خانقاہِ نقشبندیہ چشتیہ قادریہ سہروردیہ اویسیہ شازلیہ کبرویہ

  • Home
  • United Arab Emirates
  • Kpk
  • خانقاہِ نقشبندیہ چشتیہ قادریہ سہروردیہ اویسیہ شازلیہ کبرویہ

خانقاہِ نقشبندیہ چشتیہ قادریہ سہروردیہ اویسیہ شازلیہ کبرویہ Khanqah Naqshbandiya Chohr Shreef is a spiritual and educational Institute based in Haripur Pakistan. Haripur

Khanqah e Naqshbandia - Chistiyyah- Qaddriyya -Sorwardiyya -Owaisiyyah
Chohar Shareef .

حبیب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بار بار ذوق وشوق سے حاضری کا حکم
12/09/2026

حبیب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بار بار ذوق وشوق سے حاضری کا حکم

حضرت رومی انسان کو باطنی نوری روحانی زندگی کی طرف متوجہ کرتے ھیں جو طریقہ اولیاء کی نعمت طیبہ ھے
12/09/2026

حضرت رومی انسان کو باطنی نوری روحانی زندگی کی طرف متوجہ کرتے ھیں جو طریقہ اولیاء کی نعمت طیبہ ھے

جسمانی وایمانی حفاظت اللہ تعالیٰ رب العزت سے طلب کیجیے
12/09/2026

جسمانی وایمانی حفاظت اللہ تعالیٰ رب العزت سے طلب کیجیے

12/09/2026
حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظرحضرت خواجہ معین الدین حسن چشتیؒ، جنہیں محبت اور عقیدت کے...
11/09/2026

حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتیؒ، جنہیں محبت اور عقیدت کے ساتھ خواجہ غریب نوازؒ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، برصغیر کی تاریخ کے سب سے بااثر صوفی بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ غریب نواز کا لقب عام طور پر ’’غریبوں کے محسن‘‘ کے معنی میں سمجھا جاتا ہے اور یہ لقب روایتی طور پر ان کی شفقت، سخاوت اور ضرورت مندوں کی خدمت سے وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔

روایتی روایات کے مطابق حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی پیدائش چھٹی صدی ہجری میں تاریخی خطے سیستان، فارس میں ہوئی۔ ان کی پیدائش کی روایتی تاریخ تقریباً 1141ء سے 1143ء بیان کی جاتی ہے، اگرچہ مؤرخین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کی ابتدائی زندگی کی درست تفصیلات معاصر تاریخی ذرائع سے پوری طرح ثابت نہیں ہوتیں۔

روایتی سوانح میں انہیں رسول اللہ ﷺ کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ان کے والد کا نام عموماً خواجہ غیاث الدین حسن اور والدہ کا نام بی بی ماہِ نور بیان کیا جاتا ہے۔ ان کے بچپن کے بارے میں روایتی تذکروں میں انہیں ایک غوروفکر کرنے والا اور روحانی رجحان رکھنے والا نوجوان بتایا گیا ہے۔

ان کی ابتدائی زندگی عالمِ اسلام کے مشرقی علاقوں میں گزری، جہاں انہوں نے دینی اور علمی تعلیم حاصل کی۔ روایتی سوانح ان کی تعلیم کو وسیع خطۂ خراسان سے جوڑتی ہیں، جبکہ بعد کے تذکروں میں بخارا اور سمرقند جیسے اہم اسلامی علمی مراکز کا بھی ذکر ملتا ہے۔

ان کی ابتدائی زندگی میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب ان کے والد کا انتقال ہوا۔ روایتی روایات کے مطابق انہیں ایک باغ اور ایک چکی وراثت میں ملی، جس کی وجہ سے انہیں دنیاوی اعتبار سے ایک آرام دہ زندگی میسر تھی۔ تاہم صوفی روایات کے مطابق وہ رفتہ رفتہ ایسی زندگی سے بے رغبت ہونے لگے جو مادی چیزوں کے گرد گھومتی ہو، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی معرفت اور گہری روحانی حقیقت کی تلاش شروع کر دی۔

