SUFI aur KHUDA

SUFI aur KHUDA ہر برائی کے خلاف کھڑا ہونا جہاد ہے, نفس کے خلاف کھڑا ہونا جہاد اکبر ہے. اور یہی ہمارے پیج کا مقصد ہے.

07/03/2026

یہ جنگ روک لی جائے گی۔ انشاء اللہ۔
اور اگلے کم از کم 25 سال امن سے گزریں گے۔۔۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمان ، عیسائی، اور یہودی۔۔ تینوں ہی اپنے اپنے مذہبی رہنماوں کی ماضی بعید میں کی گئی مستقبل اور آخری زمانہ سے متعلق ان پیشین گوئیوں کو لے کر اتنے سنجیدہ ہیں کہ انہیں لگتا ہے یہ وقت ایک جنگ چھیڑنے اور اسے ورلڈ وار تھری ، آرماجدون ، کی جنگ کا نام دیا جا سکے اور یہ جنگ دنیا بھر میں پھیل جائے، پھر اپنے اپنے عقائد کے مطابق ان کا خیال ہے کہ امام مہدی علیہ سلام، حضرت عیسی علیہ سلام، اور یہودیوں کا مسیحا "دجال" آ جائے، لیکن ایسا ابھی نہیں ہو گا۔۔۔ یہ وقت اور ہے ، وہ وقت اور ہوگا۔۔۔ اس وقت کی جنگ کو دنیا روک لے گی، یہ ورلڈ وار تھری نہیں بنے گی۔۔۔
یہودی سب سے سنجیدہ ہیں، اپنی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سرخ بچھیائیں بھی پیدا کرا لی ہیں انہوں نے، اور اب مسجد اقصی کی شہادت کے تھرڈ ٹیمپل تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا کی کل عمر 6000 سال ہے۔ اور یہ سال جو چل رہا ہے 5786 واں سال ہے۔ جو کہ عیسوی کیلنڈر کے مطابق 2026 بنتا ہے۔ اسی سال ایک جنگ کے بارے پیشین گوئی ہماری کتابوں میں لکھی ہے جو کہ اب شروع کر دی گئی ہے۔۔۔

اور مسلمان ، خاص کر پاکستانی ، آسٹرالوجر، نئے سال کے آغاز میں کسی ایک نے بھی ایران، اسرائیل، اور امریکہ جنگ کے بارے کوئی پیشین گوئی نہیں کی لیکن اب اس جنگ کو اسلامی پیشین گوئیوں سے جوڑ رہے ہیں۔ کوئی نعمت اللہ شاہ ولی رحمتہ اللہ علیہ کی پیشین گوئی کہ جب "تین الف ایک ب آپس میں جنگ کریں گے سے جوڑ رہے ہیں۔ "
اس میں تین الف تو سمجھ آتا ہے جمع ہو گئے، لیکن چوتھی ب کون سا ملک ہے۔ بھارت یا بریطانیہ۔۔؟
تو اس سب کو دیکھ کے لگتا ہے ہمارے لوگ اور عیسائی اور یہودی راہب اور پادری بھی جلد بازی کا شکار ہیں۔۔۔

حقیقت میں وہ وقت ابھی نہیں آیا جس کا حقیقت میں سب کو انتظار ہے ۔ اور دنیا کی عمر ابھی جاری ہے، اور مزید آگے بڑھے گی۔۔۔ یہ اللہ کا حکم ہے جو کسی صورت بدلا نہیں جا سکتا۔۔ البتہ اس جنگ کے بعد زمین امیروں پر زرا تنگ ہونا شروع ہو جائے جو وقت کے ساتھ ساتھ اتنی تنگ ہو جائے گی کہ یہ امیر آپس میں لڑ پڑیں گے اور پھر ایک دوسرے کو معاشی نقصان پہنچاتے پہنچاتے جب کھلے عام لڑیں گے تو عالم سطح پر مسائل پیدا ہو گے جو زمانہ ء آخر کی طرف اور امام زمانہ کے دور کی طرف جاتے حالات و واقعات پیدا کر دیں گے۔۔۔۔
انشاء اللہ العزیز، و العلیم و الحکیم ۔۔۔ آمین



،

زبردست سوال آیا ۔۔۔ سوچا آپ سب کی نظر کر دوں۔۔
05/03/2026

زبردست سوال آیا ۔۔۔ سوچا آپ سب کی نظر کر دوں۔۔

04/03/2026

ایک بڑی زبردست ڈویلپمنٹ ہوئی ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد جب مسلمان صحابہ اور ان کی اولادوں نے دین اسلام اور تخت کو سنبھالا تو وہ حقیقت توحید اور حقیقی دین کو آہستہ آہستہ بدلتے چلے گئے، پھر یہاں تک وقت آ گیا کہ اہل بیعت علیہ سلام کو بھی قتل کیا جانے لگا، اور جو لوگ یہ سب کر رہے تھے وہ اس وقت کے مسلمان تھے، گہرائی میں نہیں جاتا، لیکن جو بات میں کہنا چاہ رہا ہوں وہ اب آپ آسانی سے سمجھ سکیں گے۔۔۔
میرے دوستو۔۔ دین جو ہم تک پہنچا اسے ہم تک پہنچنے میں 1400 سال لگے ہیں۔۔۔ بیچ میں جو آیا اس نے اپنے حساب سے عمل کیا اور نئی نئی چیزیں لاتا چلا گیا، اس وقت کی مسلمان حکومتیں اہل بیعت علیہ سلام کے خلاف کیوں تھیں؟ کبھی سوچا آپ نے۔۔۔۔۔
پھر جب اصل اور حقیقی دین اتنا پس پشت کر دیا گیا کہ امت کی اکثریت کیلئے سمجھنا آسان ہی نہ رہا تو تب حضرت امام حسین علیہ سلام اپنی جان و مال اور اہل و عیال کے ساتھ اس دین کا علم بلند کرتے ہیں جس کے وہ حقیقی وارث ہوتے ہیں، اس وقت کے عالم ان پر فتوے لگاتے ہیں،حکومت ان کو کربلا میں شہید کر دیتی ہے لیکن اس سب صورت حال میں اصل اور حقیقی دین بچ جاتا ہے۔۔۔۔
آج ٹھیک 1400 سال بعد دوبارہ جب سچ اور حق اس قدر مشکلات کا شکار ہو گیا تو اسی مبارک خاندان کی آل میں سے حضرت امام حسن علیہ سلام اور حضرت امام حسین علیہ کے پانچیں اور سب سے چھوٹے سگے بھائی، سیدہ کائنات حضرت بی بی فاطمہ علیہ سلام، اور حضرت علی علیہ سلام کے حقیقی بیٹے جو کہ مشہور نہیں ہوئے تھے ان کی آل میں سے حضرت محمد صلی اللہ وعلیہ و آلہ وسلم کا 38 واں پڑ پوتا( نواسہ) حضرت امام آیت اللہ خامنئی رح نے بالکل وہی کام کیا جو اس وقت مشکلات سے گرے دین کو بچانے اور سچے مسلمان کو جمع کرنے کیلئے حضرت امام حسین علیہ سلام نے کیا۔۔۔
اپنی جان دے دی،مگر ڈرے اور جھکے بالکل نہیں۔۔۔
مجھے ان کے شجرہ نسب کے بارے دل میں بے شمار وسوسے اور سوالات تھے کہ کیسے یقین کر لوں کہ آج اتنے سالوں بعد اس بھری دنیا میں کتنے ہی لوگ اس بات کے دعوے دار ہیں جو اہنا شجرہ آل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاتے نظر آتے ہیں۔ اور ہمارے وقت کے مولوی پھر ان نام نحاد جعلی سیدوں کے قصیدے پڑتے نظر آتے ہیں تو کیسے سمجھ آئے ان میں سے سچا کون ہے۔۔۔۔
لیکن یہ سچ حضرت امام آیت اللہ خامنئی رح سرکار نے ثابت کر دکھایا، باقی اب کسی کا بھید کھولنا یا نام لینا ضروری رہا ہی نہیں ۔۔۔ آپ خود سمجھ دار ہیں۔۔۔۔

