔

وہ اسی دکھ کے ساتھ اس دنیا سے چلے گئے کہ لوگ اب سیکھنے میں دلچسپی کیوں نہیں لیتے ؟ ... میں اُن کی اس فیلنگ کو بہت اچھی طرح سے محسوس سکتا ہوں ۔

بہرحال الدر منثور میں امام سیوطیؒ نے إبن عباسؓ سے الأنعام کی فضیلت میں ایک روایت لی ہے کہ جو شخص ... فجر کی نماز میں ... تلاوت کے لیے الأنعام کی پہلی تین آیات پڑھے اس کے لیے ...

اللہ تعالیٰ آسمان سے چالیس ہزار فرشتے نازل فرماتا ہے کہ جو قیامت کے دن تک ... اس شخص کے لیے استغفار کرتے رہیں گے ۔

اور ان کے ساتھ ایک فرشتہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس کے ہاتھ میں ... لوہے کا ایک ہتھوڑا ہوتا ہے اور جب بھی کوئی شیطان ... اس شخص کے قریب آنے کی کوشش کرے تو وہ فرشتہ ... اپنے ہتھوڑے سے اسے ایک شدید قسم کی مار دے مارتا ہے ۔

اگر یہ روایت صحیح ہے ... تو صرف ایک منٹ کے لیے اس منظر کو امیجن کریں کہ جب وہ فرشتہ ... اُس شیطان کو ہتھوڑے سے مار کر ہم سے دور کر دیتا ہو گا ... امیزنگ ۔

اب الأنعام ویسے تو ایک مکّی سورۃ ہے لیکن اس کی بیسویں آیت ... مدینہ منوّرہ میں نازل ہوئی تھی کہ ’’جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ... وہ رسول کو اس طرح پہچانتے ہیں کہ جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہوں‘‘ (الأنعام 06:20)

یہ اہل کتاب کون تھے ؟ ... عموماً ہم انہیں یہود و نصاریٰ ہی سمجھتے ہیں لیکن اس لیول کے ساتھ اسی لیول کی accuracy ہونا بھی بہت ضروری ہے اس لیے ... میں نے مدینہ کے پرانے ڈیموگرافکس کے متعلق مزید جاننے کی کوشش کی ۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ دور جاہلیت میں عربوں نے اپنی تاریخ یا ڈیموگرافی لکھنے میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی اور اگر دلچسپی تھی بھی ... تو بس قسبل از إسلام کی شاعری کی حد تک ۔

لیکن ان قدیم ڈاکیومنٹس میں ... 1590ء میں ایک عربی رسالہ چھپا تھا ’’المرقس‘‘ جس میں کچھ نہ کچھ تاریخی معلومات ... مل ہی جاتی ہے اور اس رسالے کے مطابق مدینہ میں عیسائیوں کی نسبت کہیں زیادہ تعداد میں یہودی آباد تھے ۔

عیسائیوں میں سے بھی زیادہ تر وہ فرقہ تھا جسے آج ... ہم davidians کہتے ہیں ، یعنی وہ لوگ ... کہ جو حضرت داؤدؑ کی تعظیم میں حد سے زیادہ آگے بڑھ جاتے ہیں اور اسی وجہ سے ... نبی ﷺ کے دور کے کلیساء نے انہیں ریجکٹ کر دیا تھا ۔

لیکن یہودی ... مدینہ میں بہت زیادہ dominant آبادی کے ساتھ رہتے تھے اور بار بار ... وہ آپ ﷺ کی نبوّت کو ٹیسٹ کرنے کے لیے آتے رہتے تھے مثلاً ...

ایک حدیث ہے جسے شیخ ناصر الدّین البانی نے اپنی کتاب ’’سلسلہ احادیث صحیحۃ‘‘ میں لکھا ہے اور یہ وہ کتاب ہے جس کے متعلّق مشہور ہے ... کہ یہ ماڈرن دور میں بخاری اور مسلم کے لیول کی کتاب ہے ۔

البانیؒ کی لائی ہوئی اس حدیث کا نمبر ہے 3882 اور اس میں ایک واقعہ درج ہے کہ ایک مرتبہ ...

