All About Of Human Life

All About Of Human Life Try to post videos which provide more knowledge and helpful for our routine life..

18/12/2020
11/09/2020

“ اُس قوم کا حاکم ہی بس اُس کی سزا ہے

جب بھی میں کہتا ہوں:
اے خدا ! اس قوم کا حال دیکھ اس پر رحم کر !
حکم‪ ‬ہوتا ہے کہ‪ اس قوم ‬کا نا‪ ‬مہٴ اعمال د یکھ
حضرت حسن بصری‪ ‬سے منقول ہے کہ:
‏‎ ”أعمالکم عمالکم وکما تکونوا یولی علیکم“․(کشف الخفاء ج:۱، ص:۱۴۷، بحوالہ طبرانی)
‏‎ ترجمہ:”تمہارے اعمال ہی (درحقیقت) تمہارے حاکم ہیں اور جیسے تم ہوگے ایسے ہی حاکم تم پر مسلّط ہوں گے“۔
موٹروے کے قریب خاتون سے زیادتی کا واقعہ اور چند دن پہلے بچی کے ساتھ زیادتی اور تواتر سے ان واقعات کا ہونا ہمارے حکمرانوں کا وہ بھیانک چہرہ ہے جیسے پاکستانی قوم نے خود اپنے ہاتھوں سے sketch کیا ہے!
تم اپنے حکمران نواز ، زرداری اور عمران کو منتخب کرتے ہو اور چاہتے ہو کہ تمہاری مائیں ، بہنیں ، بھائی اور باپ کو عزت کا مقام ملے 🤔
جس ملک میں بلدیاٹاؤن میں ۳۶۰ لوگوں کو زندہ جلانے والوں میں شامل الطاف حسین کا دست راست حلف یافتہ فروغ نسیم کو وفاقی وزیر قانون و انصاف بنادیا جائے۔
تمہارے منتخب لیڈر عامر لیاقت جیسے ہوں جس کی پارٹی ایم کیو ایم نے کراچی میں ۴۰ ہزار لاشیں دی ہوں!
جو شخص FIAکی رپورٹ کے مطابق انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہےاسے آئی جی پنجاب لگاتے ہو!
جس ملک میں ماڈل ٹاؤن میں نامزد ملزم اعظم سلیمان کو چیف سیکرٹری پنجاب لگادیا جائے اور دوسرے اہم کردار کیپٹن (ر)عثمان کو ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی مقرر کردیا جائے ۔
جس ملک میں سانحہ ساہیوال کے بچے ابھی تک انصاف کے لئے ترس رہے ہوں۔
اور جس ملک میں عدالت پرویزمشرف اور ریمنڈ ڈیوس کو انصاف کے نام پر ملک سے باہر بھگانے میں مدد گار بن جائے ۔
تو یاد رکھو یہ مکافات عمل ہے !
تم جیسے حکمران منتخب کرتے ہو عوام بھی ویسے ہی بنتے ہیں 😡😡

02/07/2020

تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے ، اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے (سورةالشعراء 30)

02/07/2020

ذوالفقار علی بھٹو نے 12 مارچ 1977ء کو قوم سے خطاب کیا تھا‘ الیکشن 7 مارچ کو ہوئے تھے‘ اپوزیشن کی نو جماعتوں نے پاکستان قومی اتحاد کے نام سے متحدہ اپوزیشن بنائی اور بھٹو صاحب کے خلاف الیکشن میں کود پڑے۔

قومی اسمبلی کی کل 200 سیٹیں تھیں‘ بھٹو صاحب نے 155 نشستیں حاصل کر لیں جب کہ پی این اے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے باوجود بمشکل صرف 36 سیٹیں لے سکی‘ اپوزیشن نے دھاندلی کا الزام لگا کر الیکشن کے نتائج مسترد کر دیے‘ ملک میں تحریک شروع ہو گئی اور شہرشہر احتجاج ہونے لگا‘ ذوالفقار علی بھٹو اندر سے وڈیرے تھے‘ احتجاج ان کی طبع نازک پر گراں گزرا چناں چہ وہ 12 مارچ کو قوم کے سامنے بیٹھ گئے۔

پاکستان ٹیلی ویژن کے ذریعے عوام سے خطاب کیااور خطاب کے دوران جذباتی ہو گئے‘بھٹو نے کرسی کے بازو پر مکا مار کر کہا ’’میں کم زور ہو سکتا ہوں لیکن یہ کرسی کم زور نہیں‘ میں جس کرسی پر بیٹھا ہوں یہ بہت مضبوط ہے‘‘ وہ جب یہ کہہ رہے تھے تو ان کے لہجے میں غرور اور چہرے پر تکبر تھا‘ نواب زادہ نصر اللہ اس وقت قومی اتحاد میں شامل تھے۔

نواب صاحب کو اللہ تعالیٰ نے لہجے کی شائستگی اور زبان کی شستگی سے نواز رکھا تھا‘ وہ یہ تقریر سن رہے تھے‘ وہ کرسی کے بازو پر بھٹو کا بازو دیکھ کر مسکرائے اور ساتھیوں سے کہا ’’مبارک ہو‘ بھٹو اب جا رہا ہے‘‘ ساتھیوں نے حیرت سے پوچھا ’’آپ کیا فرما رہے ہیں‘‘ نواب زادہ صاحب بولے ’’تاریخ گواہ ہے جب بادشاہ اپنے بجائے اپنے تخت کی قسمیں کھانے لگیں تو ان کے جانے کا وقت آ چکا ہوتا ہے‘ بھٹو صاحب اب اپنی ذات کی بجائے کرسی پر اعتماد کر رہے ہیں اور کرسیاں کبھی کسی کی وفادار نہیں ہوتیں‘‘۔