بہت شکریہ

22/02/2026

عجیب بات ہے۔۔۔ آل نبی پاک کے دشمن اس وقت کے مسلمان تھے، سیدہ کائنات کی گریہ زاری سے پریشان ہونے والے، اس وقت کے مسلمان تھے، حضرت علی رض، حضرت امام حسن علیہ سلام، حضرت امام حسین علیہ سلام، چھ ماہ ننھے بچوں تک کے دشمنوں نے صرف امام زین العابدین علیہ سلام کو کربلا میں زندہ چھوڑا۔۔۔ صرف اس لئے کہ فتح مکہ کے بعد سب کو مسلمان ہونا پڑا، اسلام قبول کرنا پڑا ورنہ دوسرا راستہ شہر بدر تھا۔۔ اس وقت ایک سردار نے جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے حاضر ہوا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے فرمایا، جا تجھے بھی معاف کیا۔۔
حالانکہ وہ یہ توقع بالکل نہیں کر رہا تھا۔۔ دکھاوے کیلئے وہ بھی مسلمان تو ہو گیا تھا، لیکن اپنی نسل کو سمجھا گیا تھا کہ کبھی وقت ملے تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی شخص کو اس طرح زندہ چھوڑ دینا اور کہنا کہ جا تجھے معاف کیا۔۔ اس طرح میری بے عزتی کا بدلہ تم لے لو گے۔۔

یزیدی لشکر جب کربلا میں مظالم ڈھا چکا تو امام زین العابدین علیہ سلام کو یزید کے دربار میں لایا اور اس سے پہلے کہ یزید اپنا بدلہ کیلئے اپنے اجداد کے سردار کا بتایا ہوا جملہ کہتا۔۔ اہل بیت کی خواتین نے کیا، ائے ہمارے آزاد کئے ہوئے غلام کے بیٹے، جھنڈے والی فاحشہ عورت کے بیٹے، تو جو کر سکتا تھا کر چکا۔ مگر آلء نبی کو اپنے قدموں میں نہیں جھکا سکا، یہی تیری ناکامی ہے اور ہماری جیت ہے۔۔ جس پر یزید اپنا بدلہ کے الفاظ بھول گیا ۔۔۔

میرے معزز دوستو۔۔ جن مسلمانوں سے آلء رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم محفوظ نہ رہی ، جن میں سے کچھ خود صحابی تھے اور کچھ صحابیوں کی اولادیں تھے۔۔۔ تو آپ کیا سمجھتے ہو جو اسلام آپ تک پہنچا ہے وہ محفوظ اور صحیح و سالم آپ تک پہنچا ہوگا۔۔۔؟
جتنی تحقیق کرو گے حقیقت جانتے جاو گے، اصل باتیں آج بھی آپ سے چھپائی جاتی ہیں۔۔۔ جن تک رسائی بالکل بھی آسان نہیں ہے ۔۔ بڑا ہی سخت وقت ہے، سب کچھ آپ کو گوش گزار کرنا آسان تو نہیں۔۔۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر ضرور ہوگا۔۔

اللہ پاک اس ماہ صیام کے صدقے جھوٹ سے ، فتنوں سے، اور ظالم کے شکار ہوجانے سے اپنی پناہ و امان میں رکھیں، آمین

09/02/2026

ہمیں معلوم ہے کہ لوگ پریشان ہیں، کچھ پریشان ہیں بھی اور کچھ کی کل غرض بس ان کا روزی روٹی ، کاروبار، اور ان کی ذاتی زندگی کی عافیت بمع اہل و عیال کی حد تک فکر مندی ہے۔۔۔
حالات کس سمت جا رہے ہیں، کسی حد تک تو سب کو سمجھ آ رہی ہے اور کسی حد تک بالکل بھی سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔۔
ایسے میں کیا ہوگا۔۔۔ کچھ پتا نہیں۔۔۔۔
لیکن یہ جو اضطراب اور بے ہیجانی کی کیفیت ہے۔۔۔ جو دلء مسلم پہ وارد ہوتی ہے۔۔۔ وہ ساتھ میں دعا بھی لاتی ہے کہ یا اللہ آپ ہماری مدد فرمائیں۔ آمین
مشکل وقت ہے ۔۔۔ ہمیں خود کو نہیں وقت کو گزارنا ہے۔۔۔ انتظار کرنا ہے ۔۔۔۔ مدد آئے گی۔۔۔ اور یقیننا اللہ کا حکم بن کے آئے گی۔۔۔ اور اس مشکل دور کا جلد خاتمہ ہوگا۔۔۔۔ انشاء اللہ باذن اللہ تعالی۔۔۔
معزز احباب۔۔۔۔ اپنے روز مرہ کے اذکار، نمازیں، تلاوت بمع ترجمعہ ، تسبیحات، صدقات اور خیراتیں جاری رکھیں۔۔۔ دعائیں مانگتے رہیں۔۔۔ پتا ان کو بھی ہے کہ آپ مشکل میں ہو۔۔۔۔ لیکن جو مشکل کا تہہ دل تک ادراک پہنچے ،،،، جاں کشی کا عالم ہو جس طرح کہ گھٹن کا شدت سے احساس ہو۔۔۔۔ مگر اس شدت کو پہنچنے سے پہلے آپ ادراک کر جاو۔۔۔۔ آپ سرء تسلیم خم کر جاو۔۔۔۔ اور انہیں بتانے میں کامیاب ہو جاو کہ ہم اس حقیقت کا جس قدر ہمارے اندر ہمت و حوصلہ اور سمجھ ہے، صلاحیت ہے اس کی حد تک ادراک کر چکے ہیں۔۔۔۔
ماہ صیام کی تاریک راتوں کو گھر کے کسی بند کمرے میں اکیلے ان کے سامنے پیش ہوں ۔۔۔۔ اس طرح کہ آپ کو علم ہو کہ آپ اور وہ اس وقت حاضر و ناظر ہیں۔۔۔ اور بات دل و جان کی تہوں سے نکلے کہ یا اللہ ان بے رحم اور بے پرواہ طاقت وروں کے چنگل سے ہمیں اپنی پناہ و امان عطا فرما، آمین