کچھ یہودی آپؐ کے پاس آئے اور کہا کہ اے ابو القاسم ! ... ہم آپ سے کچھ سوال پوچھنا چاہتے ہیں اور اگر آپ نے صحیح جواب دے دیئے ... تو ہم آپ کی پیروی کر لیں گے ۔

اور پھر انہوں نے اپنے سوالات پوچھے جن میں سے پہلا سوال تھا کہ آپ ... ہمیں ایک نبی کی نشانیاں بتایئے !

دوسرا سوال تھا کہ ہمیں یہ بتایئے کہ مذکر اور مؤنث کی پیدائش ... مختلف کیوں ہوتی ہے ؟

اور تیسرا سوال یہ تھا کہ رعد کون ہے ؟

محمد الرّسول اللہ ﷺ نے ان تینوں سوالوں کے جواب دے دیئے اور وہ لوگ خاموشی کے ساتھ واپس چلے گئے ۔

اب دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ... صرف ایک حدیث تھی حالانکہ یہودیوں نے آپؐ سے کئی بار ... اور بار بار سوال کیے کہ جو اُن کا ایک ٹیسٹ ہوتا تھا ۔

حالانکہ پہچانتے تو وہ آپؐ کو بہت پہلے سے تھے کیوں کہ یہ بات ہمیں اللہ تعالیٰ نے الأنعام میں بتا دی ہے کہ اے محمد ! یہ آپ کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں ۔

حتیٰ کہ ... جب آپ ﷺ ابھی صرف بارہ سال کے تھے تبھی ... بحیرۃ نامی ایک راہب نے ابو طالب کو کہہ دیا تھا کہ ابو طالب ! ... اپنے بھتیجے کو یہودیوں سے بچا کر رکھنا ، اگر انہوں نے انہیں دیکھ لیا تو وہ انہیں پہچان لیں گے ۔

آج  کا یہ آرٹیکل ایک بہت ہی تکلیف دہ واقعہ کی یاد میں ہے ۔حضرت علیؓ کی شہادت کا آنکھوں دیکھا حال ۔جب ابن ملجم نے کوفہ کی...
26/01/2024

آج کا یہ آرٹیکل ایک بہت ہی تکلیف دہ واقعہ کی یاد میں ہے ۔حضرت علیؓ کی شہادت کا آنکھوں دیکھا حال ۔

جب ابن ملجم نے کوفہ کی مسجد میں علیؓ کی پیشانی پرایک ایسی تلوار سے وار کیا کہ جو زہر میں بجھی ہوئی تھی ۔جس کے وار سے آپؑ fatally زخمی ہو گئے اور پھر دو دن بعد آپؓ کی شہادت ہو گئی تھی ۔

شاید یہ واقعہ آ پ نے پہلے بھی سن رکھا ہو گا لیکن آج میں آپ کو یہ واقعہ ایک ایسے عینی شاہد کی گواہی کے ذریعے سنانا چاہتا ہوں کہ جس نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور یہ واقعہ شروع ہوتا ہے کچھ اس طرح سے ۔

اگرچہ تاریخوں میں تھوڑا سا اختلاف ہے لیکن اتنا ضرور کنفرم ہے کہ رمضان کا مہینہ تھا اور جنوری کی یہی تاریخیں تھیں اور اس رات تابعی محمد بن حنیفہؒ کوفہ کی مسجد میں ساری رات رمضان کی عبادت اور اذکار میں مگن تھے ۔

محمد کہتے ہیں کہ مسجد میں نہ صرف میں بلکہ میرے علاوہ کئی لوگ رمضان کی عبادات کر رہے تھے اور اور جب صبح کا وقت ہوا تو مجھے علیؓ کی آواز آئی کہ نماز کے لیے کھڑے ہو جاؤ ۔اب مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ الفاظ علیؓ نے چوکھٹ کے باہر سے ہی کہے تھے یا پھر مسجد کے اندر داخل ہو کر لیکن اس کے فوراً بعد ہی میں نے تلوار کی ایک چمک دیکھی اور کسی نے چلا کر کہا کہ اے علی ! اللہ کے علاوہ کسی کا حکم نہیں ۔ حکم کا اختیار نہ تجھے ہے اور نہ تیرے ساتھیوں کو -محمد کہتے ہیں کہ پھر میں نے تلوار کی ایک اور چمک دیکھی اور مجھے علیؓ کی آواز آئی کہ اسے پکڑو ! یہ شخص بچ کر نہ نکلے ۔اور پھر لوگ ہر طرف سے اس پر ٹوٹ پڑے اور تھوڑی ہی دیر میں ابن ملجم کو پکڑ کر آپؓ کے سامنے پیش کر دیا گیا ۔