ایک مشہور روایتی واقعے کے مطابق ان کی ملاقات ایک درویش صفت بزرگ ابراہیم قندوزی سے ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ اس ملاقات نے نوجوان معین الدین چشتیؒ کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا اور انہیں دنیاوی وابستگیوں سے دور ہو کر اللہ تعالیٰ کی تلاش میں اپنی زندگی وقف کرنے کی ترغیب ملی۔

اس کے بعد انہوں نے علم، روحانی رہنمائی اور نیک لوگوں کی صحبت کی تلاش میں ایک طویل سفر شروع کیا۔ بالآخر ان کا سفر انہیں خواجہ عثمان ہارونیؒ کی خدمت میں لے گیا، جو ایک عظیم صوفی بزرگ تھے اور بعد میں ان کے روحانی مرشد اور استاد بنے۔

یہیں سے اس عظیم روحانی سفر کا آغاز ہوا جو بالآخر حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کو اجمیر لے گیا اور برصغیر میں تصوف کی تاریخ کے ساتھ ان کے نام کو ہمیشہ کے لیے جوڑ دیا۔

علم لسانی اور علم قلبی نوری الہامی دونوں کے ملاپ سے ہی علمی جامعیت اور عملی صحت پیدا ھوتی ھے اور نور فرقان کی روشنی میں ...
11/09/2026

علم لسانی اور علم قلبی نوری الہامی دونوں کے ملاپ سے ہی علمی جامعیت اور عملی صحت پیدا ھوتی ھے اور نور فرقان کی روشنی میں صراط مستقیم اور ایمان شہودی میسر آتا ھے اور معرفت وقربت کے دروازے کھلتے ھیں

اس مبارک ذکر کے نور کو قلب میں داخل کرنے اور داہمی ذاکر بنانے اور روحانی زندگی پانے کیلیے   مرشد سے بیعت لازمی ھےواٹس ای...
11/09/2026

اس مبارک ذکر کے نور کو قلب میں داخل کرنے اور داہمی ذاکر بنانے اور روحانی زندگی پانے کیلیے مرشد سے بیعت لازمی ھے
واٹس ایپ 03329460576

جمال النبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سُئِل سيدنا جابر هل كان وجه سيدنا رسول الله مثل السيف؟ قال لا بل كان مثل القمر...
11/09/2026

جمال النبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

سُئِل سيدنا جابر هل كان وجه سيدنا رسول الله مثل السيف؟
قال لا بل كان مثل القمر، وسيدنا أبو هريرة يقول في الشمائل: "ما رأيت شيئاً أحسن من رسول الله، كأن الشمس تجري في وجهه"، وفي الشمائل يقول ناعته "لم أرى قبله ولا بعده مثله".
كان سيدنا رسول الله ﷺ إذا دخل مجلسه قام له الصحابة، وهو ﷺ سيد المتواضعين فكان يقول لهم "لا تقوموا لي هذا صنيعي ملوك" ، فدخل مرة بعدها، فظلوا جالسين جميعا وقام سيدنا حسان بن ثابت، فقال له ما منعك أن تجلس كما أمرتك؟ فقال له:
قيامى للعزيزِ عليَّا فرضُ
وتركُ الفرض ما هو مستقيمُ
عَجِبْتُ لِمَنْ لَهُ عقلُ وفهمُ
يَرى هذا الجمالُ ولا يَقومُ

الصحابة تعشقوا جماله ﷺ، أبو سفيان قبل ما يسلم كان يتعجب من أحوال الصحابة مع النبي ﷺ وكان يقول لمشرك قريش "ما رأيت أحدًا يحب أحد كما يحب أصحاب محمد محمدا" ، لم يرى أمير ولا سلطان من حوله يحبونه هكذا، لِما رأوه من جماله ﷺ في الخَلق والخُلُق، كامل مُكَمَّل ﷺ.