ظالم کی طاقت جتنی بھی بڑھ جائے، اپنی عمر تو وہ نہیں بڑھا سکتا، فرق یہ ہے کہ ظلم جس شدت سے بڑھ رہا ہے اس شدت کا احساس اس وقت اہم ہے۔۔ یہ احساس ہی پس پردہ کو سرء محفل لانے کی طاقت ہے۔ وہی اس وقت ہماری مدد کر سکتا ہے ۔۔ بس۔ عوام ڈرتے ہیں، مجبور ہیں،بے بس ہیں۔ ۔۔۔ لیکن ان کی دعائیں رنگ لائیں گی۔ ۔۔۔ انشاء اللہ ۔۔۔
آمین ثم آمین

01/11/2025

وہ راز جو کوئی نہیں جانتا، حضرت عیسی علیہ سلام کی طاقت ۔۔۔۔۔۔

دجال کے پاس دنیا میں ہر طرح کی آگ کی طاقت ہے۔ یہ سب کے سامنے ہے، ہر ایٹم بم اس کی پہنچ میں ہے، یا یوں سمجھو اس کے ہاتھ میں ہے۔۔۔ بمباری کرنے والے تباہی پھیلانے والے سب ہتھیار اس کے پاس ہیں اور بنیادی تور پر یہ آگ کی طاقت ہے۔۔۔
اس وقت دنیا میں آگ کی طاقت سے اپنی حکومت قائم کرنے اپنا حکم قائم کرنے والا اصل میں پس پردہ ہے لیکن درحقیقت وہ آزاد ہو چکا ہے۔۔۔ اس کے پاس زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ کرنے کی بھی طاقت ہے جو کہ اسے دی گئی ہے۔۔۔
لیکن یہ طاقت بالکل وہی طاقت ہے جس سے سامری جادوگر نے بچھڑے کو زندہ کیا تھا۔۔۔

اب لازم بات یہ کہ جادو کا مقابلہ علم اور حکمت کے ساتھ قرآن کی طاقت سے ممکن ہے اور آگ کا مقابلہ پانی سے۔۔۔
حضرت عیسی علیہ سلام کی ایک نشانی یہ ہے کہ آپ کے بال یعنی زلف مبارک ہمیشہ ایسے نظر آتی جیسے ابھی تازہ پانی سے غسل فرمایا ہو۔۔۔
دراصل۔۔۔ اس دنیا میں حضرت عیسی علیہ سلام واحد ایسے پیغمبر گزرے ہیں جن کو آسمان کا راستہ دیا گیا تھا، آپ علیہ سلام عرش سے جاری ہونے والے ایک چشمہ سے سفر کرتے۔۔ یہ چشمہ دراصل اللہ پاک کے تخت کے نیچے سے جاری ہوتا ہے اور تمام کائنات کا پانی یہیں سے مختلف جگہوں، سیاروں، اور کائناتوں کو تقسیم کیا جاتا ہے۔۔۔
مچھلی۔۔۔ یہ ایک بہت بڑا راز ہے۔۔ جس طرح مچھلی ہی پانی کے اندر زندہ رہتی ہے اور سفر کرتی ہے اس طرح اس زمین پر ایک پیغمبر حضرت یونس علیہ سلام بھی گزرے ہیں جنہوں نے چالیس دن مچھلی کے پیٹ میں گزارے ہیں۔۔۔
روایات میں دنوں کی تعداد کے حوالے سے اختلاف ہے۔۔۔
لیکن اس بات پر سب متفق ہیں کہ حضرت یونس علیہ سلام نے مچھلی کے پیٹ میں زندگی کا کچھ حصہ گزارا ہے۔۔۔
ایسی ہی ایک مچھلی کا قصہ حضرت سلیمان علیہ سلام سے بھی منسوب ہے جب آپ کی انگوٹھی گم ہوئی تو وہ بھی ایک مچھلی کے پیٹ سے برآمد ہوئی۔۔۔
ایسا ہی ایک واقعہ حضرت موسی علیہ سلام سے بھی ملتا ہے کہ جب آپ نے اللہ سے علم والے شخص کے بارے سوال کیا تو حکم ہوا مچھلی بنی ہوئی لے کر سفر کرئیے۔ دریا کے کنارے کنارے۔۔۔
جب آپ نے سفر کیا تو راستے میں کہیں تھک کے سو گئے وہاں آپ کے ساتھ آپ کا خدمتگار بھی رکا لیکن وہ سویا نہیں اسنے دیکھا بنی ہوئی مچھلی تندرست ہوئی ہے اور دریا میں چلی گئی ہے۔ نیند سے بیداری کے بعد آپ علیہ سلام نے اپنے خدمتگار کو وہاں سے واپس بھیج دیا اور خود انتظار کرنے لگے وہیں سے سمندر کے بیچوں بیچوں راستے کھلے اور آپ کی ملاقات حضرت خضر علیہ سلام سے ہوئی۔۔۔

معزز قارئین۔۔۔۔ آپ کے ذہن میں سوال ہوگا کہ اس سب میں راز کیا ہے۔۔۔
حضرت عیسی علیہ سلام پانی سے گزر کر آسمان کو سفر کرتے، آپ کو اللہ نے طاقت، اور معجزہ دیا تھا، آپ پیدائشی اندھوں کو بینائی دیتے، اور مرنے والے کو زندہ بھی کر کے آپ نے دکھایا۔۔۔ درحقیقت مرنے والے کو زندہ تو اللہ نے کیا تھا، لیکن دیکھنے والوں کی نظر حضرت عیسی علیہ سلام کو دیکھ سکی۔ لوگ سمجھے پیغمبر نے اسے زندہ کیا ہے۔۔۔
پھر ایک بار حضرت موسی علیہ سلام نے بھی ایک مرنے والے شخص کو زندہ کیا۔۔۔
تو کچھ راز آپ کے ذہن میں کھلنا چاہیئے۔ کہ پانی کے ساتھ ان پیغمبروں کا کچھ تعلق ضرور رہا ہے۔۔۔

پانی میں زندگی، مچھلی کے ذریعے حضرت سلیمان علیہ سلام کی انگوٹھی کی واپس دراصل آسمان سے وہ انگوٹھی دوبارہ واپس عطا کی گئی تھی۔۔ اور ڈاک لانے والی مخلوق ہم دیکھنے والوں کی نظر کیلئے ذریعہ مچھلی بنائی گئی۔۔۔

معزز قارئین۔۔۔ حضرت عیسی علیہ سلام کے پاس اس پانی کی طاقت ہے جس میں زندگی ہے۔ جس میں سے گزرنے والے اور اس کے راز کو کھوجنے والے بھی موت کو وجود سے دور کر سکتے ہیں۔۔ یہ ایک ایسا علم ہے کہ اللہ نے اپنے پیغمبروں کو دیا۔۔۔