محمد کہتے ہیں کہ میں بھی بھاگ کر وہاں پہنچا اور دیکھتا ہوں کہ علیؓ کہہ رہے ہیں جان کے بدلے جان ہے ۔ اگر میں مر گیا ... تو تم اسے بھی اسی طرح قتل کر دینا جس طرح اس نے مجھے قتل کیا ہے اور اگر میں زندہ بچ گیا تو اس کا فیصلہ میں خود کروں گا ۔یہ تھی اس واقعے کے عینی شاہد حضرت محمد ابن حنیفہؒ کی گواہی اور اب میں آپ کو یہ واقعہ ایکسپلین کروں گا کہ اس روز آخر ہوا کیا تھا ؟ اور کیوں ہوا تھا ؟

یہ سچ ہے کہ حضرت علیؓ کو اپنی شہادت کے متعلق علم پہلے ہی سے تھا کیوں کہ اس کی ایک پیشنگوئی انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پہلے ہی سن لی تھی آپؐ کی یہ پیشن گوئی مسند أحمد اور سلسلہ الصحیحہ دونوں میں ہے اور اس حدیث کے مطابق حضرت عمار بن یاسرؓ کہتے ہیں کہ میں اور علی غزوۃ ذی العشیرۃ میں ایک دوسرے کے ساتھی تھے ۔جب راستے میں ایک جگہ پڑاؤ آیا تو ہم نے دیکھا کہ بنی مُدلِج کے کچھ لوگ کھجور کے باغوں میں ... کام کر رہے ہیں تو علی نے مجھے کہا کہ عمار ! ذرا دیکھنا کہ یہ لوگ کس طرح سے کام کر رہے ہیں ۔عمار کہتے ہیں کہ پھر ہم انہیں دیکھتے رہے یہاں تک کہ انہیں دیکھتے دیکھتے ہم لوگ سو گئے اور جب ہماری آنکھ کھلی تو دیکھتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ ہمیں خود سے جگا رہے ہیں ۔ آپؐ ، علیؓ کے کپڑوں پر لگی مٹی دیکھ کر اسے جھاڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ابو تراب ! دو آدمی بڑے ہی بدبخت ہوئے ! ایک تو وہ جس نے صالح ؑ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں اور دوسرا وہ جو تمہیں سر پر ضرب لگائے گا یہاں تک کہ تمہاری داڑھی خون سے بھر جائے گی (مسند أحمد 10330 ، سلسلہ الصحیحہ 3633)

اور یہ پیشن گوئی پوری ہوئی تھی آج کے دن جنوری 661ء میں کہ جب یمن کا ایک شخص عبدالرحمٰن ابن ملجم نہروان کی ہار کا بدلہ لینے کے لیے بذات خود کوفہ آیا تھا ۔جب ابن ملجم کوفہ پہنچا تو وہاں پہنچ کر وہ بنی تمیم الرباب کے کچھ لوگوں سے ملا جو اس وقت بیٹھے نہروان میں مرنے والے اپنے مقتولین کا ذکر کر رہے تھے ۔ان لوگوں میں اس وقت قطامہ نام کی ایک عورت بھی بیٹھی ہوئی تھی جو دیکھنے میں انتہائی حسین تھی اور ابن ملجم چاہتے نہ چاہتے اس عورت کی طرف attract ہو ہی گیا ۔جب یہ بات چیت آگے بڑھی اور قطامہ کو ابن ملجم کی اپنے اندر دلچسپی محسوس ہوئی تو اس نے کہا کہ اگر تو یہ حسن چاہتا ہے تو اس کا تحفہ ہو گا تین ہزار درہم ، ایک غلام اور علیؓ کا قتل ۔