التجلیاتTAJALLI ILAHIYAH Asy-Syaikh Al-Arifbillah Al-Imam Syarafuddin Dawud bin  Mahmoud Al-Qaysari Qaddasallahu Sirrahu...
10/09/2026

التجلیات

TAJALLI ILAHIYAH

Asy-Syaikh Al-Arifbillah Al-Imam Syarafuddin Dawud bin Mahmoud Al-Qaysari Qaddasallahu Sirrahu menjelaskan

قال الشيخ العارف بالله الإمام شرف الدين داود بن محمود القيصر قدس الله سره

اِعْلَمْ، أَنَّ لِلْحَقِّ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى بِحَسَبِ ﴿كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ﴾ شُؤُونَاتٍ وَتَجَلِّيَاتٍ فِي مَرَاتِبِ الْإِلَهِيَّةِ وَأَنَّ لَهُ بِحَسَبِ شُؤُونِهِ وَمَرَاتِبِهِ صِفَاتٍ وَأَسْمَاءً. وَالصِّفَاتُ إِمَّا إِيجَابِيَّةٌ أَوْ سَلْبِيَّةٌ؛ وَالْأَوَّلُ إِمَّا حَقِيقِيَّةٌ لَا إِضَافَةَ فِيهَا كَالْحَيَاةِ وَالْوُجُوبِ وَالْقَيُّومِيَّةِ عَلَى أَحَدِ مَعْنَيَيْهَا، أَوْ إِضَافَةٌ مَحْضَةٌ كَالْأَوَّلِيَّةِ وَالْآخِرِيَّةِ، أَوْ ذُو إِضَافَةٍ كَالرُّبُوبِيَّةِ وَالْعِلْمِ وَالْإِرَادَةِ. وَالثَّانِيَةُ كَالْغِنَى وَالْقُدُّوسِيَّةِ وَالسُّبُّوحِيَّةِ. وَلِكُلٍّ مِنْهَا نَوْعٌ مِنَ الْوُجُودِ سَوَاءٌ كَانَتْ إِيجَابِيَّةً أَوْ سَلْبِيَّةً؛ لِأَنَّ الْوُجُودَ يَعْرِضُ الْعَدَمَ وَالْمَعْدُومَ أَيْضًا مِنْ وَجْهٍ وَلَيْسَتْ إِلَّا تَجَلِّيَاتِ ذَاتِهِ تَعَالَى بِحَسَبِ مَرَاتِبِهِ الَّتِي تَجْمَعُهَا مَرْتَبَةُ الْأُلُوهِيَّةِ الْمَنْعُوتَةُ بِلِسَانِ الشَّرْعِ بِـ **«الْعَمَاءِ»**؛ وَهِيَ أَوَّلُ كَثْرَةٍ وَقَعَتْ فِي الْوُجُودِ وَبَرْزَخٌ بَيْنَ الْحَضْرَةِ الْأَحَدِيَّةِ الذَّاتِيَّةِ وَبَيْنَ الْمَظَاهِرِ الْخَلْقِيَّةِ لِأَنَّ ذَاتَهُ تَعَالَى اقْتَضَتْ بِذَاتِهِ حَسَبَ مَرَاتِبِ الْأُلُوهِيَّةِ وَالرُّبُوبِيَّةِ صِفَاتٍ مُتَعَدِّدَةً مُتَقَابِلَةً كَاللُّطْفِ وَالْقَهْرِ وَالرَّحْمَةِ وَالْغَضَبِ وَالرِّضَا وَالسَّخَطِ وَغَيْرِهَا، وَتَجْمَعُهَا النُّعُوتُ الْجَمَالِيَّةُ وَالْجَلَالِيَّةُ إِذْ كُلُّ مَا يَتَعَلَّقُ بِاللُّطْفِ هُوَ الْجَمَالُ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِالْقَهْرِ هُوَ الْجَلَالُ. وَلِكُلِّ جَمَالٍ أَيْضًا جَلَالٌ...