نواب زادہ نصراللہ کی یہ پیش گوئی وقت نے سچ ثابت کر دی‘ مارچ کے بعد مہینے‘ ہفتے اور دن بدلتے رہے اور بھٹو اور ان کی کرسی کم زور ہوتی رہی یہاں تک کہ 5 جولائی 1977ء آ گیا اور فوج نے بھٹو صاحب کو ان کی مضبوط کرسی سمیت اٹھا کر باہر پھینک دیاتاہم یہ درست ہے فوج بھٹو کو تاریخ اور سیاست سے نہ نکال سکی‘ یہ آج بھی ہر جیالے کے دل میں زندہ ہیں مگر یہ بھی سچ ہے بھٹو صاحب کو اپنی مضبوط کرسی دوبارہ نصیب نہ ہو سکی‘ وہ ایک افسوس ناک موت کا شکار ہو گئے۔

میں نے کل عمران خان کو بھی ’’میرے علاوہ کوئی چوائس نہیں‘‘ اور ’’نظریے پر کھڑے رہے تو کوئی ہماری حکومت نہیں گرا سکتا‘‘کا دعویٰ کرتے دیکھا‘ میرے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے ایک سپورٹر بیٹھے ہوئے تھے‘ میں نے کانوں کو ہاتھ لگایا اور ان سے کہا‘ آپ لوگ توبہ کریں ‘کائنات میں اللہ کے علاوہ ہر شخص کا آپشن اور چوائس موجود ہوتی ہے‘ اللہ تعالیٰ نبیوں کے بعد بھی نئے نبیوں کی چوائس اور آپشن دیتا رہا‘ ہم اور آپ کس کھیت کی مولی ہیں۔

میں نے اس کے بعد اس سپورٹر سے کہا ’’میں اس دعوے سے پہلے سمجھتا تھا عمران خان پانچ سال بھی پورے کریں گے اور یہ اگلی ایک دو ٹرمز کے لیے بھی الیکٹ ہو جائیں گے لیکن میں آج محسوس کر رہا ہوں یہ اب زیادہ دن نہیں ٹک سکیں گے‘عمران خان نے خود کو ناگزیر قرار دے کر اپنے اقتدار کی قبر کھود لی اور یہ کسی بھی وقت اس میں جا گریں گے‘‘ پی ٹی آئی کے سپورٹر نے میری بات سے اتفاق نہیں کیا لیکن میں نے ان سے عرض کیا ’’حکومتوں کو ان کی پرفارمنس‘ ان کی گورننس بچاتی اور چلاتی ہے لیکن آپ نے ’’میرے علاوہ کوئی چوائس نہیں‘‘ کو اپنی طاقت بنا لیا‘ اس سے بڑی بے وقوفی کیا ہو سکتی ہے؟

ہماری اپنی 72 سالہ تاریخ عمران خان سے طاقت ور اور ناگزیر لوگوں سے بھری پڑی ہے لیکن آج لوگ ان کی قبروں تک سے واقف نہیں‘ آپ غلام محمد سے شروع کر لیں‘ گورنر جنرل غلام محمد بھی خود کو ناگزیر سمجھتے تھے‘ لوگ آج ان کی جائے تدفین تک کو نہیں جانتے‘ آپ بتائیں سکندر مرزا کہاں دفن ہیں‘ جنرل ایوب خان‘ جنرل یحییٰ خان اور جنرل ضیاء الحق کہاں مدفون ہیں اور کون ان کی قبر پر فاتحہ پڑھتا ہے؟

یہ سب بھی ناگزیر ہوتے تھے مگر وقت انھیں روند کر آگے نکل گیا‘ ہماری تاریخ میں بار بار ایسا وقت آیا جب کرسی پر بیٹھے لوگوں کا کوئی آپشن‘ کوئی چوائس نہیں ہوتی تھی لیکن پھر یہ لوگ سوکھے پتوں کی طرح ہوا میں بکھر گئے‘ لوگ ان کے نام تک بھول گئے اور آپ یہ بھی یاد رکھیں یہ لوگ قدآور تھے‘ یہ لوگ پھر بھی زندگی میں کچھ نہ کچھ کر گئے‘ ایوب خان کے دور کو پاکستان کی ترقی کا دور کہا جاتاتھا‘ یحییٰ خان نے پاکستان کی تاریخ کا غیر جانب دار ترین الیکشن کرایا‘ یہ امریکا اور چین کو ایک میز پر لے آئے اور یہ ایک عالمی کارنامہ تھا اور جنرل ضیاء الحق نے سوویت یونین کو شکست دی اور افغان جنگ لڑی لیکن آپ نے کیا کیا‘ آپ کا کیا کارنامہ ہے؟

آپ اپنے دعوے بھی دیکھیں یوں محسوس ہوتا ہے آپ سب کچھ جانتے ہیں‘ آپ سے یورپ کی بات کریں تو آپ کہتے ہیں یورپ کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا‘ آپ سے انڈیا کی بات کریں تو آپ کہتے ہیں مجھ سے بڑا انڈیا کا کوئی ایکسپرٹ نہیں‘ آپ ملک میں غریب کے سارے مسئلے بھی جانتے ہیں‘ آپ دنیا کے سب سے بڑے زرعی ایکسپرٹ بھی ہیں‘ آپ دنیا میں ٹیکس جمع کرنے کے بھی سب سے بڑے ماہر ہیں۔