جس پر ابن ملجم راضی ہو گیا اور کہا کہ ٹھیک ہے میں یہ تحفہ دینے کے لیے تیار ہوں لیکن کیا تم کسی ایسے شخص کو جانتی ہو جو اس کام میں میری مدد کر سکے ؟اور تب طامہ نے اسے مزید دو لوگوں سے ملوایا ، ایک تو وردان اور دوسرا شبیب ۔جب ان تینوں plotters کی سازش طے پا گئی کہ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے تو یہ تینوں آخری مرتبہ قطامہ سے ملنے اور اس سے دعا لینے کے لیے آئے اور قطامہ اس وقت اعتکاف میں بیٹھی ہوئی تھی ۔بہرحال قطامہ نے ریشم کی پٹیاں منگوائیں ان لوگوں کے سروں اور بازوؤں پر باندھیں ، انہیں الوداع کیا اور یہ لوگ اندھیرے میں مسجد کے اس دروازے کے سامنے جا کر بیٹھ گئے جہاں سے حضرت علیؓ نے مسجد میں داخل ہونا تھا ۔محمد بن حنیفہؒ نے تلوار کی جو پہلی چمک دیکھی تھی ، وہ دراصل شبیب کی تلوار تھی جو اپنے نشانے سے miss ہو کر دروازے کی چوکھٹ یا طاق پر لگ گئی تھی ۔وہ وار حضرت علیؓ کو لگ نہ سکا لیکن ابن حنیفہؒ نے جو دوسری چمک دیکھی وہ ابن ملجم کا وار تھا جو سیدھا علیؓ کی پیشانی پر لگا تھا ۔

شبیب بعد میں پکڑا گیا اس پر مقدمہ چلا ، اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے جرم میں اسے قتل کر دیا گیا ۔وردان بھاگ کر اپنے گھر چلا گیا اور جب وہ اپنی ریشمی پٹی اور تلوار اتار رہا تھا تو اس کا ایک کزن گھر کے دروازے میں داخل ہوا ۔ اور جب اس نے پوچھا کہ یہ سب کیا ہے ؟تو وردان نے اسے پوری بات بتائی جسے سن کر اس کے اپنے کزن ہی نے نفرت اور غصے میں آ کر وردان کا قتل کر دیا جبکہ ابن ملجم کے ساتھ معاملہ تھوڑا مختلف طرح سے ہوا ۔جب ابن ملجم پکڑا گیا تو نمازیوں میں سے کسی نے اس کے پاؤں پر تلوار ماری کہ وہ وہاں سے بھاگ نہ سکے ۔

پھر جب اسے علیؓ کے سامنے لایا گیا تو آپؑ نے اس سے پوچھا کہ اے اللہ کے دشمن ! کیا تجھ پر میرے کوئی احسانات نہیں ؟

تو اس نے کہا کہ ہاں ہیں ۔

تو علیؓ نے پوچھا کہ پھر تو مجھے کیوں قتل کرنا چاہتا تھا ؟ تو ابن ملجم نے کہا کہ میں چالیس دن تک استخارہ کرتا رہا کہ مخلوق میں سے جو بدترین خلائق ہو وہ قتل ہو جائے ۔ تو اس پر علیؓ نے فرمایا کہ وہ بدترین خلائق بھی تو ہی ہے اور وہ قتل ہونے والا بھی تو ہی ہے ۔

اور اس طرح اس واقعے کے بعد حضرت علیؓ کی شہادت ہو گئی جس کے بعد پھر ان کے بیٹے حضرت حسنؓ نے بذات خود ابن ملجم کو تلوار کے ذریعے ... execute کر دیا ۔حضرت علیؓ کی تدفین اس رات بالکل secrecy میں کی گئی تھی تاکہ آپ کی قبر کو خوارج کے شر سے محفوظ رکھا جا سکے ۔اس قبر کی شناخت آپؑ کی شہادت کے کہیں ڈیڑھ سو سال بعد جا کر خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں ہوئی تھی اور یہ وہ جگہ تھی جہاں آج نجف کا شہر آباد ہے ۔بلکہ نجف کا شہر حضرت علیؓ کی قبر کی شناخت کے بعد ہی پھیلا تھا کیوں کہ پھر وہ شیعہ زائرین کے وزٹ کی ایک بڑی جگہ بنا ۔شروع میں وہاں آپ کی ایک سادہ سی قبر ہی تھی مگر آج جو مزار وہاں موجود ہے وہ اس واقعے کے آٹھ سو سال بعد ایران کے ایک صفوی بادشاہ سام مرزا یا پھر جسے شاہ صفی کہتے ہیں ، نے بنوایا تھا ۔

