09/06/2026
عیدِ مباہلہ اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور بابرکت دن ہے جو ہر سال 24 ذوالحجہ کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن دینِ اسلام کی سچائی، پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت اور ان کے پاک اہلِ بیت علیہم السلام کی فضیلت و طہارت کا عظیم الشان مظہر ہے۔اس مبارک دن کا پس منظر، اہمیت اور اعمال درج ذیل ہیں:
1۔ مباہلہ کا لغوی اور اصطلاحی معنیلغوی معنی:
ایک دوسرے پر نفرین یا لعنت کرنا۔اصطلاحی معنی: جب دو فریقین کے درمیان کسی مذہبی معاملے پر بحث و دلائل کے باوجود حق و باطل کا فیصلہ نہ ہو پا رہا ہو، تو دونوں کا بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہو کر جھوٹے پر خدا کی لعنت اور عذاب کی دعا کرنا۔
2۔ تاریخی پس منظر (واقعہ مباہلہ)ہجرت کے دسویں سال (10 ھ)،
رسولِ خداؐ نے نجران کے عیسائیوں کو اسلام کی دعوت دی۔ عیسائیوں کا ایک وفد تحقیق کے لیے مدینہ منورہ آیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الٰہی حیثیت پر طویل بحث و مباحثے کے بعد بھی جب انہوں نے حق کو تسلیم نہ کیا، تو اللہ تعالیٰ کے حکم پر مباہلہ کا فیصلہ ہوا۔قرآن مجید کی آیتِ مباہلہ (سورہ آلِ عمران، آیت 61) نازل ہوئی
:"فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ"
3۔ میدانِ مباہلہ میں اسلام کے نمائندےاللہ کے حکم کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھ کائنات کی سب سے پاکیزہ ہستیوں (اہلِ بیت) کو لے کر میدان میں آئے
:ابناءنا (ہمارے بیٹے): امام حسن اور امام حسین علیہ السلامنساءنا (ہماری خواتین): خاتونِ جنت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاانفسنا (ہماری جانیں): امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام
جب نجران کے پادریوں نے ان نورانی چہروں کو دیکھا، تو ان کے سربراہ نے کہا کہ "میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ خدا سے پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹانے کی دعا کریں تو پہاڑ ٹل جائے گا"۔ عیسائی عذاب کے ڈر سے مباہلہ سے پیچھے ہٹ گئے اور انہوں نے جزیہ دینا قبول کر کے صلح کر لی۔
4۔ عیدِ مباہلہ کی اہمیتیہ دن اسلام کی عیسائیت پر سفارتی اور معنوی فتح کا دن ہے
۔اس واقعے نے رہتی دنیا تک کے لیے پنجتن پاکؑ (اہلِ بیت) کی عظمت، طہارت اور عصمت کو قرآن کی روشنی میں ثابت کر دیا۔حضرت علی علیہ السلام کو رسولِ خداؐ کا "نفس" (جان) قرار دیا گیا。5۔ اس دن کے مستحب اعمالاسلامی کتب کے مطابق، 24 ذوالحجہ کے دن درج ذیل اعمال کی تاکید کی گئی ہے:غسل کرنا (اس دن غسل کرنا سنتِ مؤکدہ کی طرح مستحب ہے)۔روزہ رکھنا (شکرانے کے طور پر)۔دو رکعت نماز پڑھنا (جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد 10 بار سورہ توحید، 10 بار آیت الکرسی اور 10 بار سورہ قدر پڑھی جاتی ہے)۔دعائے مباہلہ کی تلاوت کرنا۔غریبوں اور ضرورت مندوں کو صدقہ و خیرات دینا۔