آپ کرپٹ لوگوں سے پیسہ نکالنے کے بھی سب سے بڑے فلاسفر ہیں اور آپ کورونا اور لاک ڈائون کے بھی دنیا کے سب سے بڑے ماہر ہیں‘ آپ کے دعوے دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے آپ مریخ پر بھی دس پندرہ مرتبہ جا چکے ہوں گے اور آپ وہاں وکٹیں بھی گاڑھ آئے ہیں‘ حالات یہ ہیں آپ کسی کی سننے کے لیے یتار نہیں ہیں‘مافیاز آپ سے ایک رات میں 25 روپے لیٹر پٹرول مہنگا کرا لیتے ہیں لیکن آپ اس کے باوجود خود کو ناگزیر بھی سمجھتے ہیں‘ کیا بات ہے آپ کی!۔

آپ بھی میری طرح جب وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزراء کی گفتگو سنتے ہوں گے توآپ کو بھی محسوس ہوتا ہو گا پاکستان ان کی اہلیت‘ ان کے وژن اور ان کے منشور کے سامنے بہت چھوٹا ملک ہے‘ ان لوگوں کو دراصل پورے برصغیر‘ پورے یورپ یا پھر پورے امریکا کا لیڈر ہونا چاہیے تھا‘آپ یقین کریں یہ لوگ اگر افریقہ میں ہوتے تو افریقہ آج یورپ بن چکا ہوتا‘ یہ اگر یورپ میں ہوتے تو یورپ امریکا اور یہ اگر امریکا میں ہوتے تو امریکا کھسک کر چاند پر پہنچ چکا ہوتا‘ پاکستان ان لوگوں کے وژن سے میچ ہی نہیں کرتا۔

ہمیں چاہیے ہم اگر کوئی براعظم اٹھا کر اس کابینہ کے حوالے نہیں کر سکتے تو ہم عمران خان کو کم از کم اقوام متحدہ کا صدر ہی بنا دیں تاکہ یہ جی بھر کر پوری دنیا کی سمت درست کر سکیں‘بے شک یہ ایک عظیم لیڈر ہیں بس ان کو قوم چھوٹی اور عوام نالائق ملے ورنہ یہ مینڈکوں سے بجلی پیدا کر کے رات کو دن میں تبدیل کرسکتے تھے مگر یہ اگر یہ بھی کرلیتے تو بھی اللہ تعالیٰ کے پاس ان کی بے شمار چوائسز‘ بے شمار آپشن ہوتے۔

اللہ تو کُن کہہ کر ہماری جیسی ان گنت کائناتیں بنا سکتا ہے اور آپ فرما رہے ہیں ہمارے علاوہ کوئی چوائس نہیں‘توبہ کریں‘ اللہ سے معافی مانگیں‘ اللہ نے غرور پر اس فرعون کو بھی ڈیڈ سی کی ریت چٹوا دی تھی جس نے اہراموں کی شکل میں دنیا کو پہلا ونڈر (عجوبہ) دیا تھا‘ اللہ کے پاس ریت کے ذروں جتنے آپشن اور چوائسز ہوتے ہیں‘ یہ ابابیلوں سے کعبہ کی حفاظت کراتا ہے اور مکڑیوں کے جالوں سے دشمنوں کے سامنے پردے تان دیتا ہے‘ آپ کیا چیز ہیں؟۔

میں کیوں کہ عمران خان کا فین ہوں‘ میں انھیں صرف پاکستان نہیں بلکہ پورے برصغیر اور سینٹرل ایشیا کی بھی آخری امید سمجھتا ہوں لہٰذا میری ’’قوم یوتھ‘‘ سے اکثر ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں‘ میں جب بھی عمران خان کی تعریف کرتا ہوں تو یہ مجھے غور سے دیکھتے رہتے ہیں‘مجھے ان کی آنکھوں میں غیر یقینی سی دکھائی دیتی ہے اور یہ آخر میں بڑے اعتماد سے کہتے ہیں ’’خان کی نیت بہت اچھی ہے‘‘۔

میں اس پر آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ چوم لیتا ہوں اور عرض کرتاہوں ’’اللہ تعالیٰ کے بعد آپ دنیا کی واحد مخلوق ہیں جو نیتوں کا حال بھی جانتی ہے ورنہ آپ سے پہلے تو ہم یہی سنتے تھے نیتوں کا حال صرف اللہ جانتا ہے‘‘اللہ نے واقعی یہ صفت اپنے بعد ’’قوم یوتھ‘‘ کو عطا فرمائی‘ یہ نیتوں کا حال بھی جان لیتے ہیں‘ دوسرا میں سمجھتا ہوں علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں شاہین یا عقاب کی جتنی صفات بیان کیں وہ ساری ہمارے لیڈر عمران خان میں موجود ہیں‘ یہ بھی بلندی پر بسیرا کرتے ہیں‘ بادلوں سے اوپر پرواز کرتے ہیں‘ 20 ہزار فٹ کی بلندی سے شہباز گل جیسے لوگوں کا ٹیلنٹ پہچان لیتے ہیں‘ اکیلے رہتے ہیں اور کسی دوسرے پرندے کے ساتھ فری نہیں ہوتے بس ان میں ایک کمی ہے۔

یہ اڑ نہیں سکتے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو جتنا ٹیلنٹ عطا فرمایا ہے مجھے یقین ہے یہ اگر کوشش کریں تو یہ اڑ بھی سکتے ہیں لیکن یہ اگر اڑنا بھی سیکھ لیں تب بھی یہ پلے باندھ لیں اللہ کے پاس اس کے باوجود ان کا کوئی نہ کوئی آپشن ہو گا کیوں کہ اللہ کے پاس ہر وقت کروڑوں چوائسز ہوتی ہیں اور اس کی ہر چوائس کو سامنے آنے میں چند سیکنڈ لگتے ہیں اور چند ہفتوں میں عمران خان کا آپشن بھی عمران خان کے سامنے بیٹھا ہو گا اور یہ کرسی کو حیرت سے دیکھ رہے ہوں گے لہٰذا جان لیں اللہ کے علاوہ اس کائنات میں کوئی ناگزیر نہیں حتیٰ کہ عمران خان بھی نہیں۔