آپؑ کی secrecy میں کی گئی تدفین کی وجہ ہی سے ایک اختلاف آپؑ کی قبر کے متعلق بھی ہے ، جیسا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اصل قبر دراصل افغانستان میں مزار شریف میں واقع مقام علی پر بنی ہوئی ہے اور نقشبندی صوفیاء کی ایک بڑی تعداد آج بھی وہاں وزٹ کے لیے جاتی ہے

بارہویں صدی یعنی اسلام کے سنہرے دور میں شام کے ایک بہت بڑے شافعی سکالر گزرے ہیں حافظ ابن عساکرؒ ۔ابن عساکرؒ نے 80 جلدوں پر مبنی ایک بہت بڑی تاریخی کتاب لکھی تھی ’’تاریخ الدمشق‘‘۔اس کتاب میں ابن عساکرؒ نے علیؓ کے متعلق ایک بڑا ہی نایاب واقعہ لکھا ہے جو میں آپ کو ضرور سنانا چاہتا ہوں ۔ تاریخ الدمشق میں امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ کے فضائل میں جس قدر روایات وارد ہوئی ہیں شاید کسی اور صحابی کے متعلق نہیں ہوئیں ۔اور یہ بات سچ ہے کہ حضرت علیؓ کے فضائل میں بہت سی روایات آئی ہیں لیکن اس کی درأصل ایک وجہ بھی ہے ۔امام بیہقیؒ کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ کے بہت سارے مخالفین پیدا ہو گئے تھے ۔آپ کے خلاف خارجیوں نے بھی خروج کر دیا تھا تو ان حالات میں اس وقت موجود صحابہ مجبور ہو گئے تھے کہ ہر اس روایت کو بیان کریں جو انہوں نے آپؐ سے سیدنا علیؓ کے فضائل ، مناقب اور محاسن کے بارے میں سن رکھی تھی تاکہ ان روایات کے ذریعے وہ ہر اس پراپیگنڈہ کا ردّ کر سکیں جو امیر المومنین کے خلاف ہو رہا تھا ۔ اور حضرت علیؓ درحقیقت ان فضائل کے باقاعدہ مستحق بھی تھے یعنی یہ کوئی فرضی فضائل نہیں تھے ۔

اور یہاں میں اس واقعے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو ابن عساکر ؒنے اپنی تاریخ الدمشق میں درج کیا ہے ۔ تابعی عمرو بن میمونؒ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ابن عباسؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور یہ ان کے نابینا ہو جانے سے پہلے کا واقعہ ہے تو ان کے پاس نو افراد آئے جو خوارج میں سے تھے اور انہوں نے کہا کہ ابن عباس ! ہم آپ سے اکیلے میں بات کرنا چاہتے ہیں لہٰذا یا تو آپ ہمارے ساتھ آ جائیں یا پھر ان لوگوں کو یہاں سے اٹھا کر بھیج دیں تو ابن عباس نے کہا کہ میں ہی تمہارے ساتھ آ جاتا ہوں ۔اب عمرو کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں پتہ کہ انہوں نے ابن عباسؓ سے کیا بات کی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ابن عباسؓ غصے میں اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے چلے آ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ افسوس انہوں نے ایک ایسے شخص کے بارے میں زبان درازی کی کہ جو دس ایسے فضائل کا مالک ہے جو اس کے علاوہ اور کسی میں نہیں ۔

