07/11/2026
اللہ !
ذرا سوچیے...
ماہرینِ فلکیات کے اندازوں کے مطابق ہماری کہکشاں، ملکی وے، میں تقریباً 400 بلین (چار سو ارب) ستارے موجود ہیں۔ یہ صرف ایک کہکشاں کا اندازہ ہے، جبکہ کائنات میں ایسی بے شمار کہکشائیں ہیں۔
اب ذرا اس تعداد کا اندازہ لگائیے۔
اگر کوئی انسان بغیر کسی وقفے کے، دن رات مسلسل گنتا رہے، تو چار سو ارب تک پہنچنے میں تقریباً یہ وقت لگے گا:
- ہر سیکنڈ 1 عدد: تقریباً 12,683 سال
- ہر سیکنڈ 10 اعداد: تقریباً 1,268 سال
- ہر سیکنڈ 20 اعداد: تقریباً 634 سال
- ہر سیکنڈ 30 اعداد: تقریباً 423 سال
- ہر سیکنڈ 40 اعداد: تقریباً 317 سال
- ہر سیکنڈ 50 اعداد: تقریباً 254 سال
- اگر فرض کر لیا جائے کہ ہر سیکنڈ 100 اعداد گنے جائیں — جو انسان کے لیے عملی طور پر ناممکن کے قریب بلکہ حقیقت میں ناممکن ہے کہ اتنی رفتار سے ہر عدد واضح طور پر ادا اور شمار کیا جا سکے — تب بھی تقریباً 127 سال درکار ہوں گے۔
یعنی ایک پوری انسانی زندگی بھی اس گنتی کو مکمل کرنے کے لیے کافی نہیں۔
یہ تو صرف ہماری اپنی کہکشاں کے ستاروں کی ایک تخمینی تعداد ہے۔
پھر ذرا سوچیں، وہ ذات کتنی عظیم ہے جس نے ان تمام ستاروں کو پیدا کیا، انہیں ان کے راستوں پر قائم رکھا، ہر ایک کا نظام مقرر کیا، اور ان سب کا علم بھی رکھتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا﴾
"اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ خشکی اور سمندر کی ہر چیز کو جانتا ہے، اور کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتا ہے۔"
(سورۃ الأنعام: 59)
انسان اپنی پوری زندگی صرف گنتی میں گزار دے تو بھی ایک کہکشاں کے ستارے نہیں گن سکتا، لیکن اللہ تعالیٰ نہ صرف ہر ستارے کو جانتا ہے بلکہ اس نے ہر ایک کو پیدا کیا، اس کا مقام مقرر کیا، اور وہ ہر لمحہ اس کے حکم کے تابع ہے۔
﴿وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَى﴾
"اور بے شک وہی شعریٰ (ستارے) کا رب ہے۔"
(سورۃ النجم: 49)
سبحان اللہ! یہی اللہ تعالیٰ کی قدرت، عظمت، علم اور ربوبیت کی ایک جھلک ہے، جو انسان کو عاجزی، شکر اور اپنے رب کی معرفت کی طرف دعوت دیتی ہے۔