حضرت عیسی علیہ سلام ہی واحد ہستی ہیں جو آگ کو پانی سے بجھائیں گے۔۔ دجال اپنی آگ سے سب کچھ جلاتا جائے گا۔ لیکن حضرت عیسی علیہ سلام ہر طرف سے آگ بجھائیں گے۔
اور یہ وہ راز ہے کہ جس کے سبب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ دجال کو ما سوائے حضرت عیسی علیہ سلام کے کوئی اور قتل نہیں کر سکے گا۔۔
یہی وہ حقیقت ہے کہ اسلام بتاتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ سلام پھانسی پر نہیں چڑھے بلکہ آسمان کے راستے پر سفر اختیار کر گئے۔۔۔
کیونکہ ان کے پاس آسمانی راستے اور اس چشمے کے راز کا علم موجود تھا جس سے وہ سفر کرتے رہتے۔ اور اسی وجہ سے آپ کے بال مبارک ہر وقت بھیگے رہتے۔۔۔
امام مہدی علیہ سلام کے پاس قرآن پاک کا مکمل علم ہوگا جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا۔۔۔ وہ میراث مکمل جادو گری کے کاٹ اور شیاطین کی چالوں پر حاوی رہے گی اور بالآخر جب دجال بالکل سامنے ظاہر ہو جائے گا تو حضرت عیسی علیہ سلام اسے مار دیں گے۔۔۔
ٹیکنالوجی کی مدد سے جو کچھ بھی ممکن ہے وہ سب فریب ہے۔ لیکن حقیقت میں حقیقی طاقت کے ساتھ زندگی اور موت، صحت اور مرض کو جدا کرنے والے علم و عرفان والے، اللہ کے حقیقی پیغمبر حضرت عیسی علیہ سلام اس جھوٹ کے جہان کی رنگینی کو حقیقت کی روشنی سے بدلیں گے۔۔۔
انشاء اللہ

اسلام علیکم۔۔ معزز قارئین۔۔ کون آزاد ہو گیا ہے؟دراصل دجال کا خروج ہو چکا ہے اور وہ اس وقت اس دنیا میں اپنی پوری طاقت کے ...
01/11/2025

اسلام علیکم۔۔
معزز قارئین۔۔ کون آزاد ہو گیا ہے؟
دراصل دجال کا خروج ہو چکا ہے اور وہ اس وقت اس دنیا میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ موجود ہے، البتہ پس پردہ ہے۔ سرء منظر کوئی اور ہے۔۔۔
دجال کے خروج کی جتنی نشانیاں بیان ہوئی ہیں ان میں سب سے اہم ترین نشانی یہ ہے کہ اس کے دور میں کوئی مومن مسلمان کہیں بھی محفوظ نہیں ہوگا، آج آپ دیکھ لو۔۔۔ آپ کے سامنے ہر جگہ مسلمان کا کھلے عام قتل عام ہو رہا ہے۔ کوئی کہیں بھی محفوظ نہیں ہے۔۔۔
برما، کشمیر، افغانستان، ایران، عراق، لیبیاء، شام، مصر، فلسطین، یمن، پاکستان اور اب سوڈان۔۔۔
صرف وہ محفوظ ہے جو نام کا مسلمان ہے۔۔ جو دل و جان سے عقیدہ حق پر ایمان رکھتا ہے وہ کہیں بھی محفوظ نہیں۔۔ خواہ قطر کے شاہی محل میں مہمان ہی کیوں نہ بن کے بیٹھا ہو۔۔۔۔
معزز قارئین

دجال دے گا کیا۔۔۔؟
اس کی پہلی آفر اس ہولو گرام شو میں نشر کی گئی ہے جو کہ مصر کے احرامات کے سامنے منعقد ہوا۔۔
ایک آدمی ہے زنجیروں میں جھکڑا ہوا ہے۔ پھر زنجیریں ٹوٹتی ہیں اور وہ آزاد ہوتا ہے۔۔
پھر ہر طرف آزادی کا نعرہ گھونجتا ہے۔۔۔
وہ آپ کو سب سے پہلے مذہب سے آزادی دے گا، پھر اخلاقیات سے، جو مرضی کرو، جیسے مرضی جیو، کوئی ماں، بہن، بیٹی یا بیوی نام کا رشتہ نہیں ۔۔۔ سب جائز۔۔۔
جہاں دل کرے، جس کا دل کرے۔۔۔ کوئی کسی کو روکے گا نہیں۔۔۔۔

کوئی کہیں عبادت گاہ نہیں رہے گی۔ نہ کوئی عبادت کرے گا۔۔۔ اور یہ دیکھ کر دنیا اس کی اس جنت میں عیش و عشرت کیلئے داخل ہوتی چلے جائے گی۔۔۔
پیسہ کھلے عام رہے گا۔۔ کوئی مالک نہیں بنے گا۔۔ جس کو جتنا چاہیئے لے جائے۔۔۔ عیاشی کرے۔۔۔
زندگی سے بڑھاپا نکال دے گا۔۔
اور موت کو ختم کر دے گا۔۔۔
بظاہر اس کا ہر ساتھی اور پیرو کار کامیاب ترین ہو جائے گا، آزاد ہو جائے گا۔۔ اس کیلئے دنیا جنت بن جائے گی۔۔۔
لیکن جہاں کہیں مومن ، مسلمان ہو گا یہ زمین اس پر تنگ ہوتی جائے گی۔۔ حتی کہ حضرت امام مہدی علیہ سلام کا ظہور ہوگا، اور بچے کھچے مسلمان ان کے ساتھ مل جائیں گے۔۔

اس لئے کہا۔۔ کہ آپ سب اپنے عقائد ،نظریات، چھپا لیں۔۔ خاموش ہو جائیں۔۔۔ کوئی کچھ بھی کر رہا ہے کرتا رہے۔۔۔ جب تک کہ آپ کو خبر ملے حضرت امام مہدی علیہ سلام تشریف لا چکے ہیں۔۔۔ ان کی بھی نشانیاں ہیں۔۔۔
وہ بھی جب بات کریں گے تو سب ظاہر ہونگی۔۔۔
لیکن دعا کریں کہ اللہ اس دور فتن میں آپ کو اپنے پیاروں سمیت محفوظ رکھیں، اور امام مہدی علیہ سلام کی آمد کے وقت ان کے ساتھ شامل کریں۔۔ آمین