انہوں نے ایک ایسے شخص کے بارے میں زبان درازی کی جس کے متعلق رسول اللہؐ نے جنگ خیبر میں کہا تھا کہ کل میں اسے بھیجوں گا جسے اللہ کبھی رسواء نہیں کرے گا ۔
وہ شخص وہ شخص جسے اللہ کے رسولؐ نے سورۃ توبہ دے کر بھیجا تھا کہ وہ مشرکین سے برأت کا اعلان کر دیں اور کہا تھا کہ اس سورۃ کو وہی لے کر جائے گا جو مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔
وہ شخص جس کے بارے میں آپؐ نے فرمایا تھا کہ اے علی ! تو دنیا اور آخرت دونوں میں میرا دوست ہے ۔
وہ شخص جس نے سیدۃ خدیجہؓ کے بعد اسلام قبول کرنے میں دیر نہ لگائی تھی ۔
وہ شخص جو اس چادر میں تھا جسے آپؐ نے ، فاطمہؓ ، حسن ؓ اور حسینؓ پر ڈال کر وہ آیت تلاوت کی تھی کہ یا اہل البیت ! اللہ تو چاہتا ہے کہ وہ تم سے ہر قسم کی گندگی کو دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے (الاحزاب 33:33)
وہ شخص کہ جو ہجرت کی رات آپ ؐ کے بستر پر آپؐ ہی کی چادر اوڑھ کر سو گیا تھا
وہ شخص کہ جس نے تبوک کے موقع پر آپؐ سے پوچھا کہ کیا میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا ؟ تو آپ نے منع کر دیا اور وہ آپؐ کے منع کرنے پر رونے لگے ۔ جس پر آپؐ نے فرمایا کہ اے علی ! کیا یہ زیادہ اچھا نہیں کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو کہ جو موسیٰ کی ہارونؑ سے تھی ؟ اے علی میں چاہتا ہوں کہ جب میں باہر جاؤں تو مدینہ میں تم میرے نائب ہو ۔
وہ شخص جس کے بارے میں آپؐ نے فرمایا تھا کہ میرے بعد علی ہر مومن کا ولی اور دوست ہے ۔
وہ شخص جس کے گھر کا دروازہ مسجد نبوی میں تب بھی کھلا رہا
جب سب لوگوں کے مسجد کے صحن میں کھلنے والے دروازے بند ہو گئے تھے ۔
وہ شخص جس کے متعلق آپؐ نے فرمایا تھا کہ جس کا میں مولا ہوں اس کا علی بھی مولا ہے ۔

یہ مکمل اور نایاب روایت ابن عساکرؒ نے اپنی’’تاریخ الدمشق‘‘ میں لکھی ہوئی ہے جبکہ باقی کتابوں میں بھی علیؓ کے فضائل میں
کوئی کمی نہیں ہے ۔تاریخ الدمشق ہی میں ابو طفیلؒ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علیؓ نے مجھ سے کہا کہ ابو طفیل !مجھ سے قرآن کی آیات کے متعلق پوچھ لو یقیناً میں قرآن کی تمام آیات کے متعلق جانتا ہوں کہ کونسی آیت دن کے وقت نازل ہوئی اور کونسی آیت رات کے وقت ۔ کونسی آیت
میدان میں نازل ہوئی اور کونسی آیت پہاڑ پر ۔

مستدرک الحاکم میں حضرت علیؓ سے منسوب ایک اور روایت ہے جہاں آپؑ نے کہا کہ میرے مرنے سے پہلے پہلے مجھ سے جو پوچھنا ہے وہ پوچھ لو کیوں کہ میرے بعد یہ باتیں بتانے والا میری طرح کا اور کوئی نہیں ملے گا ۔

آپ کو شبیب کا وہ جملہ یاد ہے جو اس نے حضرت علیؓ پر تلوار چلاتے وقت بولا تھا کہ اے علی ! حکم صرف اللہ کا ہے ۔شبیب نے ایسا کیوں کہا تھا کیوں کہ بظاہر تو یہ بات بالکل ٹھیک لگتی ہے کہ حکم توواقعی صرف اللہ ہی کا ہوتا ہے ۔بخاری میں ایک حدیث ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علیؓ نے یمن سے آپؐ کی خدمت میں چمڑے کا ایک پاؤچ بھیجا جس میں سونے کی چند ڈلیاں تھی جن پر ابھی تک مٹی لگی ہوئی تھی ۔ وہ ڈلیاں آپؐ نے لوگوں میں تقسیم کر دیں تو ایک شخص نے اس بارے میں کہا کہ اس سونے کے زیادہ حقدار ہم تھے ۔جب آپؐ تک یہ بات پہنچی تو آپؐ نے فرمایا کہ کیا تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں ؟ حالانکہ مجھ پر اس نے اعتبار کیا ہے کہ جو آسمان پر ہے اور صبح و شام مجھ تک اس کی وحی آتی ہے ۔تو اس دوران ایک اور شخص کھڑا ہوا جس کی عجیب سی شکل تھی ۔ اور وہ کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ! اللہ سے ڈرو ! بالکل اسی انداز میں جس طرح سے شبیب بولا تھا ۔تو آپؐ نے فرمایا کہ افسوس ہے تیری ذات پر کیا اس روئے زمین پر اللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق میں ہی نہیں؟