28/06/2020

پورے چہرے پر خراشیں تھیں‘ کانوں سے بھی لہو ٹپک رہا تھا اور ماتھا بھی زخمی تھا‘دونوں ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے لیکن وہ اس کے باوجود چہرے مہرے اور چال ڈھال سے پاگل نہیں لگتا تھا‘ میں نے وارڈن سے پوچھا ’’کیا یہ بھی پاگل ہے‘‘ وارڈن نے ہنس کر جواب دیا ’’پکا‘ سر سے لے کر پاؤں تک پاگل‘‘۔

میں بات آگے بڑھانے سے پہلے آپ کو اس واقعے کی بیک گراؤنڈ بھی بتاتا چلوں‘ میں ایم اے کے بعد لاہور میں سی ایس ایس کی تیاری کر رہا تھا‘ میرا سارا دن پنجاب پبلک لائبریری‘ برٹش کونسل اور امریکن سینٹر میں گزرتا تھا اور شام کیمپ جیل اور فاؤنٹین ہاؤس میں‘ میرا ایک دوست کیمپ جیل میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تھا‘ میں جیل میں اس کے سرکاری گھر میں رہتا تھا‘ میرا دوسرا دوست فاؤنٹین ہاؤس میں ملازم تھا‘ میں چلتے چلتے اس کے پاس بھی چلا جاتا تھا‘ جیل کے قیدیوں اور فاؤنٹین ہاؤس کے پاگلوں سے ملاقاتیں میری زندگی کے حیران کن واقعات تھے اور میں کوشش کے باوجود آج تک یہ واقعات اپنے ذہن سے واش نہیں کر سکا‘ وہ لڑکا بھی ایک واقعہ تھا‘ پاگلوں کے درمیان بیٹھا تھا‘ اس کا پورا چہرہ خراشوں سے بھرا ہوا تھا‘ ماتھے پر بھی رگڑیں تھیں اور کان اور ناک بھی زخمی تھے۔

عملے نے اس کے دونوں ہاتھ اس کی پشت پر باندھ رکھے تھے اور میل نرس اسے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا رہا تھا‘ میں نے اپنے دوست سے پوچھا ’’کیا یہ بھی پاگل ہے‘‘ اس نے جواب دیا ’’پکا سو فیصد‘‘ میں نے پوچھا ’’یہ کس نوعیت کا پاگل ہے‘‘ وہ ہنس کر بولا ’’یہ اذیت پسند ہے‘‘ اذیت پسندی اس وقت میرے لیے نئی ٹرم تھی‘ میں نے حیران ہو کر پوچھا ’’یہ کس قسم کا پاگل پن ہوتا ہے‘‘ اس نے جواب دیا ’’اذیت پسند خود کو اذیت دے کر خوش ہوتے ہیں‘ یہ لڑکا اپنا چہرہ نوچتا ہے‘ ہم جوں ہی اس کے ہاتھ کھولتے ہیں یہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ نوچنا شروع کر دیتا ہے۔

اپنے چہرے کو ناخنوں سے چھیل کر رکھ دیتا ہے چناں چہ ہم روز اس کے ناخن کاٹتے ہیں تاکہ یہ ناخنوں سے خود کو زخمی نہ کر سکے اور دوسرا ہم اس کے ہاتھ باندھ کر رکھتے ہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا ہاتھ بندھنے سے اس کا جنون کم ہو جاتا ہے‘‘ وہ بولا ’’نہیں‘ اسے جہاں دیوار ملتی ہے یہ اپنا چہرہ اس کے ساتھ رگڑنا شروع کر دیتا ہے‘ اس کے کان‘ ناک اور ماتھا دیوار پر رگڑ کھانے سے زخمی ہوا تھا‘ ہم نے اسی لیے اسے کمرے کے درمیان دیواروں سے دور بٹھا رکھا ہے۔

اس کے ہاتھ زنجیر سے بندھے ہیں اور یہ زنجیر اسے دیواروں تک نہیں پہنچنے دیتی‘‘ میں نے غور سے لڑکے کی طرف دیکھا‘ وہ واقعی کمرے کے درمیان تھا اور اس کی زنجیر اسے دیواروں تک نہیں پہنچنے دے رہی تھی‘ میں نے پوچھا ’’کیا یہ بندوبست کافی ہے‘‘ میرا دوست ہنس کر بولا ’’ہرگز نہیں‘ ہم دوسرے پاگلوں کو بھی اس سے دور رکھتے ہیںکیوں کہ یہ دوسروں کے ساتھ دوستی لگا کر انھیں اپنا چہرہ نوچنے پر رضا مند کر لیتا ہے اور پھر دوسرے پاگل اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کے گال کھرچنا شروع کر دیتے ہیں۔