30/10/2025

جسے سمجھ ہے، اس وقت اس کیلئے حکم یہ ہے کہ وقت کا انتظار کرے، بالکل خاموش رہے، کسی کو کچھ علم نہ ہو کہ یہ بندہ کیا سوچتا ہے۔ اپنے موبائیل فون سے بھی بچیں۔ اور اپنے عقیدے پر قائم رہیں۔۔
ابھی جو وقت چل رہا ہے اس میں ظلم و ستم پھیلے گا، خون خرابہ بڑھے گا، خاص کر مسلمان کا خون۔۔۔۔ طاقت اور ہر طرح کی طاقت سے لیس وہ آزاد ہو چکا ہے۔۔۔ اس کے فتنے اب عروج پر پہنچیں گے۔۔۔ اور آپ کو ہر حال میں حکم ہے کہ اپنے امام کے ظہور تک اور ان کی مدد کیلئے اپنی زندگی بچانی ہے۔ زندہ رہنا ہے۔۔۔
میں انتہائی سنجیدہ ہوں، میرے الفاظ کا وزن آپ کی عقل کے ترازو نہ تول پائیں گے۔ لیکن اہل حق سے گزارش ہے ۔۔ صبر اور نماز سے مدد لیں۔ ۔۔ خاموش اور بالکل خاموش رہیں۔۔۔ اس کے چیلوں، اور حامیوں کو کھل کے کرنے دیں جو وہ کر رہے ہیں۔۔۔
یہ صرف سمجھدار مومن مسلمان کیلئے پیغام ہے۔۔۔

26/10/2025

گناہ۔۔۔ کیا ہے۔۔؟
گناہ کی حقیقت کیا ہے آخر۔۔؟ مخلوقات خدا وند میں اگر یہ مخلوق جسے ہم گناہ کہتے ہیں اتنی ہی بری ہے تو پھر اس کا مقصد تخلیق کیا تھا۔۔۔؟
اللہ نے اپنی کوئی بھی مخلوق بے مقصد اور بے وجہ تو نہیں پیدا فرمائی۔۔۔ گناہ جب پیدا ہوا تو اس نے بھی اللہ سے سوال کیا ہوگا کہ ائے میرے اللہ مجھ سے تو لوگ نفرت کریں گے۔ موت کی طرح۔۔۔۔ مجھے برا بھلا کہیں گے۔۔۔ تو اس سب میں، میں کیسے زندہ رہ پاوں گا۔۔۔
تو اس میں اللہ نے راز رکھ دیا۔۔۔ جس طرح زندگی کی حقیقت موت میں چھپا دی گئی ۔۔
اسی طرح گناہ کا راز بھی گناہ میں چھپا دیا۔۔۔ جو بھی شخص گناہ کر بیٹھے اسے ہی یہ راز مل سکتا ہے بشرط یہ کہ وہ راز پانا چاہتا ہو۔۔۔۔
جب حضرت آدم علیہ سلام سے پہلے گناہ سرزد ہوا تو اللہ نے آپ علیہ سلام کو زمین پر بھیج دیا۔۔ پھر مسلسل چالیس برس کی گریہ و زاری کے بعد جب گناہ نے ان پر اپنا را، ظاہر کیا تو آپ کو زندگی میں آگے بڑھنے کا راستہ مل گیا۔۔
گناہ میں پوشیدہ ہے ایک خفیہ راستہ۔۔
ایسا راستہ جو گناہگار کو آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔۔۔
گناہ کی شرمندگی، اسے ندامت کے آنسو دیتی ہے، کس سے شرمندگی؟
اپنے رب سے شرمندگی۔۔۔
جب بندہ خود اپنے آپ سے آنکھیں نہ ملا سکتا ہو، اتنا رنجیدہ ہو جائے۔۔ کہ اسے اپنی زندگی کے انجام کی فکر لاحق ہونے لگے تو وہ اس فکر میں اپنے رب سے معافی مانگتا ہے۔۔۔
یہ پہلا درست ترین راستہ ہے۔۔
در توبہ۔۔
تصوف میں گناہ ہی وہ پہلی کنجی ہے جو توبہ کے دروازے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔۔۔۔
کبھی دو راہے پہ کھڑے مسافر کو سمجھ نہ آ رہی کہ کون سی سمت منزل ہے تو اس کے غلط سمت اٹھنے والے قدم ہی اس کی درست منزل کو اشارہ ثابت ہوتے ہیں۔۔۔۔
گناہ ہی درست منزل کی جانب اشارہ کرتا ہے۔۔۔
صادق دل کو اشارہ کرتا ہے۔۔۔
اگر گناہ نہ ہوتا تو ہم سب صرف نیکیاں کرتے رہتے۔۔۔ اور جنت تو مل ہی جاتی۔۔۔
لیکن کیا در توبہ سے گزرنے کا خوبصورت سفر کر پاتے۔۔۔۔؟

یہ ایک ایسا اندیکھا سفر ہے جو اس زمین پر آپ کو بنا ظاہری آنکھوں سے دکھائی دیئے آپ کے باطن کو جانب منزل لے کر چلتا ہے۔۔۔

اچھا۔۔۔ تو پھر منزل کیا ہے۔۔۔ ؟
موت منزل ہے کیا۔۔؟

نہیں۔۔۔ موت بھی بھلا کوئی منزل ہو سکتی ہے۔۔۔ موت تو اس جہان سے واپسی کا واحد راستہ ہے۔۔۔ لیکن جو اس جہان پر آتا ہے اس کو موت کے وقت تک مہلت ملتی ہے کہ وہ سوچ سکے۔ سمجھ سکے۔۔۔ کہ اس کا مقصد پیدائش بھی کچھ ہے یا ایسے ہی پیدا ہو گیا۔۔۔ اور پھر حقیقی منزل کی طرف اپنے قدم موڑ لے۔۔ اور موت اسے پھر حقیقت میں جنت یا جہنم کے دروازہ پر لا کھڑا کرتی ہے۔۔۔ پھر جیسے اس نے سفر کیا ہوتا ہے ویسا اس کے لئے موت کے بعد دروازہ کھل جاتا ہے۔۔۔

تو پھر منزل کیا ہے۔۔؟ مقصد کیا ہے۔۔؟
ہاں۔۔۔ یہ بات ہے ہمارا اصل کام۔۔۔
ہمیں اپنی منزل کو تلاش کرنا ہے۔۔ اپنے مقصد کو تلاش کرنا ہے۔۔ اور اس سلسلے میں جو ہماری مدد کرتا ہے وہ ہے علم۔۔۔
علم ہی ہمیں اندر اٹھنے والے سوالوں کے جواب دیتا ہے۔۔۔
اور اس کی تلاش و جستجو ہی بالآخر ہمیں ہمارے مقصد اور منزل تک پہنچاتی ہے۔۔

حقیقی منزل۔۔ یہ تین سوال ہیں۔
من ربک؟
من دینک؟
من نبیک؟

ان سوالوں کے جواب جس نے پالئے وہ کامیاب ہو گیا۔۔۔

لیکن اگر اس بعد بھی زندگی جاری رہے تو پھر کیا مقصد ہوگا؟
ہاں۔۔۔ ہو گا مقصد۔۔۔
اس سب کو اپنے بعد آنے والوں کیلئے بیان کرنا۔ انہیں سمجھانا۔ اور اس وقت آپ کا اصل دشمن صرف شیطان ہو گا۔۔۔
جو لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔۔۔
آپ اس کے مقابلے میں لوگوں کو ہدایت دو گے۔۔۔۔