وہ شخص خاموش ہو کر چلا گیا ۔ اب خالد بن ولیدؓ آپؐ کے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے تو وہ آپؐ کے قریب آئے اور کہنے لگے کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں اس شخص پر وار کروں ؟تو آپؐ نے کہا کہ نہیں ، ہو سکتا ہے کہ یہ نماز بھی پڑھتا ہو ؟ تو خالد ؓ نے کہا کہ بہت سے لوگ ہیں کہ جو نماز تو پڑھتے ہیں لیکن اسلام ان کے دل تک نہیں پہنچتا ۔خالدؓ اس بات پر آپؐ نے فرمایا کہ مجھے لوگوں کے دل کو ٹٹولنے یا پیٹ کو چیر کر دیکھنے کا حکم نہیں ملا ۔

پھر آپؐ نے گھوم کر اس شخص کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیرے بازار کی طرف جا رہا تھا ۔آپؐ اسے دیکھتے رہے . اور پھر کہا کہ اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ کتاب اللہ سے ان کی زبانیں تر ہوں گی لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے کہ جیسے تیر شکار کے آر پار نکل جاتا ہے (بخاری 4351)

آپؐ پر اعتراض کرنے والا وہ شخص یمن کا ذوالخویصرۃ تمیمی تھا اور یہی وہ شخص تھا کہ بعد میں جس کی اولاد سے یہ تمام خوارج پیدا ہوئے جن میں سے ایک شخص کا نام عبدالرحمٰن ابن ملجم تھا ۔حضرت علیؓ کا قاتل ان کی باتوں سے بظاہر یوں لگتا تھا کہ یہی لوگ اللہ کا حکم نافذ
کرنے والے ہیں لیکن درحقیقت وہ اسلام سے اس طرح نکل چکے کہ جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے ۔

اس آرٹیکل کے شروع میں ہی میں نے آپ سب کو وہ حدیث سنائی تھی کہ اے علی ! دو شخص بڑے ہی بدبخت ہوئے ... ایک تو وہ کہ جس نے صالحؑ کی اونٹنی کو مارا تھا اور دوسرا وہ کہ جو تیرے سر پر مارے گا ۔میں نے آپ کو یہ بھی بتایا کہ ابن ملجم کے ساتھ سازش رچانے والی ایک عورت قطامہ تھی لیکن کیا آپ کو میری ’’چالیس ہزار سالوں کے علم‘‘ والی سیریز یاد ہے جہاں میں نے بتایا تھا کہ صالحؑ کی اونٹنی پر وار کرنے والے شخص قدار کے ساتھ سازش رچانے والی بھی عنیزہ نام کی ایک عورت ہی تھی ؟
وہ پورا واقعہ میں نے اپنی ڈاکیومنٹری میں لکھا ہے اور اگر آپ نے وہ سیریز نہیں دیکھی تو ضرور دیکھیے گا کیوں کہ إن شاء اللہ آپ کو وہاں سے بھی سیکھنے کے لیے بہت کچھ ملے گا ۔

اس کے علاوہ آپ کی آسانی کے لیے اس آرٹیکل پر میں نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو بھی بنائی ہے جس میں آپ کو کہیں زیادہ تصویریں اور اس پوسٹ کی نسبت کہیں زیادہ انفارمیشن بھی دیکھنے کو مل جائے گی ۔

https://www.youtube.com/
شکریہ :)

فرقان

20/03/2021
حضرت سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ کی قبر
26/09/2020

حضرت سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ کی قبر

مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جو بیت اللہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیم نے اپنے قد سے اونچی دیوار قائم کرنے کے لیے استعمال کیا ...
26/09/2020

مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جو بیت اللہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیم نے اپنے قد سے اونچی دیوار قائم کرنے کے لیے استعمال کیا تھا تاکہ وہ اس پر کھڑے ہوکر دیوار تعمیر کریں