یہ لیٹ کر فرش پر بھی اپنا چہرہ رگڑ لیتا ہے چناں چہ آپ غور کرو ‘ہم نے اسے دوسرے پاگلوں سے دور رکھا ہے اور اس کے نیچے ربڑ کا فرش ہے‘ ‘ میں نے ایک لمبی سانس لی اور اس پاگل کی طرف بے چارگی سے دیکھنے لگا۔ مجھے ماضی کا یہ کردار روز یادآتا ہے اور میں روز اس نتیجے پر پہنچتا ہوں صرف لوگ اذیت پسند نہیں ہوتے بعض قومیں بھی اپنا چہرہ نوچنے کی نفسیاتی بیماری کا شکار ہوتی ہیں اور ہم وہ اذیت پسند قوم ہیں‘ آپ کسی دن صرف پچھلے سات سال کا ڈیٹا نکال کر دیکھ لیں‘ آپ خود کو اس نوجوان کی طرح اپنا چہرہ نوچتے اور رگڑتے ہوئے محسوس کریں گے۔

اسامہ بن لادن عالمی دہشت گرد ڈکلیئر ہو چکا تھا‘ پاکستان دس سال دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتا رہا‘ہمارے 70ہزار لوگ شہید ہو گئے‘ القاعدہ نے بھی پاکستان میں سیکڑوں بم دھماکے اور خودکش حملے کرائے لیکن وزیر اعظم نے اچانک 25جون کو قومی اسمبلی میں اسامہ بن لادن کو شہید ڈکلیئر کر کے پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر لیا‘ حکومت اسے سلپ آف ٹنگ (زبان کی غلطی) قرار دے رہی ہے لیکن سلپ آف ٹنگ ہمیشہ پہلے ہوتی ہے اور انسان پھر رک کر اپنی غلطی کی اصلاح کرتا ہے۔

عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا تھا ’’ اسامہ بن لادن کو امریکنز نے آکر مار دیا اور پھر رک کر اس کی اصلاح کی اور کہا اسے شہید کر دیا‘‘ لہٰذا اگر یہ سلپ آف ٹنگ تھی تو یہ پہلے تھی بعد میں اس کی اصلاح کی گئی تھی اور یہ اصلاح ریاست کے بیانیے سے متصادم ہے لہٰذا ہم نے گڑھا مردہ اکھاڑ کر سیدھا سادا اپنا منہ نوچ لیا‘ ہوا بازی کے وفاقی وزیر غلام سرور خان نے 24 جون کو قومی اسمبلی میں فلائیٹ پی کے 8303 کے حادثے کی رپورٹ پیش کی‘ خان صاحب نے اچانک رپورٹ سے ہٹ کر اعلان فرما دیا‘ پاکستان کے 30 فیصد پائلٹس کی ڈگریاں اور لائسنس جعلی ہیں اور ان میں سے بے شمار نے اپنے فلائنگ آورز بھی پورے نہیں کیے۔

پاکستان میں ٹوٹل 860 کمرشل پائلٹس ہیں اور حکومت نے ان میں سے 262 کو مشکوک قرار دے دیا‘ یہ سول ایوی ایشن کی ایک سو 15 سال کی تاریخ کا انوکھا واقعہ تھا‘ آج تک دنیا کے کسی ملک کے کسی وزیر نے یہ اعتراف نہیں کیا لہٰذا پوری دنیا میں کہرام مچ گیا‘ آپ سوچیے کیا اس کے بعد دنیا ہمارے جہازوں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے دے گی‘ کیا یہ ہمیں اپنی زمین پر لینڈ اور ٹیک آف کی اجازت دے گی لہٰذا ہم نے خود اپنی زبان سے اپنی سول ایوی ایشن کا بیڑا غرق کر دیا‘ ہم نے ثابت کر دیا ہمارے ملک میں جہاز اڑانے کے لائسنس بھی جعلی مل جاتے ہیں‘ یہ اگر سچ بھی تھا تو بھی یہ پارلیمنٹ کے فلور پر بولنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ خاموشی سے پائلٹس کے بارے میں تحقیق کرتے اور انھیں چپ چاپ فارغ کر دیتے یا پھر انھیں مستعفی ہونے کا آپشن دے دیتے‘ ہمیںعالمی دنیا کے سامنے کھڑا ہو کر اپنا منہ نوچنے کا کیا فائدہ ہوا؟ آپ آٹے‘ چینی اور پٹرول کے بحران کو بھی دیکھ لیجیے‘ دنیا میں ’’فوڈ سیکیورٹی‘‘ سرحدوں کی حفاظت سے بڑا ایشو ہے۔

کسی ملک کے پاس اگر گندم ہی نہیں ہو گی تو وہ کیسے سروائیو کرے گا؟ ہمارے ملک میں آٹے کا بحران پیدا ہوا اور دو ہفتوں میں قیمت 40 روپے سے 75 روپے ہو گئی‘ ہم نے ثابت کر دیا ریاست میں آٹے پر نظر رکھنے کی اہلیت بھی نہیں‘ ہم پچھلے تین ماہ سے اپنے منہ سے یہ بھی بول رہے ہیں‘ پاکستان میں شوگر مافیا موجود ہے اور یہ مافیا اپنی مرضی سے چینی کی قیمت اوپر نیچے کرتا رہتا ہے‘ یہ حکومتوں سے سبسڈی لے لیتا ہے اور حکومت نے دو ہفتے قبل خود اپنے منہ سے تسلیم کر لیا پٹرولیم کمپنیاں بھی ریاست کے کنٹرول میں نہیں ہیں اور ریاست پٹرول کی سپلائی بھی بحال نہیں کرا سکتی۔

