Raza-e-Masoomeen

Raza-e-Masoomeen Hamara maqsad mohabbat-e-Ahl-e-Bait (AS) ko farogh dena aur ilm-o-agahi ko phelana hai.

Ye page Islami maloomat,Ahl-e-Bait aur Aiyma-e-Tahireen (A.S) ke aqwal-e-zareen, ahadees,waqiat aur deen-e-Islam ki taleemat ko aam karne ke liye qayam kiya gaya hai.

عیدِ مباہلہ اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور بابرکت دن ہے جو ہر سال 24 ذوالحجہ کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن دینِ اسلام کی ...
09/06/2026

عیدِ مباہلہ اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور بابرکت دن ہے جو ہر سال 24 ذوالحجہ کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن دینِ اسلام کی سچائی، پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت اور ان کے پاک اہلِ بیت علیہم السلام کی فضیلت و طہارت کا عظیم الشان مظہر ہے۔اس مبارک دن کا پس منظر، اہمیت اور اعمال درج ذیل ہیں:
1۔ مباہلہ کا لغوی اور اصطلاحی معنیلغوی معنی:
ایک دوسرے پر نفرین یا لعنت کرنا۔اصطلاحی معنی: جب دو فریقین کے درمیان کسی مذہبی معاملے پر بحث و دلائل کے باوجود حق و باطل کا فیصلہ نہ ہو پا رہا ہو، تو دونوں کا بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہو کر جھوٹے پر خدا کی لعنت اور عذاب کی دعا کرنا۔
2۔ تاریخی پس منظر (واقعہ مباہلہ)ہجرت کے دسویں سال (10 ھ)،
رسولِ خداؐ نے نجران کے عیسائیوں کو اسلام کی دعوت دی۔ عیسائیوں کا ایک وفد تحقیق کے لیے مدینہ منورہ آیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الٰہی حیثیت پر طویل بحث و مباحثے کے بعد بھی جب انہوں نے حق کو تسلیم نہ کیا، تو اللہ تعالیٰ کے حکم پر مباہلہ کا فیصلہ ہوا۔قرآن مجید کی آیتِ مباہلہ (سورہ آلِ عمران، آیت 61) نازل ہوئی
:"فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ"
3۔ میدانِ مباہلہ میں اسلام کے نمائندےاللہ کے حکم کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھ کائنات کی سب سے پاکیزہ ہستیوں (اہلِ بیت) کو لے کر میدان میں آئے
:ابناءنا (ہمارے بیٹے): امام حسن اور امام حسین علیہ السلامنساءنا (ہماری خواتین): خاتونِ جنت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاانفسنا (ہماری جانیں): امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام
جب نجران کے پادریوں نے ان نورانی چہروں کو دیکھا، تو ان کے سربراہ نے کہا کہ "میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ خدا سے پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹانے کی دعا کریں تو پہاڑ ٹل جائے گا"۔ عیسائی عذاب کے ڈر سے مباہلہ سے پیچھے ہٹ گئے اور انہوں نے جزیہ دینا قبول کر کے صلح کر لی۔
4۔ عیدِ مباہلہ کی اہمیتیہ دن اسلام کی عیسائیت پر سفارتی اور معنوی فتح کا دن ہے
۔اس واقعے نے رہتی دنیا تک کے لیے پنجتن پاکؑ (اہلِ بیت) کی عظمت، طہارت اور عصمت کو قرآن کی روشنی میں ثابت کر دیا۔حضرت علی علیہ السلام کو رسولِ خداؐ کا "نفس" (جان) قرار دیا گیا。5۔ اس دن کے مستحب اعمالاسلامی کتب کے مطابق، 24 ذوالحجہ کے دن درج ذیل اعمال کی تاکید کی گئی ہے:غسل کرنا (اس دن غسل کرنا سنتِ مؤکدہ کی طرح مستحب ہے)۔روزہ رکھنا (شکرانے کے طور پر)۔دو رکعت نماز پڑھنا (جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد 10 بار سورہ توحید، 10 بار آیت الکرسی اور 10 بار سورہ قدر پڑھی جاتی ہے)۔دعائے مباہلہ کی تلاوت کرنا۔غریبوں اور ضرورت مندوں کو صدقہ و خیرات دینا۔

اگر سمجھ آئے تو اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔شکریہ
08/06/2026

اگر سمجھ آئے تو اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔شکریہ

غم حسین۔۔۔۔۔۔۔   زندگی ھے
08/06/2026

غم حسین۔۔۔۔۔۔۔ زندگی ھے

حضرت میثم التمار کی شہادت سنہ 60 ہجری... (واقعہ کربلا سے چند دن قبل) کوفہ کے گورنر عبید اللہ بن زیاد کے حکم پر دار (سولی...
08/06/2026