26/09/2020

سیدنا أبو عبيدة عامر بن عبدالله بن الجراح‎‎ کی قبر

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی قبر - استنبول
25/09/2020

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی قبر - استنبول

Beautiful
25/09/2020

Beautiful

28/06/2020

تم میں اتنے گناہ کرے کے ایک ایک بال گناہوں میں جکڑا جائے

ہمارے نبی کریم ﷺ کا روضہ مقدس  مسجد نبوی کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ہے. روضہ مقدس کے اردگرد  سونے اور سبز تانبے اور لوہے...
14/06/2020

ہمارے نبی کریم ﷺ کا روضہ مقدس مسجد نبوی کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ہے. روضہ مقدس کے اردگرد سونے اور سبز تانبے اور لوہے کا جال ہے. روضہ مقدس کے شمالی اور جنوبی جانب دیواریں 16 میٹر طویل اور اس کے مشرقی اور مغربی دیواریں 15 میٹر طویل ہیں ۔

روضہ مقدس کی دیواریں سب سے پہلے 678 ھ/1282 ء میں al-Zahir Baybaras نے تعمیر کی. اس کی اصل اونچائی تین میٹر اونچی تھی اور لکڑی سے بنی تھی ۔ 886 ھ/1481 عیسوی میں مسجد نبوی کی دوسری عظیم آگ کے بعد سلطان اشرف قایتبای نے ان دیواروں کو مرمت کروایا جو آج ہم دیکھتے ہیں ۔ اس علاقے کے اندر روضہ کا حصہ بھی شامل ہے ۔

چیمبر میں چار دروازے ہیں.

باب التهجد ۔ تہجد کا دروازہ - چیمبر کے شمال کی طرف واقع ہے ، تہجد کے محراب کے قریب ، جس جگہ نبی صلى الله عليه وسلم تہجد کا اہتمام فرماتے تھے

باب التوبة ۔ توبہ کا دروازہ – چیمبر کے جنوب کی طرف ۔

باب عائشة ؛ عائشہ کا دروازہ یا باب الوفود ؛ وفود کا دروازہ – چیمبر کے مغرب کی طرف ، استوانہ وفود کے آگے (وفود کا ستون) ۔

باب فاطمة ۔ فاطمہ کا دروازہ – چیمبر کے مشرقی کنارے پر. یہ دروازہ اس سے متصل ہے جہاں فاطمہ رضي الله عنه کا گھر تھا.

صرف باب فاطمہ روضہ مقدس میں داخل ہونے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے. . صرف سعودی حکومت کی طرف سے اجازت دی گئی افراد روضہ مقدس میں داخل ہو سکتے ہیں ۔

یہ وو عظیم اور بابرکت افراد ہیں جن کے ذمے  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ مبارک کھولنا ہے . باقی کوئی اندر نہی جا سکتا س...
14/06/2020

یہ وو عظیم اور بابرکت افراد ہیں جن کے ذمے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ مبارک کھولنا ہے . باقی کوئی اندر نہی جا سکتا سواے ان کے

ان کو AGHWAT کہا جاتا ہے - ان کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چیمبر کی چابی ہوتی ہے اور یہی سرپرست ہوتے ہیں - خلافت عثمانیہ میں ان کی تعداد ہزاروں میں تھی لیکن آج صرف ان کی تعداد 6 ہے . ان میں سے سب سے بڑے کی عمر 107 سال ہے. ان کے لئے مسجد میں ایک نامزد علاقہ ہے اور یہ ان کو دیکھنا ایک بہت بڑا اعزاز ہے

09/06/2020

کمال کی بات نہ تھی کہ مکے میں غلام بلال کو دنیاکے حاکم عمر میرےسردار بلال کہہ کے بلاتے
ایک بزرگ اس بات سے الجھ گئے کہ ہم خاندانی معزز لوگ اورمکے میں غلام ہمیں انتظار کی صعوبت اور یہ کل کا غلام ایسا اہم؟
کسی نے آکے دھیرےسے کہا کہ مت الجھو یہ بلال کالا غریب لیکن عرش پر بہت محبوب ہے

Address

London

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Islam:

Share