یہ کیا ہے؟ کیا ہم خود اپنے ہاتھوں سے اپنا منہ نہیں نوچ رہے‘ آپ 245 ملکوں میں سے کوئی ملک بتایے جس میں پچھلے دس برسوں میں آٹا‘ چینی اور پٹرول جیسی ضروریات کے مافیاز نے جنم لیا ہو یاکسی ریاست نے اپنے منہ سے ان شعبوں کے بارے میں اپنی بے بسی کا اعتراف کیا ہو اور آپ کرپشن کی داستانیں بھی لے لیں‘ ہم پچھلے آٹھ سال سے خود اپنے منہ سے مسلسل کہہ رہے ہیں پاکستان کے حکمران کرپٹ ہیں‘ یہ منی لانڈرنگ بھی کرتے ہیں اور سرکاری خزانے پر ڈاکے بھی ڈالتے ہیں لیکن ہم آج تک ان ’’چوروں‘‘ سے ایک دھیلا وصول نہیں کر سکے۔

الٹا ہم نے ان مقدمہ بازیوں پر اربوں روپے خرچ کر دیے‘ ہمارے اس پروپیگنڈے کا کیا نتیجہ نکلا؟دنیا میں ہماری رولنگ ایلیٹ بھی کرپٹ مشہور ہو گئی اور ہمارا احتساب اور انصاف کا نظام بھی کم زور ثابت ہو گیا اور ہم یہ ثابت کرنے کے بعد دنیا کو دعوت دے رہے ہیں یہ یورپ‘ امریکا‘ جاپان اور گلف سے اپنا سرمایہ نکال کر پاکستان میں لگا دے۔

آپ یہ بھی دیکھیے ریکوڈک کا پراجیکٹ ہو‘ کارکے کا ایشو ہو‘ ایران پاکستان پائپ لائین ہو یا پھر سی پیک ہو ہم خود انٹرنیشنل معاہدوں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پھر اپنے چہرے کی خراشوں کا رونا بھی روتے ہیں اور ملک میں ادویات اور ماسک کی اسمگلنگ تک نکل آتی ہے‘ ہم کیا ہیں؟ کیا پاگل پن کی کوئی انتہا بھی ہوتی ہے اور اگر ہوتی ہے تو پھر وہ کب آئے گی! ہم کب تک اپنا چہرہ نوچتے رہیں گے؟

خدا کے لیے ان لوگوں کو روکیں‘ یہ لوگ صرف شغل میں‘ یہ اپنے آپ کو بہادر ثابت کرنے یا ’’خان کسی سے نہیں ڈرتا‘‘ کا ٹائٹل لینے کے لیے جوہری جنگ تک چھیڑ دیں گے‘ یہ اپنا چہرہ نوچنے والے لوگ ہیں‘ یہ خود کسی دن دنیا کو اطلاع دے دیں گے ’’خبردار پاکستان اور پاکستانی کورونا بم ہیں‘ آپ ان سے بچ جائیں‘‘آپ یقین کریں یہ لوگ کچھ بھی کر سکتے ہیں‘ ہمیں اگر اب بھی یقین نہیں آ رہا تو پھر آپ جان لیں قدرت ہم سے ناراض ہو چکی ہے اور جب قدرت ناراض ہوتی ہے تو یہ قوموں کی عقل ساقط کر دیتی ہے‘ یہ ان سے اچھے اور برے کی تمیز چھین لیتی ہے اور ہم مانیں یا نہ مانیں قدرت ہم سے یہ تمیز چھین چکی ہے‘ ہمیں چہرے نوچنے والے ہیرو لگ رہے ہیں۔

23/06/2020

طارق عزیز مرحوم سے صرف تین ملاقاتیں ہیں‘ پہلی ملاقات 1998 میں ہوئی ‘ یہ پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے تھے‘ نئے نئے سیاست دان بنے تھے‘سیاسی باریکیوں سے واقف نہیں تھے‘ میاں نواز شریف کے والد میاں شریف طارق عزیز کے فین تھے‘ وہ پی ٹی وی کے عروج کے زمانے میں صرف نیلام گھر اور نو بجے کا خبرنامہ دیکھتے تھے چناں چہ طارق عزیز میاں شریف کی دعوت پر سیاست میں آ گئے اور سیدھے ایم این اے بن گئے‘ پارٹی انھیں ثقافت کا وزیر بھی بنانا چاہتی تھی لیکن پھر حکومت اور سپریم کورٹ آمنے سامنے آ گئے۔

28نومبر1997کا دن آ گیا‘ پنجاب ہاؤس راولپنڈی میں ورکرز اور لیڈر اکٹھے ہوئے‘ طارق عزیز سیاست کے پیچ و تاب نہیں جانتے تھے لہٰذا یہ قیادت کے دل میں اپنی وفاداری کی دھاک بٹھانے کے لیے ساری حدیں کراس کر گئے اور سپریم کورٹ پر حملہ آور ہونے والے جتھے میں شامل ہوگئے‘ چیف جسٹس کے دروازے کی تختی اکھاڑی‘ ہوا میں لہرائی‘ تصویریں بنوائیں اور اسی شام ان کا سیاسی کیریئر اڑتے ہی زخمی ہو گیا‘ یہ سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والے ملزمان میں شامل کر لیے گئے‘ کیس چلا اور پھر یہ 2000 میں سیاست کے لیے نااہل قرار دے دیے گئے۔

میری طارق صاحب سے سپریم کورٹ حملے کے بعد پہلی ملاقات ہوئی تھی‘ یہ ایم این اے ہاسٹل میں رہتے تھے اور شام کے وقت مارگلہ روڈ پر واک کرتے تھے‘ یہ مجھے واک کے لیے لے گئے‘ میں نے تازہ تازہ کالم لکھنا شروع کیا تھا‘ میرے جیسے نابالغ صحافی کے لیے اس وقت طارق عزیز جیسے لیجنڈ سے ملاقات اور واک اعزاز کی بات تھی‘ میں نے ڈرتے ڈرتے ان سے پوچھا ’’آپ نے سیاست میں آ کر غلطی نہیں کی؟‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’آپ اگر وعدہ کرو آپ لکھو گے نہیں تو میں سچ بتا دیتا ہوں‘‘ میں نے وعدہ کر لیا‘ وہ بولے ’’غلطی نہیں میں حماقت کے جوہڑ میں کود گیا ہوں۔