اچھا۔۔ تو پھر گناہ نے ہمیں راستہ دیا۔۔ آگے بڑھنے کا راستہ۔۔ توبہ کا راستہ۔۔۔
تو توبہ نے کیا دیا؟
اگر آپ نے ایک بار مقبول توبہ پا لی تو آپ بارگاہ خداوند تک اپنے باطن سے پہنچ گئے۔۔۔
آپ کی کل حقیقت پھر وقت کے ساتھ ساتھ منزلوں اور مقامات کے مطابق آپ پر کھل جائے گی۔۔
پھر آپ کچھ نہیں رہو گے۔۔ جو رہے گا وہی باقی ہو گا۔۔ وہی خدا ہو گا۔۔
پھر جو خدا ہے وہ ہروقت آپ کے ساتھ اور سب کے ساتھ ہے۔۔ آپ میں آپ کے روئیے دیکھتا، سنتا، اور پرکھتا ہے، دوسروں میں دوسروں کے روئیے۔۔ کبھی کسی کے دل پر آپ کے الفاظ کے چلائے نشتر کیا اثر لا رہے ہوتے ہیں۔۔
وہ دونوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔۔

لیکن بعد میں آپ کی ندامت اور حسن اخلاق بھی آپ کو اسی عطا سے ہو گا۔ بشرط یہ کہ آپ ۔۔۔ صادق دل ۔۔۔ ہو۔۔

میری نظر میں گناہ، واحد راستہ ہے۔۔ جس نے مجھے سیکھایا۔۔ کہ کوئی چیز بخشش و نجات کا سبب نہیں بن سکتی۔۔۔ نہ نیکیاں کام آ سکتی ہیں۔ ایک گناہ آپ کی سب نیکیاں ختم کر سکتا ہے۔۔ یہ اتنا طاقتور ہے۔۔۔
لیکن جو چیز بخشش و نجات کا سبب بن سکتی ہے وہ ہے۔۔۔
رحمت۔۔۔
اللہ کی رحمت ہی انسان کو بخشش اور نجات دلا سکتی ہے۔۔
اللہ ہی سے امید و دعا ہو کہ ہمیں ہر حال میں اپنی پناہ اور امان میں رکھے اور اپنی رحمت اور فضل و کرم سے ہمیں معاف فرما دے۔ نیکیوں کے تفاخر کا شکار ہونے سےاور نیکیوں کو برباد ہونے سے بچائے۔آمین

تو کیا حقیقت ہوئی پھر ۔۔۔ گناہ کی۔۔۔۔ ؟

از قلم۔۔۔ معظم علی

04/10/2025

اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔
معزز قارئین، آج یہ تحریر ایک فیصلہ کن موڑ پہ لکھی جا رہی ہے۔
اس لئے میں اپنا واٹس ایپ نمبر بھی ساتھ دے رہا ہوں، اس کے بعد اگلی تحریر کب آئے گی ، آئے گی بھی یا نہیں آئے گی۔۔۔
لیکن پیج رہے گا۔۔
00971525016523۔
ابوظہبی ۔۔ یو اے ای

میرے پیارے بہن بھائیو، بچو، دوستو، سب کی محبتوں کیلئے سب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔۔

وہ لوگ جو اس کی حفاظت کرتے ہیں جو دونوں ٹانگوں کے درمیان (یعنی شرمگاہیں) ہے اللہ ان سے محبت کرتا ہے۔ قران

معزز احباب۔۔ اللہ آپ سب سے ہمیشہ راضی رہے۔ لیکن صوفیاء کی راہ چلے بنا آپ یہ مت کہیے گا کہ یہ بابا جی کا عمل غلط تھا، ہے، یا فلاں بزرگ نے جو کیا وہ شرعا غلط ہے۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔

پہلی بار جب ایک دوست کی دوکان پر صبح سویرے موبائیل چوری کا الزام لگا تو اس وقت میرے پاس صرف عزت تھی جسے میں کھونے سے ڈرا اور اس طرح اندر سے یکسوء ہو کے اپنے رب کو پکارنے میں کامیاب ہو گیا کہ کچھ دیر میں وہ شخص جس نے موبائل اٹھایا تھا وہ خود دینے آ گیا۔۔
اس وقت میرا دوست مجھے پولیس کے حوالے کرنے کی باتیں کر رہا تھا لیکن دوست تھا اور آج بھی ہے اسی وقت جب موبائل واپس ملا تو مجھ سے معزرت چاہنے لگا۔۔۔
یہ ایک ایسا حادثہ تھا کہ میں سمجھ ہی نہ سکا میرے ساتھ کیا ہوا۔۔ کئی دن لگائے سوچنے میں، اور عشق اور عقیدت و احترام میں اس قدر بڑھنے لگا کہ خدا کی یاد میں اکثر تنہائی ڈھونڈتا، آنکھیں اشک بار کر کے اسے اور اس کی قربت کو محسوس کرتا۔۔۔
پھر 2023 میں جب دوبئی آیا تو جاب نہ ملنے کی پریشانی سے بہت دعائیں مانگیں لیکن سمجھ آتی تھی کہ بات نہیں بن رہی۔۔۔
پھر ایک روز دیرہ دوبئی میں اپنے سی وی اٹھائے مختلف شاپس پر جاتا اور ان سے پوچھتا کہ کوئی ووکینسی ہے تو پلیز میرا یہ سی وی دیکھ لیں۔ وہ سی وی لے لیتے لیکن کہیں سے کوئی کال نہ آتی۔۔
اس روز میں گزرتے گزرتے ایک مندر کے پاس پہنچ گیا۔۔
زندگی میں پہلی بار ایک مندر دیکھا۔۔
ایک ماہ سے مسلسل سڑکوں پر خوار ہو ہو کے تھک گیا۔۔
میں نے اندر سے اپنے رب کو پکارا۔ اور اپنے ایمان کو امتحان میں ڈال دیا۔۔
یا خدا۔۔ سامنے آپ کے دشمن کی دہلیز ہے۔ جو کسی طرح آپ کے مقابلے اور برابری کے لائق نہیں۔ لیکن میں یہاں اس کی دہلیز پر کھڑا ہوں۔۔ اب چاہو تو روک لو چاہو تو میری دعا سن لو۔۔۔
ابھی قدم اٹھائے بھی نہ تھے کہ قریبی مسجد سے اذان کی آواز آئی۔۔ یہ مغرب کی اذان تھی۔۔
میں نے کہا شکریہ۔۔
سمجھ آ گئی کہ بات بن گئی ہے اب کام مل جائے گا۔۔
پھر ایک نگاہ اس منظر کو دیکھنے جو آج تک صرف انڈین فلمز اور ڈراموں میں دیکھا تھا میں اندر چلا گیا۔۔ لیکن مجھے وہاں کوئی صنم نہ دکھا جسے میں اپنے خدا کے مد مقابل کچھ سمجھ سکتا۔۔ جو کچھ ہوتا اور اس میں کچھ طاقت ہوتی کچھ کرنے کی کچھ دینے کی۔۔۔۔
پھر واپس ایک دو منٹ سے پہلے نکلا اور مسجد چلا گیا۔ نماز ادا کی۔۔ اور واپس اپنے روم میں آ گیا۔۔۔
اس سے ایک ماہ بعد بھی کام نہ ملا پھر ابو ظہبی آ گیا لیکن یقین تھا کہ کام ہو جائے گا۔۔ اور بالآخر یہاں ایک کمپنی میں جاب مل گئی۔۔۔