Ketahuilah, bahwa bagi Al-Haqq (Allah) Subhanahu wa Ta'ala berdasarkan firman "Setiap hari Dia dalam kesibukan (Sya'n)" [Ar-Rahman:29] terdapat syu'un (kesibukan-kesibukan/kehendak) dan tajalliyat (penampakan diri) di dalam martabat-martabat ketuhanan, dan bahwa bagi-Nya berdasarkan syu'un dan martabat-Nya itu terdapat sifat-sifat dan nama-nama.
Sifat-sifat itu ada yang ijabiyah (positif/menetapkan sesuatu) dan ada yang salbiyah (negatif/meniadakan kekurangan). Yang pertama (ijabiyah) ada kalanya haqiqiyah yang tidak ada idhafah (keterkaitan dengan selainnya) seperti al-Hayah (Maha Hidup), al-Wujub (Wajib Wujud), dan al-Qayyumiyah. Ada kalanya idhafah murni seperti al-Awwaliyah (Maha Awal) dan al-Akhiriyah (Maha Akhir), dan ada kalanya dzu idhafah (memiliki keterkaitan) seperti ar-Rububiyah (Maha Mengatur), al-'Ilm, dan al-Iradah. Sedangkan yang kedua (salbiyah) seperti al-Ghina (Maha Kaya/tidak butuh), al-Quddusiyah (Maha Suci) dan as-Subbuhiyah (Maha Suci).
Masing-masing sifat itu memiliki satu jenis wujud, baik itu ijabiyah maupun salbiyah; karena wujud itu bisa menyentuh 'adam (ketiadaan) dan yang ma'dum (tidak ada) juga dari satu sisi. Dan sifat-sifat itu tidak lain adalah tajalli-tajalli Dzat-Nya Ta'ala berdasarkan martabat-martabat-Nya yang semuanya terkumpul dalam martabat Uluhiyah yang dalam bahasa syariat disebut dengan "Al-'Ama'" (Kabut). Martabat inilah keragaman pertama yang terjadi dalam wujud dan menjadi barzakh (pemisah/penghubung) antara Hadhrat Ahadiyah Dzatiyah dengan mazhahir-mazhahir makhluk. Karena Dzat-Nya Ta'ala menuntut dengan Dzat-Nya sendiri berdasarkan martabat Uluhiyah dan Rububiyah sifat-sifat yang bermacam-macam dan saling berhadapan seperti al-Luthf (kelembutan) dan al-Qahr (pemaksaan), ar-Rahmah dan al-Ghadhab, ar-Ridha dan as-Sakhath, dan lainnya. Semua itu terkumpul dalam dua kelompok: Sifat Jamaliyah dan Jalaliyah. Karena setiap yang berkaitan dengan kelembutan adalah Jamal (Keindahan), dan yang berkaitan dengan kekerasan adalah Jalal (Keagungan).

