09/07/2024
02 محرم 61 ہجری
امام حسینؑ 2 محرم 61 ھ کو کربلا پہنچے اور کچھ دیر توقف کے بعد اپنے اصحاب اور اہلِ بیتؑ کے سامنے یہ خطبہ ارشاد فرمایا
” امابعد، معاملات نے ہمارے ساتھ جو صورت اختیار کر لی ھے، وہ آپ کے سامنے ھے، یقیناً دنیا نے رنگ بدل لیا ھے اور بہت بری شکل اختیار کر گئی ھے۔ اس کی بھلائیوں نے منھ پھیر لیا ھے اور نیکیاں ختم ھو گئی ہیں اور اب اس میں اتنی ہی اچھائیاں باقی رہ گئی ہیں جتنی کسی برتن کی تہہ میں باقی رہ جانے والا پانی، اب زندگی ایسی ہی ذلت آمیز اور پست ھو گئی ھے جیسا کہ کوئی سنگلاخ اور چٹیل میدان، آپ دیکھ رھے ہیں کہ حق پر عمل نہیں ھو رہا اور کوئی باطل سے روکنے والا نہیں ھے، ان حالات میں مرد مومن کو چاہئیے کہ وہ خدا سے ملنے کی آرزو کرے۔ میں جانبازی اور شجاعت کی موت کو ایک سعادت سمجھتا ھوں اور ظالموں کے ساتھ زندگی گزارنا میرے نزدیک ذلت اور حقارت ھے۔ لوگ دنیا کے غلام ہیں اور دین صرف ان کی زبانوں پر رہتا ھے، یہ بس اس وقت تک دین کے حامی ہیں جب تک ان کی زندگی آرام اور آسائش سے گزرے اور جب امتحان میں ڈالے جائیں تو دیندار بہت کم رہ جاتے ہیں“
(تحف العقول، ص174، تاریخ طبری، ج7، ص300، لہوف، ص69)