حضرت میثم التمار کی شہادت سنہ 60 ہجری...
(واقعہ کربلا سے چند دن قبل) کوفہ کے گورنر عبید اللہ بن زیاد کے حکم پر دار (سولی) پر لٹکا کر کی گئی۔ انہیں یہ سزا حضرت علی علیہ السلام کی محبت کا دم بھرنے اور بنو امیہ کے ظلم کے خلاف حق گوئی کے جرم میں دی گئی تھی۔ان کی شہادت کا تفصیلی واقعہ درج ذیل اہم نکات پر مشتمل ہے:
1۔ حضرت علی علیہ السلام کی پیشگوئی....
حضرت علی علیہ السلام نے میثم تمار کو ان کی زندگی میں ہی بتا دیا تھا کہ انہیں کس طرح شہید کیا جائے گا۔ مولا علی نے ایک مخصوص کھجور کے درخت کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ "اے میثم! تمہیں میری محبت میں اس درخت کے تنے پر سولی دی جائے گی، تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں گے اور تیسرے دن تمہاری زبان کاٹ کر تمہیں خنجر یا گرز مارا جائے گا"۔ حضرت میثم اکثر اس درخت کے پاس جا کر نماز پڑھا کرتے تھے۔2۔ گرفتاری اور ابن زیاد کی عدالت...
سنہ 60 ہجری میں جب حضرت میثم تمار حج کی ادائیگی کے بعد مکہ سے کوفہ واپس آ رہے تھے، تو ابن زیاد کے کارندوں نے انہیں قادسیہ کے مقام پر گرفتار کر لیا۔ جب انہیں عبید اللہ بن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تو ابن زیاد نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ حضرت علی علیہ السلام سے بیزاری کا اظہار کریں اور ان پر لعن طعن کریں، لیکن حضرت میثم نے اس مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا۔
3۔ سولی پر لٹکایا جانا اور حق گوئی...
ابن زیاد کے حکم پر جناب میثم کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے اور انہیں اسی کھجور کے درخت پر سولی پر لٹکا دیا گیا جس کی پیشگوئی حضرت علی نے کی تھی۔ زخمی اور سولی پر لٹکے ہونے کے باوجود، حضرت میثم نے بلند آواز میں لوگوں کو جمع کیا اور دار کے اوپر سے ہی حضرت علی علیہ السلام کے فضائل اور بنی امیہ کے مظالم کو بیان کرنا شروع کر دیا۔
4۔ زبان کاٹا جانا اور آخری لمحہ.....
جب ابن زیاد کو خبر ملی کہ میثم سولی پر لٹک کر بھی لوگوں کے سامنے حق کا پرچار کر رہے ہیں اور حکومت کو رسوا کر رہے ہیں، تو اس نے حکم دیا کہ ان کی زبان کاٹ دی جائے۔ اس طرح اسلام کی تاریخ میں وہ پہلے شخص بنے جن کی زبان حق گوئی کی پاداش میں کاٹی گئی۔ زبان کاٹے جانے کے بعد، ان کے منہ اور ناک سے خون جاری ہوا اور تیسرے دن ایک جلاد نے ان کے پیٹ میں گرز یا خنجر مارا، جس سے ان کی روح پرواز کر گئی اور وہ مرتبۂ شہادت پر فائز ہو گئے۔جناب میثم تمار کا روضہ مبارک آج بھی عراق کے شہر کوفہ میں مسجدِ کوفہ کے قریب واقع ہے جہاں لاکھوں زائرین حاضری دیتے ہیں۔

دے دیا مگر یزید کے ہاتھ میں ہاتھ نہ دیا، حق تو یہ ہے کہ لا الہٰ کی بنیاد ہی حسینؑ ہیں                   # Raza-e-Masoome...
07/06/2026

دے دیا مگر یزید کے ہاتھ میں ہاتھ نہ دیا، حق تو یہ ہے کہ لا الہٰ کی بنیاد ہی حسینؑ ہیں
# Raza-e-Masoomeen

07/06/2026
رحمت عالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله علیهوآله وسلّم نے فرمایا.....
06/06/2026

رحمت عالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله علیه
وآله وسلّم نے فرمایا.....

06/06/2026

ذوالفقار صرف تلوار نہیں تھی۔۔

السلام علیکِ یا مادرِ حسنین کریمین ؑ     #اہلبیت    #کربلا
05/06/2026

السلام علیکِ یا مادرِ حسنین کریمین ؑ
#اہلبیت #کربلا

Address

Wallan, VIC

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Raza-e-Masoomeen posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share