كَالْهَيْمَانِ الْحَاصِلِ مِنَ الْجَمَالِ الْإِلَهِيِّ فَإِنَّهُ عِبَارَةٌ عَنْ انْقِهَارِ الْعَقْلِ مِنْهُ وَتَحَيُّرٍ فِيهِ وَلِكُلِّ جَلَالٍ جَمَالٌ وَهُوَ اللُّطْفُ الْمَسْتُورُ فِي الْقَهْرِ كَمَا قَالَ اللهُ: ﴿وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ﴾. وَقَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: «سُبْحَانَ مَنِ اتَّسَعَتْ رَحْمَتُهُ لِأَوْلِيَائِهِ فِي شِدَّةِ نِقْمَتِهِ وَاشْتَدَّتْ نِقْمَتُهُ لِأَعْدَائِهِ فِي سَعَةِ رَحْمَتِهِ». وَمِنْ هُنَا يُعْلَمُ سِرُّ قَوْلِهِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: «حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ». وَهَذَا الْمُشَارُ إِلَيْهِ بَرْزَخٌ بَيْنَ كُلِّ صِفَتَيْنِ مُتَقَابِلَتَيْنِ.
وَالذَّاتُ مَعَ صِفَةٍ مُعَيَّنَةٍ وَاعْتِبَارِ تَجَلٍّ مِنْ تَجَلِّيَاتِهَا تُسَمَّى بِالْاِسْمِ: فَإِنَّ الرَّحْمَانَ ذَاتٌ لَهَا الرَّحْمَةُ، وَالْقَهَّارَ ذَاتٌ لَهَا الْقَهْرُ. وَهَذِهِ الْأَسْمَاءُ الْمَلْفُوظَةُ هِيَ أَسْمَاءُ الْأَسْمَاءِ. وَمِنْ هُنَا يُعْلَمُ أَنَّ الْمُرَادَ بِأَنَّ الْاِسْمَ عَيْنُ الْمُسَمَّى مَا هُوَ. وَقَدْ يُقَالُ الْاِسْمُ لِلصِّفَةِ إِذَا الذَّاتُ مُشْتَرَكَةٌ بَيْنَ الْأَسْمَاءِ كُلِّهَا وَالتَّكَثُّرُ فِيهَا بِسَبَبِ تَكَثُّرِ الصِّفَاتِ وَذَلِكَ التَّكَثُّرُ بِاعْتِبَارِ مَرَاتِبِهَا الْغَيْبِيَّةِ الَّتِي هِيَ مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ وَهِيَ مَعَانٍ مَعْقُولَةٌ فِي غَيْبِ الْوُجُودِ الْحَقِّ تَعَالَى يَتَعَيَّنُ بِهَا شُؤُونُ الْحَقِّ وَتَجَلِّيَاتُهُ، وَلَيْسَتْ بِمَوْجُودَاتٍ عَيْنِيَّةٍ وَلَا تَدْخُلُ فِي الْوُجُودِ أَصْلًا، بَلِ الدَّاخِلُ فِيهِ مَا تَعَيَّنَ مِنْ وُجُودِ الْحَقِّ فِي تِلْكَ الْمَرَاتِبِ مِنَ الْأَسْمَاءِ فَهِيَ مَوْجُودَةٌ فِي الْعَقْلِ مَعْدُومَةٌ فِي الْعَيْنِ وَهَذَا الْأَثَرُ وَالْحُكْمُ فِيمَا لَهُ الْوُجُودُ الْعَيْنِيُّ كَمَا أَشَارَ إِلَيْهِ الشَّيْخُ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فِي الْفَصِّ الْأَوَّلِ وَسَيَجِيءُ بَيَانُهُ، إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.