معزز قارئین۔۔۔
مسائل اور پریشانی دراصل آپ کو دنیا سے دور رکھتے ہیں۔۔ میں نے ایک روز اللہ سے مانگا کہ وقت سے پہلے جیسے ہزاروں برس جی چکا ہوں۔ اب مسائل سے تنگ آ چکا ہوں۔ ان سے مجھے نجات عطا فرمائیے۔

پھر اللہ نے کرم فرمایا اور مسائل آہستہ آہستہ کم ہونے لگے۔۔ اور مجھے لگا جیسے میں پھر سے بیس برس کا ہو گیا ہوں۔۔
اب عمر اور وقت تو نہ تھا۔ نہ چہرے پہ وہ جوانی تھی۔۔ لیکن دل خوش خوش اور دنیا حسین حسین لگنے لگی۔۔۔
میرے پاس پیسے آنے لگے۔ مخالفے، یعنی جرمانے آنا بھی بند ہو گئے۔۔۔
میں اچھے کپڑے لئے، جوتے لیے، پرفیوم خریدا۔۔
وہی جوانوں والے حالات۔۔
کبھی کبھی دل کرے کوئی پورانی فلم دیکھوں۔ سلمان اور شاہ رخ کی 1990 سے 2005 تک کے درمیان جو آئی تھیں۔ جو میں کبھی شوق سے دیکھا کرتا تھا۔۔۔
پھر سے وقت اچھا آ گیا۔۔۔
معزز قارئین۔۔۔
پھر ایک روز میں کام کی وجہ سے اتنا تھک گیا کہ گردن سیدھی کرنی مشکل ہو رہی تھی۔ سوچا کسی مساج سینٹر جاتا ہوں۔۔ یہ بھی دنیا ہے یہ بھی دیکھتا ہوں۔۔

جو لوگ دوبئی رہتے ہیں انہیں معلوم ہے مساج سینٹر میں کیا ہوتا ہے۔۔
خیر یہ معظم ہے ۔۔۔ جو جائے کسی مقصد سے کام کچھ اور ہی ہو جاتا ہے۔۔
میں نے مساج سینٹر میں دیکھا ایک خواجہ سرا تھا لیکن وہ ٹرانس جینڈر تھا۔ اب مجھے اس سے کوئی جنسی خواہش تو تھی نہیں لیکن اسے دیکھ کے معلوم ہوا کہ اس کی اٹینشن کچھ اور تھی۔
میں نے اسے منع کر دیا۔ وہ ٹرانس جینڈر تھا، پہلے مرد تھا بعد میں روزی روٹی کیلئے اپنا جسم بیچنے تک پہنچ گیا اور اپنے حقیقی اعضاء بدل کر اس طرح پیسے کمانے لگا تھا۔ مزید کچھ دیر میں انکشاف ہوا کہ تھائی لینڈ میں جسم فروشی عام ہے۔ اور یہ مساج سینٹرز بھی زیادہ تر تھائی لینڈ کے ہیں۔۔

خیر ایک حسین و جمیل سی لڑکی آئی۔ میں نے صرف گردن اور شولڈرز کے مساج کیلئے بات کی۔۔
کچھ غلط سمجھنے سے پہلے بات کی تہہ تک ضرور جائیے گا۔ یہ راز ہیں اگر نہ بتاوں تو آپ پر گزریں گے لیکن آپ سمجھ نہیں پائیں گے۔۔

میں نے پھر محسوس کیا کہ میرا ایمان یہاں شدید خطرے میں ہے۔ میں نے اندر ہی اندر اپنے رب کو پکارا،اور اس سے معافیاں مانگنے لگا کہ یہ کیا غلطی کر بیٹھا ہوں۔ یہ کدھر آ گیا ہوں۔۔ یہ کیسا ماحول ہے۔۔
دوسری طرف وہ لڑکی میرے شولڈر اور گردن کا مساج بھی کر رہی تھی۔۔ لیکن ایک فقیر ۔۔ خیر آج تو خود کو فقیر بھی نہیں کہہ سکتا۔۔ لیکن ایک مسلمان کی زندگی کیلئے ایک ایسی تنہائی جس میں گناہ آسان اور نیکی مشکل ہو۔۔۔
اب مجھے دنیا سے الگ تھلگ کر چکی تھی۔۔ مجھے میرے جسم پر اس کے ہاتھوں کی حرکت محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ مجھے اپنے رب سے قربت ملی۔ مجھے خطرے میں برکت ملی۔۔ میں نے کہا میرے مالک جس حال میں آپ نے رکھا تھا وہی اچھا تھا۔۔
لیکن اب یہ دعا مانگتا ہوں کہ یہ جو لوگ ہیں یہ بھی تیرے ہی بنائے ہوئے ہیں۔ ان کو بھی کوئی اور روزگار دے۔
ایمان دے اور ان تک بھی کوئی تبلیغ والے لوگ پہنچائیے۔۔۔
اور مجھے اور مجھ جیسے اپنے ہر بندے کی توبہ قبول فرمائیے۔۔ گو کہ مجھے بڑھاپا اچھا نہیں لگتا۔۔ لیکن میں نے بڑھاپے میں بھی لوگوں کو بدنام ہوتے دیکھا ہے۔ اس چیز پر جو ہماری ٹانگوں کے درمیان ہے قابو کرنا مشکل ہے۔ نہ بڑھاپا مدد گار ثابت ہوتا ہے نہ جوانی۔۔ بس آپ ہی ہماری مدد فرمائیے۔۔ اور ہمیں اپنی راہ پر رکھیے۔۔ آمین

معزز قارئین۔ قربت و حضوری جسے ایک بار بھی نصیب ہے اسے پتا ہے کہ جب ملے تو پھر دنیا کی کوئی چیز اچھی نہیں لگتی۔۔
اس سے بہتر کچھ نہیں ہے۔۔

میں نے صوفیاء کے قصے سنے تھے کہ جب ان کی ڈیوٹی ایسی جگہوں پر لگتی تو وہ چپ چاپ وہاں ایک عام بندے کے روپ میں رہتے۔۔ لیکن خدا کو یاد رکھتے۔۔
خدا کو یاد رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔۔

معزز قارئین۔۔ کبھی خود کو اس طرح کے امتحان میں مت ڈالئے گا جس کا نتیجہ آپ سے سنبھالا نہ جا سکے۔۔