یہ میرا کام نہیں تھا‘‘ وہ رک کر بولے ’’ سیاست میں آنے کے بعد وہ سیاست دان جو میرے فین تھے‘ جو اپنے بچے ساتھ لے کر میرے گھر آتے تھے اور میرا آٹو گراف لیتے تھے‘ میں آج جب قومی اسمبلی میں آتا ہوں تو وہ میری طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے‘ میں پارٹی کے اجلاس میں بھی آخری اور درمیانی قطاروں میں بیٹھتا ہوں‘ میٹنگ کے آخر میں میاں صاحب میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہیں اور کہتے ہیں ’’ذرا طارق عزیز صاحب او پاکستان زندہ باد دا نعرہ تے لا دئیو‘ یہ سن کر سب قہقہے لگاتے ہیں اور میں ماتھے کا پسینہ پونچھ کر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا دیتا ہوں اور یوں قہقہوں میں میٹنگ ختم ہو جاتی ہے‘‘ یہ بات میرے لیے دل چسپ تھی۔

میں نے ان سے پوچھا ’’اور آپ نے سپریم کورٹ پر حملہ کر کے غلطی نہیں کی؟‘‘ طارق صاحب نے دائیں بائیں دیکھا اور بولے ’’آپ نے وہ لطیفہ سنا ہو گا‘ کوئی مراثی کسی جگہ سے گزر رہا تھا‘ راستے میں لاش پڑی تھی‘ وہ رک کر لاش کو ٹٹول کر دیکھنے لگا‘ اتنے میں پولیس آ گئی‘ پولیس نے مراثی کو پکڑ لیا اور اس سے پوچھا‘ اے قتل توں کیتا اے (یہ قتل تم نے کیا ہے)‘ مراثی پولیس کو دیکھ کر خوف زدہ ہو گیا لیکن ذات کا مراثی تھا۔

اس برے وقت میں بھی اس کی رگ ظرافت پھڑک اٹھی اور وہ بولا‘ موتیاں آلیو‘ مینوں تے اے کیتا کرایا ملیا اے (یہ مجھے کیا کرایا ملا تھا)‘‘ طارق عزیز صاحب ہنسے اور بولے ’’مجھے بھی یہ کیا کرایا ملا تھا‘ میں سپریم کورٹ میں موجود لوگوں میں زیادہ جانا پہچانا تھا لہٰذا سارا حملہ میرے کھاتے میں پڑ گیا‘‘ میں نے پوچھا ’’لیکن سر آپ نے تو شام کے وقت پارٹی قیادت کی طرف سے شاباش بھی وصول کی تھی اور آپ جشن کے ہیرو بھی تھے‘‘ طارق عزیز صاحب نے قہقہہ لگایا اور بولے ’’منیر نیازی نے کیا خوب کہا تھا‘ کج شہر دے لوگ وی ظالم سن ۔۔۔ کج سانوں مرن دا شوق وی سی‘‘۔

طارق عزیز صاحب کے خلاف کیس چلا اور وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملزم سے مجرم بنتے چلے گئے یہاں تک کہ 2000 میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے مسلم لیگ ن کے سات رہنماؤں کو نااہل قرار دے دیا‘ان میں طارق عزیز بھی شامل تھے‘ شیخ حفیظ مرحوم ان دنوں تازہ تازہ میرے استاد بنے تھے‘ وہ بہت ذہین‘ تجربہ کار اور شان دار انسان تھے‘ علم رمل کے ماہر تھے‘ چند سیکنڈز میں ہندسے جوڑ کر ماضی‘ حال اور مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کر دیتے تھے‘ میں نے ان سے پوچھا ’’بابا جی طارق عزیز صاحب کے ساتھ کیا ہورہا ہے‘‘ وہ ہنس کر بولے‘ انسان کا عروج اور زوال دونوں کسی نہ کسی واقعے سے اسٹارٹ ہوتے ہیں اور طارق عزیز کے ہاتھ میںچیف جسٹس کی تختی کا آ جانا وہ واقعہ ہے جس سے ان کا زوال شروع ہو گیا ہے۔

یہ اب گیلی مٹی کے بند کی طرح گرتے چلے جائیں گے‘‘ مجھے باباجی کی بات عجیب لگی لیکن وقت نے یہ ثابت کر دیا‘ طارق عزیز کے پاؤں اس کے بعد جم نہیں سکے‘ پاکستان مسلم لیگ ق بنی تو یہ اپنے گزرے وقت کو واپس لانے کے لیے ق لیگ میں بھی شامل ہو گئے‘ چوہدری شجاعت حسین نے ان کا پروگرام طارق عزیز شو بھی بحال کروا دیا لیکن طارق عزیز اور ان کے شو کی مقبولیت واپس نہ آ سکی‘ آپ وقت کا ہیر پھیر دیکھیے‘ اسٹیج بھی وہی تھا‘ چینل بھی وہی تھا اور طارق عزیز بھی وہی تھے لیکن وقت ان کی مٹھی سے کھسک چکا تھا لہٰذا وہ دوبارہ اپنی فارم میں واپس نہ آ سکے۔ میری ان سے دوسری ملاقات اس دور میں 2004میں ہوئی ‘ ان کے لہجے میں اب مایوسی آ چکی تھی‘ وہ تھوڑے تھوڑے سے اکھڑے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔

میں نے ان سے پوچھا‘ اگر آپ کی لائف ریورس ہو جائے اور آپ کے سامنے فلم‘ ٹی وی اور رائیٹنگ تین شعبے رکھے جائیں تو آپ کیا بننا چاہیں گے؟ وہ فوراً بولے’’ چندا میں صرف رائیٹر بنوں گا‘‘ وہ رکے اور ٹھوس لہجے میں بولے ’’میں نے لکھنا بند کر کے بہت بڑی غلطی کی تھی‘ مجھے شاعری کرنی چاہیے تھی‘ کتابیں لکھنی چاہیے تھیں اور تمہاری طرح کالم لکھنے چاہیے تھے‘ رائیٹنگ وفادار محبوبہ ہوتی ہے‘ یہ مرنے کے بعد بھی انسان کا ساتھ نہیں چھوڑتی جب کہ دنیا میں اسکرین سے بڑا بے وفا کوئی نہیں بس تھوڑی سی ہوا چلنے‘ کیمرہ ہلنے اور لائیٹ بجھنے کی دیر ہوتی ہے اور آپ لوگوں کے حافظے تک سے غائب ہو جاتے ہیں‘ آپ اگر اس کے بعد زندہ بھی رہیں تو آپ لاش بن کر زندگی گزارتے ہیں‘‘ انھوں نے مجھے بھی مشورہ دیا ’’تم کچھ بھی کرو لیکن لکھنا مت چھوڑنا‘ یہ تمہارے کام آئے گا‘‘ اور طارق عزیز صاحب کے ساتھ میری تیسری اور آخری ملاقات پچھلے سال لاہور میں ہوئی تھی۔

یہ ہوٹل میں کھانے پر مدعو تھے‘ میں بھی وہاں موجود تھا‘ یہ اٹھ کر میرے پاس آ گئے اور کھانے کے دوران مسلسل گفتگو کرتے رہے‘ میں یہ جان کر حیران ہوا یہ عمران خان کے بہت مداح تھے‘ ان کا خیال تھا خان ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے اور یہ کچھ نہ کچھ کرے گا‘ وہ بار بار کہہ رہے تھے‘ یہ پاکستان کی تاریخ کا کام یاب ترین وزیراعظم ثابت ہو گا اور میں ان سے مسلسل اتفاق کر رہا تھا‘ یہ اتفاق ان کو کھٹک گیا اور وہ مجھے غور سے دیکھ کر بولے ’’تم مجھے الو بنا رہے ہو‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا ’’سر میری کیا مجال ہے بس آپ دو سال انتظار کر لیں۔

پورا ملک مل کر آپ کو کہہ رہا ہو گا‘‘ وہ ہنسے اور ان کے حلق میں لقمہ پھنس گیا‘ میں نے انھیںپانی پیش کر دیا‘ وہ اس کے بعد موضوع تبدیل کرتے رہے‘ بات کتابوں سے ہوتی ہوئی سفر تک پہنچی اور وہ آخر میں بولے ’’تمہیں سب سے زیادہ کون سا ملک پسند ہے‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا ’’نیا پاکستان‘‘ انھوں نے میرے پیٹ میں کہنی ماری اور سرگوشی کی ’’بکواس نہ کرو‘‘ میں نے عرض کیا ’’سر جارجیا اچھا اور دل چسپ ملک ہے‘‘ میںاس کے بعد انھیں تبلیسی کے بارے میں بتاتا رہا اور وہ بچوں جیسی حیرت سے مجھے دیکھتے اور سنتے رہے‘ پھر اس کے بعد بولے’’میں سفر سے خوف زدہ ہوں‘ میں نے زندگی میں بہت کم سفر کیے ہیں‘ مجھے اسلام آباد بھی پردیس محسوس ہوتا ہے لیکن میں تمہارے ساتھ جارجیا ضرور جاؤں گا اور یوں ہماری تیسری ملاقات بھی ختم ہو گئی۔

میں ان سے چوتھی مرتبہ ملنا چاہتا تھا‘ وہ حقیقتاً صاحب علم اور شان دار گہرے انسان تھے لیکن وقت ایک ایسی ایکسپریس ٹرین ہے جو کسی کی خواہشوں کی غلام نہیں ہوتی‘ یہ اپنی اسپیڈ سے چلتی ہے اور مسافر ا س سے اپنی اپنی باری اور اپنے اپنے مقام پر اترتے چلے جاتے ہیں‘ طارق عزیز صاحب کا سفر بھی 17 جون کو اچانک ختم ہو گیا‘ یہ بھی ٹرین سے اتر گئے لیکن یہ جاتے جاتے ہمارے جیسے اسکرین پر ٹمٹماتے چراغوں کو یہ پیغام دے گئے دنیا میں شہرت سے زیادہ بے وفا کوئی چیز نہیں ہوتی‘ یہ جب جاتی ہے تو یہ طارق عزیز جیسے لوگوں کی طرف بھی مڑ کر نہیں دیکھتی لہٰذا جتنی مہلت مل جائے شکر ادا کریں اور لوگوں کے لیے خیر اور محبت کاذریعہ بنیں‘ نیکی اور محبت دو ایسے دیے ہیں جو مرنے کے بعد بھی قبروں کو روشن رکھتے ہیں ورنہ عارضی دنیا کی ہر نعمت وقت کے ساتھ گل ہو جاتی ہے‘ رخصت ہو جاتی ہے‘ زندگی چوتھی ملاقات کا وقت بھی نہیں دیتی‘ ہم صرف سوچتے رہ جاتے ہیں۔

18/06/2020

Address

2
Dubai
17017

Telephone

+971543562452

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when All About Of Human Life posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share