Seperti keadaan hayaman (mabuk cinta/kehilangan kesadaran) yang dihasilkan dari Jamal Ilahi, maka ia adalah ungkapan dari takluknya akal di hadapan-Nya dan kebingungan di dalamnya. Dan setiap Jalal memiliki Jamal di dalamnya, yaitu kelembutan yang tersembunyi di dalam kekerasan, sebagaimana firman Allah: "Dan bagi kalian dalam qishash itu ada kehidupan, wahai orang-orang yang berakal" [Al-Baqarah:179].
Dan berkata Amirul Mu'minin (Sayyidina Ali) as: "Maha Suci Dzat yang rahmat-Nya begitu luas bagi para wali-Nya di dalam kerasnya siksa-Nya, dan siksa-Nya begitu keras bagi musuh-musuh-Nya di dalam luasnya rahmat-Nya."
Dan dari sinilah diketahui rahasia sabda Nabi saw: "Surga itu diliputi oleh hal-hal yang dibenci, dan neraka diliputi oleh syahwat." Dan apa yang diisyaratkan ini adalah barzakh antara setiap dua sifat yang berlawanan.
Dzat beserta sifat tertentu dan dengan mempertimbangkan satu tajalli dari tajalli-tajallinya dinamakan dengan Nama (Ism): Maka Ar-Rahman adalah Dzat yang memiliki sifat Rahmah, dan Al-Qahhar adalah Dzat yang memiliki sifat Qahr. Adapun nama-nama yang terlafazkan ini adalah nama dari Al-Asma (hakikat nama).
Dan dari sini diketahui apa yang dimaksud bahwa Nama itu adalah 'ain (sama dengan) yang dinamai. Kadang-kadang nama itu dikatakan untuk sifat, karena Dzat itu berserikat (sama) di antara semua Nama, sedangkan ke-banyak-an di dalamnya disebabkan karena banyaknya sifat-sifat. Dan ke-banyak-an itu ditinjau dari martabat-martabat ghaibiyah-nya yang merupakan mafatihul ghaib (kunci-kunci kegaiban), yaitu makna-makna ma'qulah (yang dapat diakal) di dalam keghaiban Wujud Al-Haqq Ta'ala, yang dengan-Nya syu'un Al-Haqq dan tajalli-tajalli-Nya menjadi ta'ayyun (menentukan). Ia bukanlah maujudat 'ainiyah (wujud nyata di luar), dan tidak masuk ke dalam wujud sama sekali, bahkan yang masuk ke dalam wujud adalah apa yang ta'ayyun dari Wujud Al-Haqq di dalam martabat-martabat Nama itu. Maka ia maujud di akal tapi ma'dum di 'ain (luar). Dan atsar dan hukum ini adalah pada apa yang memiliki wujud 'aini sebagaimana diisyaratkan oleh Syekh (Ibnu Arabi), radhiyallahu 'anhu, dalam Fash pertama dan akan datang penjelasannya, insya Allah.

( Kitab Syarah Fushush Al-Hikam, Ilmi va Farhangi, Teheran hal 43-44 )

Manusia dan alam semesta tidak terlepas Dari dua Sifat Allah, Jalal dan Jamal, kedua sifat ini ibarat siang dan malam yang solid berganti terus datang ber tajalli ke dalam diri manusia. Sesungguhnya di dalam Sifat Jalal Nya terkandung Sifat Jamal-Nya dan did alam Sifat Jalal-Nya terkandung Sifat Jamal-Nya.

Seseorang memperoleh kebahagiaan,kesehatan, banyak harta dan uang itu datang dari tajalli Sifat Jamal-Nya, namun apabila semua kenikmatan itu membuat orang itu jauh Dari Allah, lalai dari nya maka itulah yg menjadi hijab seseorang kepada Allah, maka itu lah tajalli Sifat Jalal Allah dalam Sifat Jamal-Nya.

Apabila Seseorang mandapatkan kesengsaraan, musibah, kerugian material, dan penyakit baik penyakit fisik maupun penyakit mental (gerd-anxetiy-pisikomatis) itu semua datang dari Tajalli Sifat Jalal-Nya, namun dibalik kesengsaraan, musibah dan penyakit justru itu kasih sayang Allah dalam bentuk ujian utk kafarat penghampunan dosa, dan dinaikkan derajat dan maqamat orang itu dekat sampai kepada-Nya, maka itulah bentuk Tajalli Jamal-Anya yang terkandung dalam Tajalli Jalal-Nya.

Address

Haripur
Kpk

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when خانقاہِ نقشبندیہ چشتیہ قادریہ سہروردیہ اویسیہ شازلیہ کبرویہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to خانقاہِ نقشبندیہ چشتیہ قادریہ سہروردیہ اویسیہ شازلیہ کبرویہ:

Shortcuts

Share