لیکن اب چونکہ مجھے میرے رہبر و رہنماء، میرے مرکز ہدایت و منبع کی طرف سے خاموشی کا حکم ہے۔ اس لئے میں مزید نہ لکھ پاوں گا۔۔

یہ بھی مجھے معلوم نہیں آپ درست سمجھو گے یا غلط۔۔۔
لیکن لکھا ہے اس لئے کہ سچ لکھنا ضروری ہے۔

دنیا میں جیتے جی، بہرہ، گونگا، اور اندھا بننا مشکل ہے۔ لیکن بننا ضروری ہے۔۔

اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے، ہم سب سے راضی رہے۔ اور اس کی ہمسائیگی میں گناہ کہاں ممکن ہے ادھر بھی اس کیمخلوق ادھر بھی اس کا روپ، بجلا وہ جو مجھ سے پل بھر کیلئے جدا نہیں میں اسے سے کیسے پردہ نشین ہو سکتا ہوں۔۔۔

آمین ثم آمین

24/09/2025

ہمیں کیسے معلوم ہو کہ یہ کتاب اللہ ہی کی کتاب ہے۔۔ جبکہ سر محفل ایک شخص واحد ہیں جن کی زبان مبارک سے دو الگ الگ اقوال ادا ہوئے ہیں اور انہوں نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ قرآن ہے اللہ کی طرف سے ہے اور دوسرا قول ان کا اپنا ہے حدیث ہے۔۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔

معزز قارئین۔۔ کچھ روز قبل یہ سوال مجھ سے ایک ایورپیئن کر چکا ہے لیکن میں نے اسے کچھ جواب نہیں دیا۔۔
آج آپ سب کے گوش گزار اس سوال کا جواب رکھتا ہوں۔۔
آزماء لیجئے گا۔۔۔
قرآن بار بار یہ دعوی کرتا ہے کہ جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے اللہ اسے بھی جانتا ہے۔
جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ رکھتے ہو اللہ اسے جانتا ہے۔۔۔
قرآن۔۔
معزز قارئین کچھ ایسا دل میں رکھ لیجئے اور سوچ لیجئے کہ یہ بات آپ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔۔ پھر اس کا انتظار کیجئے کہ اللہ آپ کو کیسے یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ بات جو صرف آپ جانتے ہو آپ کے دل میں ہے اسے اللہ بھی جانتا ہے۔۔۔۔

دل میں سوال کیجئے گا اور پھر غور سے توجہ کے ساتھ معاملات اور حالات پر ۔۔ اور پیش آنے والے واقعات پر نظر رکھئے گا۔۔۔

کچھ ایسا ضرور ہوگا کہ جس سے آپ کہیں گے کہ یہ بات تو واقعہ ہی میں نے اپنے دل میں چھپا رکھی تھی۔۔ اور میرے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔
گزشتہ شب مجھے ایک مسافر کو ابو ظہبی سے العین لے کر جانا تھا پھر رات 4:30 am
پر میں نے الارم لگا رکھا تھا۔ الارم بجتے ہی میں بیدار ہوا لیکن پھر آنکھ بند ہوئی اور سو گیا۔۔۔
5:30 am
پر میں اپنے پیسنجر کو پک کرنا تھا۔ اور اس کے گھر تک جانے کا راستہ 30 منٹ لگاتار ڈرائیو تھی۔۔
5:30
پر مجھے موبائل پر میسج ملتا کہ آج ایک ایمرجنسی ہو گئی ہے اور میں نہیں جا رہا۔۔۔ آپ مت آئیے گا۔۔

آپ اس سب کے پس منظر پر جائیے اور غور کیجئے۔۔۔ کس نے میرے سو جانے پر اور تاخیر سے پہنچنے پر مسافر کو کسی اور کام میں لگا دیا۔۔۔ اور وہ خود مجھے میسج کر رہا ہے کہ مت آئیے۔۔۔
جبکہ ہونا تو یہ تھا کہ ابھی تک کہاں ہیں۔؟ کیوں دیر سے پہنچے؟

لیکن پس پردہ جو سب رازوں سے آشناء ہے اس نے مجھے بھی اس انگریز کے سوال کا جواب دیا اور میں نے اتنے دنوں کے بعد آپ کے گوش گزار کیا۔۔۔
دعاوں میں آپ سب یاد ہو۔۔ اللہ آپ سب کے کام سنواریں، آمین

18/09/2025

نہ زندگی کی کچھ خبر ہے،نہ موت سے با خبر۔۔
نہ آغاز کا کچھ علم ہے، نہ انجام کی کوئی خبر۔۔
جانے کب سے ہوں یہاں، اور کب تک رہوں گا۔۔
تیری ہی تو تحریر ہوں، تیرا ہی تو کن فیکون ہوں۔۔۔
۔۔۔
نہ اندھیروں کی سمجھ مجھے نہ اجالوں سے آشناء۔۔
نہ جنت کی حوس مجھے نہ جہنم سے شغف۔۔
نہ حوروں کو جانتا ہوں، نہ عذابوں کی کوئی پرواہ۔۔۔
تیرے ہی تو لوح پر لکھی اک تحریر یوں، تیرا ہی تو کن فیکون ہوں۔۔
۔۔۔
کبھی سنا تھا کہ خودی میں بستا ہے جہان۔۔
یہ جہان ہی جہان ہے وہ جہان بھی جہان ہوگا۔۔
جہاں بھی ہونگے کچھ خبر نہیں ہونگے بھی کہ نہیں ہونگے۔۔
تیرے ہی لوح ہیں۔ تیرے ہی تو کن فیکون ہوں۔۔
۔۔
ہے کچھ اگر خاص تو لکھا ضرور ہو گا میری تقدیر میں۔۔
ہیں اگر حساب تو لکھا ضرور ہوگا اس تحریر میں۔۔۔
فقط یوں ہی تو نہیں بناتا کوئی بے مقصد سی سانسوں کی زنجیر۔۔۔
کہیں تو کٹے گی ، کہیں تو مٹیں گے یہ الفاظ۔۔۔
اور جانے کیا ہو کل میرے ساتھ۔۔
یا شاید کچھ دیر بعد۔۔۔
یہ سب اندھیرا ہے کہ مجھے کچھ خبر نہیں۔۔۔۔
اور تو ہی تو فرماتا ہے ۔۔۔
اندھیرے سے روشنی کو سفر کرنے والے ، روشنی سے اندھیرے کو سفر کرنے والوں کے برابر نہیں"۔ قرآن
تو جو اندھیرا ہے اس کی تعریف تو آنے والا اگلا پل ہے۔۔
مجھے کیا خبر کہ روشنی کدھر ہے کہ روشنی کو کر سکوں سفر۔۔۔
جو بھی ہوں، قصہ مختصر،
تیرا ہی تو لوح محفوظ ہوں، تیرا ہی تو کن فیکون ہوں۔۔۔

کلام۔ معظم علی

Address

Abu Dhabi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SUFI aur KHUDA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to SUFI aur KHUDA:

Share